Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

شش۔۔۔ چپ رہو

SAMAA | - Posted: Jun 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نور سلیم

گزشتہ دنوں یہ خبر سامنے آئی کہ عوامی تحریک کے رہنمااور منہاج القرآن یونیورسٹی ہاسٹل کے منتظم خرم نواز گنڈا پور کی ایک ویڈیو لیک ہوگئی، جس کے نتیجے میں جامعہ کی انتظامیہ نے 320طالبات کو ہاسٹل سے نکال دیا۔انتظامیہ نےان طالبات کو31مئی تک کا وقت دیاتھا کہ وہ اس تاریخ تک اپنا سارا سامان سمیٹ لیں اور گھر کی راہ لیں۔

جب ان طالبات کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تو ان طالبات کے والدین کی جانب سے بھی مختلف بیانات سامنے آنے لگے، کئی طالبات کے والدین نے ہاسٹل میں پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ جن طالبات کا قصور ہے، صرف انہیں ہی نکالا جائے، باقی بے قصور طالبات کو کیوں نکالا جارہاہے۔ ان والدین کا یہی موقف تھا کہ وہ کسی اور نجی ہاسٹل کا خرچہ کیسے برداشت کریں گے، شہر کے دیگر نجی ہاسٹلز مہنگے ہیں ، جن کے اخراجات وہ نہیں اٹھا سکتے۔

جب انتظامیہ کی جانب سے یہ سخت فیصلہ سامنے آیا توکئی طالبات نے اس پر غم کا بھی اظہار کیا، ان کا کہناتھا کہ جن طالبات کی غلطی ہے ، انہیں نکالا جائے ، باقی طالبات کو بغیر غلطی کے سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ ان کا یہ بھی کہناتھا کہ انتظامیہ کو چاہئے وہ انصاف پر مبنی فیصلہ کرے اور طالبات کی مشکلات کو حل کرے۔

اب ذرا بات کرلیتے ہیں کہ آخر وہ ویڈیو کیاتھی جو لیک ہوئی اور اس کے لیک ہونے پر ہاسٹل انتظامیہ کی جانب سے اتنا سخت ایکشن کیوں لیاگیا؟ اس ویڈیو میں دراصل ہاسٹل کے منتظم خرم نواز گنڈاپور منہاج القرآن یونیورسٹی کی طالبا ت کو ڈانٹ رہے تھے،ویڈیو میں بخوبی دیکھا جاسکتا تھا کہ وہ طالبات پر باقاعدہ برس رہے ہیں اور ان کا لہجہ سخت ہونے کےساتھ بدتمیزی لئے ہوئے بھی تھا۔ انہوں نے ایک موقع پر طالبات سے یہ بھی کہا کہ ’’طالبات نے ابھی ان کا دوسرا رُخ نہیں دیکھا ہے، ان کے ماں باپ انہیں تمیز نہیں سکھائی ہے؟ جس طالبہ کی آواز نکلی ، وہ باہر جائے گی، جو طالبات ہیرو یا دلیر بنتی ہیں ، وہ ذرا منہ کھول کرتو دکھائیں۔

اس طرح کے جملے ہاسٹل منتظم خرم نواز گنڈٓا پور کی جانب سے ادا کئے گئے۔ اگر منتظم کی طالبات کو ڈانٹنے کی ویڈیو لیک بھی ہوگئی تھی توایسا کیا طوفان آگیاتھا کہ اتنی بڑی تعداد میں طالبات کو ہاسٹل سے ہی نکال دیاجائے۔ ہونا تو یہی چاہئے کہ کسی بھی معاملے کے دو رُخ دیکھے جائیں ، صرف طالبات کو فارغ نہیں کرنا چاہئے، بلکہ ہاسٹل منتظم سے بھی ضرور پوچھ گچھ کی جائے کہ آخر ایسی کیا افتاد آپڑی تھی جو کہ وہ طالبات پر اتنا غصہ نکال رہے تھے اور بے چاری طالبات کچھ کہےبغیر ہی ان کی ساری باتیں سنتی جارہی تھیں۔ اگروہ ایسا کہہ رہے ہیں کہ طالبات نے دلیر بنتے ہوئے کچھ کہا تو انہیں ہاسٹل سے باہر نکال دیاجائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر وہ طالبات سے اتنا ڈر کس لئے رہے ہیں ؟ اگر انہیں لگتا ہے کہ طالبات کو ان سے کچھ مسئلے ہیں تو ان کی بات سنی جائے ناکہ ان کو ڈرا دھمکا کر منہ کروادیا جائے۔

دنیا میں ہر طرف اب خواتین کو آگے لانے کا چرچا ہے، اب تو وہ وقت آگیا ہے کہ امریکا میں سی آئی اے کی سربراہ بھی اب خاتون کو بنادیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں پڑھی لکھی طالبات کو چپ رہنے کی دھمکیاں دینا یقیناً ایک قابل گرفت عمل ہے ، لیکن بجائے خرم نواز گنڈاپور سے کچھ کہا جاتا ، جامعہ کی انتظامیہ نے طالبات کو ہی پریشانی میں ڈال دیا،  اب کئی طالبات کو ہاسٹل سے نکالنے کے بعد اپنی پڑھائی کا عمل جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،  ساتھ ہی اس عمل کی وجہ سے دوسری طالبات کو پہلے ہی یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ ’’شش۔۔۔۔ چپ رہو، اپنے حق کے لئے کبھی  نہ بولو!‘‘ اگر کوئی بولے گاتو ان ہی 320طالبات کی طرح ہی ہاسٹل سے باہر جائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube