Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

پاکستان، امریکا سے بہتر ہے

SAMAA | - Posted: May 22, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: May 22, 2018 | Last Updated: 4 years ago

مضمون کی سرخی پڑھنےکے بعد شاید سب کے ذہن میں یہ آئے کہ مصنف کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، جبھی اس نے یہ لکھ ڈالا ہے کہ پاکستان امریکا سے بہترہے۔ بلاشبہ امریکا ترقی یافتہ ملک ہےاور پاکستان ترقی پذیر ملک ہے۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

پاکستان میں کبھی کبھار درسگاہوں کو دہشت گرد ی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،جبکہ امریکا میں ان دنوں تعلیمی اداروں پر حملے کے واقعات زیادہ رونما ہورہے ہیں۔ اب حال ہی میں ٹیکساس کے شہر سانتافی کے ہائی اسکول میں ایک جنونی طالب علم ڈیمیٹریوس نے فائرنگ کرکے 17افراد کو ہلاک کردیا ۔ اس جنونی طالب علم کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس نے فائرنگ کرنےسے قبل کہا ’’سرپرائز!‘‘ اور پھر اس نے طلبہ پر فائرنگ کرنی شروع کردی، ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ اسے مارا نہ جائے بلکہ اسے زندہ پکڑ لیا جائے ۔بعد ازاںپولیس نے اسے زندہ ہی پکڑا۔ اس طالب علم نے2مختلف گنز کا استعمال کیاتھا اور یہ گنز اس کے والد کی تھیں ۔ عموماً اسکولز پر کئے جانے والے حملوں میں رائفلز وغیرہ استعمال کی جاتی رہی ہیں یہ پہلا موقع تھا کہ شارٹ گن کو فائرنگ کے لئےاستعمال کیاگیا۔

سانتا فی ہائی اسکول کے اس واقعے میں ہلاک ہونےوالے طلبہ میں ایک پاکستان طالبہ سبیکا شیخ بھی شامل تھیں ، جو کہ کینیڈی لوگریوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی کے تحت وہاں پڑھنے کے لئے گئی ہوئی تھیں۔ یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اس ’’یس پروگرام‘‘ میں طلبہ کو معاونت کرتی ہے۔ سال2017-18 کے اس پروگرام کے لئے6ہزار درخواستیں دی گئی تھیں ، اس میں سے 75طلبہ کو شارٹ لسٹ کیاگیاتھا، جن میں سے ایک پاکستانی طالبہ سبیکا بھی تھیں ، جوکہ اب سانتا فی کے اس ہائی اسکول کے واقعے کے بعد اپنے والدین کو زندگی بھر کا دکھ دے گئی ہیں۔

ایسے پاکستانی طلبہ جوبیرون ملک جاکر اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے خواہشمند ہیں ، وہ اس طرح کے پروگرامز میں اسکالر شپس حاصل کرکے بیرون ملک کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لے لیتےہیں، ان کے والدین اپنے گوشہ جگر کو خود سے صرف اس لئے دور کردیتے ہیں کہ وہ بیرون ملک جاکرپڑھائی کریں گے، لیکن جب انہیں ایسی خبر ملے کہ ان کے چہیتے کو اسی اسکول ،کا لج یا جامعہ کےکسی جنونی طالب علم نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیاہے توان پر کیا گزرتی ہوگی ،یقینا ان کیفیات کو لفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔

امریکا میں سال2018ء کے ان 20ہفتوں کے دوران 22سے زائداسکولز پر فائرنگ کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ جس سے وہاں کی درسگاہوں پر حملوں کی سنگینی کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ دوسر ی طرف دیکھا جائے تو جہاں پاکستان کے اسکولز میںاب تک اس سال بفضل خدا کوئی ایسا بڑا دہشت گردی کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ پاکستان اس حوالےسے بھی بہتر ہے کہ یہاں جتنے اسکولز پر حملے کے واقعات ہوتے ہیں ، ان میں اسکول طلبہ خود برارہ راست ملوث نہیں ہوتے، اب تک جتنے بھی بڑے دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں ، ان میں زیاد ہ تر دہشت گرد تنظیموں کا ہی ہاتھ رہاہے، جبکہ امریکا میں ان واقعات میں زیادہ تروہاں کے اسکول کے طلبہ براہ راست ملوث ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ ان معاملات میں پاکستان ، امریکا سے بہتر پوزیشن پر کھڑا نظر آتاہے۔

تعلیمی ادارے چاہے امریکا کے ہوں یا پاکستان کے،ان پر اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ اداروں میں چیکنگ سخت کی جائے ، طلبہ کی حرکتوں پر نظررکھی جائے ، ان کی وقتا فوقتا کائونسلنگ کی جائے ، تاکہ اگر انہیں کوئی نفسیاتی مسئلہ درپیش ہو تواس کا فورا علاج کرلیا جائے اس سے قبل کہ ان طلبہ کی وجہ سے ادارے کے دیگرطلبہ اور لوگوں کو نقصان پہنچے۔اس کے علاوہ سب سے اہم مسئلہ ان طلبہ کی مختلف طرح کی گنز تک رسائی ہے، طلبہ گھروں میں موجود اسلحہ کو بخوبی چلانا اور استعال کرنا جانتے ہیں ، اگر گھروں میں اس طرح کا اسلحہ موجود ہے تو والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی پہنچ سے اسے دور رکھیں ، کھیل کھیل میں ان کے ہاتھ میں اسلحہ دے کر انہیں اس اسلحہ کو چلانے کی تربیت فراہم کرنےسے ہی ایسے جنونی طلبہ میں ہمت آتی ہے اور وہ پھر اس طرح کے واقعات میں اپنے گھر میں موجود اسلحہ کا استعمال کرتے ہیں ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube