Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

جلد بازی !

SAMAA | - Posted: Jun 9, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 9, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نور سلیم

’’ارے بھائی ! سورہاہے کیا، گاڑی آگے کیوں نہیں بڑھارہا، لگتاہے نیند میں ہے، بھائی اگرنیند ہی آرہی ہے توگھر پر جاکر سوجائو نا، سڑک پر کیوں سورہے ہو؟‘‘

ان دنوں ایسی آوازیں ہر طرف سنائی دے رہی ہیں، چاہے آپ حیدری جائیں، طارق روڈ جائیں یاکراچی کے کسی بھی مشہور بازار چلے جائیں ، سب جگہ جاتے وقت سڑکوں پر ایسی ہی آوازیں کانوں سے ٹکرارہی ہیں ۔ دن کے وقت بھی صدر سے گزریں تو ٹریفک جام، رات کے وقت بھی گزریں تو ٹریفک جام ، غرض یہ پاکستانی قوم رمضان کے ان آخری دنوں میں خوب شاپنگ کرکے اپنی عید کی تیاریوں کو مکمل کرنےکے چکر میں ہے۔ ساتھ ہی انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہاہے کہ ’’جیسے جلد بازی بھری ہیں ،ان کی نس نس میں ۔‘‘ کیونکہ انہیں بازار جانے، وہاں پہنچنے ، سامان خریدنے اور واپس آنے، سب ہی کاموں میں جلدی ہوتی ہے، بس پلک جھپکتے ہی وہ بازار پہنچ جائیں ۔ شاپنگ کرکے واپس بھی آجائیں ، جب وہ اسی سوچ کے ساتھ بازار جاتے ہیں ، گاڑیوں کو الٹی سیدھی جگہ سےنکالنے کی کوشش میں مزید ٹریفک جام کردیتے ہیں ، پھر اسی ٹریفک میں گھنٹوں خود بھی پھنسے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنے ساتھ اسی مصیبت میں مبتلا کردیتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب ان کی جلد بازی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔انہیں اپنی غلطی نظرہی نہیں آتی، وہ بس دوسروں کو ہی اس ٹریفک جام کی وجہ سمجھ کران پر چیخنا چلانا شروع کردیتے ہیں ، اس کے بعد کیا ہوتا ہوگا وہ آپ خود ہی سوچ سکتے ہیں ، اکثر و بیشتر اس مبارک مہینے میں جلد بازی کی وجہ سے سڑکیں میدان جنگ بھی بنی ہوئی دیکھی گئی ہیں ، جس میں بیچ بچائو کروانے والے حضرات کو بھی لاتیں گھونسے کھانےپڑہی جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب دو لوگ سڑک پر لڑ رہے ہوںتو اردگرد سے گزرنے والے راہگیر ان کی طرف دیکھتے ضرور ہیں لیکن اکثر ان لڑائیوں کو نظر انداز کرکے اور سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتے ہیں ، یہ سوچ کر کہ آخر ’’ان دو لوگوں کی لڑائی میں ان کا کیا کام ہے، لڑرہےہیں تو لڑنے دو، ہمیں اس سے کیا۔‘‘

سال میں دو عیدیں آتی ہیں ، عید الاضحیٰ پر تو قربانی کی وجہ سے یہی سمجھاجاتاہے کہ یہ مردوں کی عید ہے، کیونکہ مردوں کو ہی گائے بکروں کی خریداری کرنی پڑتی ہے، تاہم عید الاالفطر کو میٹھی عید کہاجاتاہے۔ اس میں خواتین کی جانب سے خریداری پرزیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ کپڑے، جوتیاں ، جیولری، مہندی ،جتنا بھی ان کی طرف سے سامان خریدا جائے کم ہے۔ان ہی خواتین کی وجہ سے بازاروں میں رش کا وہ عالم ہوتا ہے کہ پوچھیںمت، اسی رش کی وجہ سے جیب کتری خواتین کے گروہ بھی حرکت میں آجاتے ہیں اور شاپنگ کی غرض سے آنے والی خواتین شاپنگ کرنےکے دوران ہی اپنی قیمتی اشیاء اور پیسوں سے محروم ہوجاتی ہیں، ان دنوں سوشل میڈیا پر کئی ایسی سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیوز وائرل ہوچکی ہیں ،  جس میں جیب کتری خواتین کو کسی خاتون کے پرس سے اشیاء نکالتے ہوئے بخوبی دیکھاجاسکتاہے ۔ ان تمام نقصانات کے باجود بھی ہماری قوم اپنی جلد بازی کی عادت چھوڑنے کو تیار

نہیں ہے۔

اب آجاتے ہیں ، سپر اسٹورز کی جانب ، ان دنوں سپر اسٹورز پر بھی اتنا رش ہے کہ جیسے سب مال ’’فری‘‘ میں بٹ رہاہو، لوگ دھرادھر ٹرالیاں بھرنے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ وہیں دوسری طرف ادھر ادھر نظریں گھماکر دیکھاجائے توکہ وہاں موجود سب ہی لوگ خریداری نہیںکر رہے ہوتےکچھ لوگ صرف تفریحاً مارکیٹوںاورسپر اسٹورز کارُخ کرتے ہیں ، جن کا اصل مقصد خریداری نہیں بلکہ  وقت گزاری کرنا ہوتاہے۔ ان تمام باتوں کو پڑھنے کے بعد اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ لکھے جانےوالے سب ہی نکات سچ ہیں تو یہ کام ضرور کریں، اپنی جلدبازی کی عادت ختم کریں ،جہاں پارکنگ نہ ہو وہاں گاڑی نہ لگائیں ، صرف تفریحا رش بڑھانےکی غرض سے مارکیٹوں کا رخ نہ کریں ،مبارک مہینے کا احترام کرتے ہوئے ایک دوسرے پر چیخے چائیں نہیں بلکہ صبررکھیںاس ماہ میں صبر کرنے پر بھی بڑا ثواب ملے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube