Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

جمہوری نظام کو چلنے دو

SAMAA | - Posted: Jun 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نازیہ فہیم

نگراں وزیراعظم کی حلف برداری کے بعد یہ قیاس آرائیاں اور چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ نگراں حکومت دو سے تین سال قائم رہے گی۔ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ الیکشن ملتوی کرنے کے لئے پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔ پاکستان میں جمہوریت دس برس کی ہو چکی ہے مگر اب بھی ملک میں جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکی۔ جو لوگ جمہوریت کے خلاف سازش کر رہے ہیں ان سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا جمہوریت سے اچھا کوئی نظام حکومت ہے؟ اگر کوئی بہتر نظام حکومت ہے تو سامنے لایا جائے وگرنہ جمہوریت کے خلاف سازش بند کی جائے اور اس نظام کو چلنے دیا جائے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ جمہوریت کا خطرہ ہے تو ایک سوال سب کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ جمہوریت کو کس سے خطرہ ہے؟ آخر جمہوریت کا دشمن کون ہے؟

کچھ سیاستدان ہمیشہ سے یہ تاثر دیتے آئے ہیں کہ ایک ادارہ ملک میں جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ جمہوریت کے خلاف سازش کا الزام بھی اسی ادارے پر لگایا جاتا ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ پچھلے دس برسوں میں جمہوریت کی مضبوطی میں سیاستدانوں سے زیادہ اسی ادارے کا کردار ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوریت کو ہمیشہ خود سیاستدانوں نے کمزور کیا۔ جب تک ان سیاستدانوں کا معاملہ ٹھیک چلے تب تک جمہوریت زندہ باد اور جب ان سیاستدانوں کے احتساب کی بات کی جاتی ہے تو جمہوریت خطرے میں آ جاتی ہے۔ میاں نواز شریف کی مثال ہمارے سامنے ہے، جب تک وہ وزیراعظم رہے ان کے مطابق ملک ترقی کا سفر طے کر رہا تھا لیکن جونہی وہ نااہل ہوئے اور ان کا احتساب شروع ہوا تو جمہوریت خطرے میں آگئی۔

جمہوریت کی آج تک کوئی واضح تعریف نہیں ہو سکی۔ میرا خیال ہے کہ لوگوں کی رائے سے نظام ترتیب دینے کو جمہوریت کہتے ہیں۔ جمہوریت کی لغوی معنی لوگوں کی حکمرانی کے ہیں۔ بعض لوگ اس کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ لوگوں کی اکثریت کی بات ماننا لیکن درحقیقت یہ اکثریت کی اطاعت  کا نام ہے۔ پاکستان میں بظاہر جمہوریت ہے مگر سیاستدانوں کے رویوں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے ملک میں بادشاہت قائم ہو۔ جمہوریت میں اکثریت کی بات مانی جاتی ہے مگر یہاں اکثریت کی نہیں بلکہ پارٹی کے سربراہ کی بات مانی جاتی ہے اور جو پارٹی سربراہ کے خلاف بات کرے گا اسے پارٹی اور اسمبلی دونوں سے باہر کر دیا جائے گا۔ اسے جمہوریت کہتے ہیں یا بادشاہت یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتی ہوں۔

پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جو سب سے زیادہ جمہوریت پسند کہلاتی ہے مگر پچاس برس کی یہ جماعت آج تک خاندان سے باہر نہیں آئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جس کے بعد بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے قیادت سنبھالی۔ ان دنوں پی پی پی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بینظیر بھٹو کے فرزند بلاول بھٹو زرداری ہیں جبکہ تمام اختیارات بلاول کے والد آصف زرداری کے پاس ہیں۔ یہی نہیں صوبہ سندھ میں وزیراعلی جو بھی لیکن سندھ میں تمام حکومتی امور بلاول کی پھوپھی اور آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور دیکھتی ہیں۔ کیا یہی جمہوریت ہے؟۔ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں مسلم لیگ ن میں بھی خاندانی سیاست کا راج ہے۔ دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وہ واحد لیڈر ہیں جن کے خاندان کا کوئی بھی شخص اسمبلی کا رکن نہیں اور نا ہی پارٹی میں کسی اعلی پوزیشن پر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ عوام حقیقی جمہوری نظام کے قیام کے لئے اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں تاکہ ملک سے خاندانی سیاست کا خاتمہ ہو اور حقیقی جمہوریت پروان چڑھ سکے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube