ہوم   > بلاگز

تحریک انصاف کی بی آر ٹی

SAMAA | - Posted: Jun 3, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 3, 2018 | Last Updated: 2 years ago

الیکشن وقت پر ہوں گے یا نہیں؟ اس وقت ہر کسی کے ذہن پر یہی ایک سوال سوار ہے۔ الزام ہے کہ پہلے بلوچستان سے آواز اٹھی اور اب خیبر پختونخوا سے الیکشن میں تاخیر کیلئے سرگرم عمل ہے۔ تحریک انصاف اس الزام سے واضح طور پر انکار کر چکی ہے تاہم اکنامسٹ کی رپورٹ نے تھوڑا سا تحریک انصاف کو بیک فٹ پر کر دیا ہے ملکی سیاست تو ایک جانب جس صوبے میں تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہے وہاں بھی حالات گول ہی نظر آ رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا قدرتی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے ۔ جنوبی اضلاع، ہزارہ ڈویژن، مالاکنڈ ڈویژن اور وادی پشاور۔مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن اور جنوبی اضلاع کی اہمیت سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں تاہم سب اس بات سے متفق ہیں کہ حکومت بنانے کیلئے وادی پشاور میں کامیابی لازمی ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی کل 99جنرل نشستیں ہیں جن میں 50پر کامیابی کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کیلئے درکار ہیں تاہم اکثر و بیشتر حکومتیں مخلوط ہی بنائی گئی ہیں۔ ان 99نشستوں میں ایک تہائی سے بھی زائد یعنی 36نشستیں وادی پشاور کے 5اضلاع کی ہیں۔ان اضلاع میں پشاور،نوشہرہ، مردان ، چارسدہ اور صوابی شامل ہے۔ اگر ماضی میں ان نشستوں پر نظر دوڑائی جائے تو2002میں متحدہ مجلس عمل نے ان 36میں سے 18،2008میں عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی شیرپاﺅ نے 34 اور 2013میں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی جموری اتحاد نے ان 36میں سے 25نشستیں حاصل کر کے صوبے کی بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے 5سالہ حکمرانی کا تاج پہنا۔
سال2017میں ہونے والی مردم شماری کے بعد وادی پشاور کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔نئی حلقہ بندیوں کے بعد اب ان نشستوں کی تعداد  38ہوگئی ہے۔چند ماہ قبل دوبارہ سے قائم کی جانے والے متحدہ مجلس عمل کے حوالے سے سیاسی پنڈت یہ اندازے لگا رہے ہیں کہ یہ سیاسی اتحاد پاکستان تحریک انصاف کو 2018کے عام انتخابات میں چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم یہ کہنا شاید قبل از وقت ہو کہ ایم ایم اے اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے تاحال پاکستان تحریک انصاف کا طوطی بول رہا ہے اور عام انتخابات کیلئے اس طوطی کی بولتی خود تحریک انصاف کی بند کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔
سال2017-18کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ہر کوئی اس بات پر قائل تھا پاکستان تحریک انصاف صوبے میں دوبارہ حکومت بنانے کیلئے مضبوط امیدوار ہے اور پھر پی ٹی آئی نے وہ کر دیا جو اس کے کرنے کا نہیں تھا یعنی مسلم لیگ ن کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلم لیگ ن کے میدان میں چھلانگ لگا دی۔ ”سڑکوں اور بسوں سے قومین نہیں بنتی “ چیئرمین تحریک انصاف نے یہ ویژن دے کر ووٹ لیا اور اسی ویژن کی نفی کرتے ہوئے سڑکیں اور بس سروس شروع کرنے کا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بڑے بزرگ کہتے ہیں ”کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا“۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2013کے عام انتخابات سے محض چند ماہ قبل لاہور کی میٹرو بس کو مکمل کر کے صوبے اور وفاق میں حکومت بنانے کا ٹکٹ کنفرم کر لیا اور کچھ ایسی ہی سوچ پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کے ذہن میں بھی ڈال دی گئی لیکن مسلم لیگ ن کے پاس بسوں اور سڑکیں بنانے کا تجربہ تھا وہ شاید پی ٹی آئی کے پاس ابھی نہیں ہے۔
پشاور میں خیبر پختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ شروع کیا گیا اور یہ اعلان کیا گیا کہ اسے 6ماہ میں مکمل کیا جائے گا سیاسی قائدین ہر دوسرے جلسے میں اُس بس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے جس کی برائیاں وہ گزشتہ 5سال سے کرتے آ رہے تھے لاہور میں میٹرو کو پیسوں کا ضیاع، راولپنڈی اور ملتان میں سے مہنگا ترین قرار دینے والے پشاور کے 69ارب روپے کی میٹرو کی قیمت کیلئے دلائل ڈھونڈنے لگے۔ پشاور کی میٹرو کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے ایک اور ایسا منصوبہ شروع کر دیا جو پی ٹی آئی کے منشور میں کبھی تھا ہی نہیں اور وہ تھا سوات ایکسپریس وے جس کی تکمیل تو دور کی بات تاہم وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے 80کلومیٹر سے بھی لمبی سڑک میں سے محض 14کلومیٹر سڑک کا فیتا کاٹ کر تختی پر اپنا نام ضرور لکھوا لیا ہے ۔

پشاور کی عوام اکتوبرسے مارچ تک تو صبر کا دامن ہاتھ سے تھامے خاموش رہیں لیکن پشاور میں ایئرکنڈیشن اور جدید بسیں چلنے والے تھری ڈی گرافکس کی امیج دھندلانے لگی میٹرو بس کے ساتھ سائیکل ٹریک ڈھونڈنے والی پشاور کی عوام کو بس منصوبے میں شامل بڑے بڑے پلازے بھی دکھائی نہ دینے لگے اور تو اور ان شہریوں کو تو ہر دوسری سڑک پر بڑا سا گڑھا دکھائی دینے لگا ۔کچھ شاہراہیں تو پشاوریوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے نقص امن نے بند کر رکھی تھیں باقی کو جب میٹرو کیلئے بند پایا گیا تو پشاور یوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا گیا پشاور ہی کیا یہاں نوکری اور کاروبار کی غرض سے آنے والے چارسدہ، نوشہرہ، مردان اور صوابی کے مکینوں کیلئے بھی پشاور کی یہی تصویر قابل قبول نہیں رہی۔ پیر سے جمعہ تک روز پشاور آنے اور واپس جانے والے یہ شہری جس ہزیمت سے گزرتے ہفتہ اور اتوار کو گلی محلوں میں اسی پر بحث ہوتی ۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ صاحب شہریوں کو بی آر ٹی سے تکلیف ہے تو جواب ملا کہ کوئی تکلیف نہیں ہے بھائی یہ صرف میڈیا کے چونچلے ہیں میڈیا کو صرف اور صرف منفی باتیں ہی نظر آتی ہےں۔
پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے درمیان تعلقات ساس بہو والے رہے ہیں یعنی انہیں ایک ہی گھر میں رہنا بھی تھا اور ایک دوسرے سے محبت بھی لازوال تھی لیکن اب پی ٹی آئی ایوان میں نہیں ہے بیوروکریسی وہیں ہے جہاں وہ ماضی میں تھی اور یہ دو بڑے منصوبے جس کیلئے پی ٹی آئی نے اپنی ساکھ داﺅ پر لگا دی اب بیوروکریسی کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ رمضان ، جون اور جولائی ان تینوں کا سنگم پی ٹی آئی کیلئے خوشخبری کی نوید نہیں سنا رہا ان پانچ اضلاع کے شہری جو روز پشاور کا رخ کرتے ہیں جب گھنٹوں ٹریفک جام، گرد آلود ہوا اور خراب سڑکوں کا شکار ہوں گے تو ان کا ردعمل بیلٹ پر بھی ثبت ہو گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube