ایک نیا پنڈوراباکس

Muhammad Tahir Nusrat
May 17, 2018

نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ آنے کےبعد مسلم لیگ مسلسل زوال کا شکار ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پارٹی پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ کسی مائی کے لعل میں اتنی جرات کہاں کہ اس ناقابل تسخیر قلعے میں شگاف ڈال سکے؟ مگر اندرون خانہ کیا چل رہا ہے؟ یہ اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہ رہی۔ مختلف معاملات پرمیاں صاحبان ایک پیج پر دکھائی نہیں دے رہے ۔ بیانات نوازشریف داغ رہےہیں اور صفائی شہباز شریف کو دینا پڑ رہی ہے اوپر سے صاحبزادی کے بھی کیا ہی کہنے۔ ایک کو خلائی مخلوق کا شکوہ دوسرا اس کے وجود سے انکاری۔۔ ایک ہوش کے اونٹ پر سوار دھیمے انداز میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسرا جوش کے بدمست ہاتھ پر سوار۔

پانامہ لیکس اسکینڈل ایک قہرالہیٰ تھا جس کی زد میں صرف میاں صاحب ہی نہیں بڑے بڑے لوگ آئے مگر نااہلی کے غم نے میاں صاحب کو کچھ زیادہ ہی ’’شیر‘‘بنا دیا ہے۔ دہکتے سینے میں بھاری غم لیکر جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور تک کا سفرکیا ،عوام کودکھڑے سنائے، پاور شوز کئے ، لوگوں میں جوش بھرنے کی کوشش کی ، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی لگایا مگر بظاہر لگتا ہے کہ میاں صاحب کی ان کاوشوں کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔

ایک وقت میں نواز شریف پر قسمت کی دیوی زیادہ مہربان رہی مگر حالات اب بدل چکے ہیں۔ ستاروں نے اپنی چال بدلی ہے۔ ہواؤں میں زہریلی نمی آگئی ہے۔ بارہا عرض کرچکا ہوں کہ غلطیاں کرنے میں شاید ہی ن لیگ کا کوئی ثانی ہو۔ لیکن چٹان پر سردے مارنے والوں کا کیا کریں کہ انہیں تو اپنا سر ہی پھوڑنا ہے۔ ڈان لیکس کا معاملہ ہو ، توہین رسالت کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، خلائی مخلوق کا شوشہ اور اب ممبئی حملوں سے متعلق ہرزہ سرائی۔ اپنے پیروں پر کلہاڑا مارنے میں یہ بڑے ماہر ہیں۔

بھارت کے جن بے سروپا الزامات کو دنیا من گھڑت سمجھ رہی ہے، نواز شریف ان الزامات کوسچاثابت کرنے پر اڑے ہیں۔ جرمن مصنف ایلس ڈیوڈسن نے اپنی کتاب '' بیٹریئل آف انڈیا، ری وزیٹنگ 26/11 ''میں بھارت کے بھیانک چہرے سے نقاب ہٹا دیا ہے۔۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت، امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ تھا اور ان کے اس شیطانی گٹھ جوڑ کا مقصد اپنے مفادات کا حصول اور پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کرنا تھا۔ ورنہ ان حملوں کے واحد چشم دید گواہ اور مرکزی ملزم اجمل قصاب کو اتنی جلد بازی میں پھانسی کیوں دی جاتی؟ ممبئی پولیس کے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو کیوں ٹھکانے لگادیا جاتا؟۔

ن لیگ کے تاحیات نااہل قائد کے متنازع انٹرویو کا شورجلدی تھمنے والا نہیں۔ قومی سلامتی کے معاملات سے چھیڑخانی اور دشمن ملک کے کام کو آسان بنانا انہیں بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔ اگرچہ ان کا بیان قومی سلامتی کمیٹی نے مسترد کردیا ہے لیکن نحس کی نامساعد ساعتیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔۔ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے؟۔

ہم دنیا کو یہ باور کرارہےہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے کسی بھی ملک سے زیادہ قربانیاں دِیں۔ مگر میاں صاحب ایسے بیانات داغ رہے ہیں جیسے پاکستان دہشت گردی کو اسپانسر کررہا ہو۔ تو مہاراج ذرا دھیرے ۔۔ یہاں سانس بھی لیں تو آہستہ سے ، معاملات بہت نازک ہیں ۔ شیشہ گھروں میں رہتے ہوئے کسی پر پتھر پھینکنا خون آشام بلاؤں کو دعوت دینا ہے۔ مگر للکار بریگیڈ کو شاید وقت کی نزاکت کا اندازہ نہیں اس لئے یہ کبھی عدلیہ پر گولہ باری کرتے ہیں تو کبھی نیب اور دوسرے اداروں پر، اور جب جان پر بن آتی ہے تو پھرایک قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ نواز شریف کے اس اقدام پر ن لیگ کا موقف ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ شعبدہ بازی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ آخر کب تک لوگوں کو بیوقوف بناتے رہیں گے؟ کیا گھر میں چراغاں کرنے کیلئے اسے جلانا ضروری ہے؟

لگتا ہے نواز شریف نے دیوار پر لکھا پڑھ لیاہے تبھی تو خودکش بمبار کا روپ دھار چکے ہیں اور اپنے کرتوتوں کے ذریعے چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ میں نہیں تو کوئی اور کیوں؟ ’’نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘۔ میمو گیٹ میں حسین حقانی کے خلاف عدالتی محاذ سنبھالنے والے کو مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑا تو قومی سلامتی کو ہی داؤ پر لگا دیا۔ نواز شریف کے بیانیے کو لوگوں نے چِت کردیا تو وہ قومی بیانئے کو ہی ردی کی ٹوکری میں پھینکنے پر اترآئے۔

میاں صاحب آپ کوماننا پڑے گا کہ سیاست میں آپ کا دی اینڈ ہوچکا۔ نہ کوئی این آراو ہونے والا ہے نہ کوئی ریلیف ملنے والا ہے۔ آسمان پر تھوکنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ نیب ریفرنسز پر فیصلہ آنے میں ابھی مزید کچھ دن لگیں گے۔ اپنی مصروف زندگی سے کچھ لمحے نکال لیجئے، شام ڈھلنے سے پہلے جاتی امراء کے عالیشان محل کی بالکونی میں کشمیری چائے کی چسکیاں لیں، شفق کی لالی سے خیالات کو رونق افروز کریں اور جب سورج سیاہ سائے کا لبادہ اوڑھ لے تو وقت کے اس حسین ستم پر ذراغورکریں۔