ایسا کرتے ہی کیوں ہو؟

Wirsha shahid uddin
May 15, 2018

سابق وزیراعظم اورمسلم لیگ (ن) کے تاحیات صدرمیاں محمد نوازشریف کا ممبئی حملہ کیس سے متعلق بیان خبروں کی زینت تو بن گیا، جہاں مذمت کرنے والے مذمت کر رہے ہیں جب کہ کچھ سیاستدان و رہنما اس پر زوردیے جارہے ہیں کہ بیان کو سیاق سباق سے ہٹ کر لیا گیا اور وہ شاید اس لیے ایسا کہہ رہے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ عوام تو روٹی کھاتی ہی نہیں وہ تو گھاس چرتی ہے۔

میاں صاحب کے لیے اگرکہا جائےکہ وہ خود کو دن بدن مشکل میں ڈال رہے ہیں توغلط نہ ہوگا، کبھی کبھی وہ احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے کرتےاورمختلف خطابات میں ایسی ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ عوام واقعی ان سے ہمدردی رکھنا شروع کردیتی ہے لیکن پھرہمیشہ ہی وہ کچھ ایسا کرجاتے اوربول جاتے ہیں کہ خود کو ایک بند پنجرے میں قید کرلیتے ہیں۔

اب پھروہ چاہے خود بات گھمائیں یا دوسرے گھمانے کی کوشش میں لگے رہیں ، ہوتا کچھ نہیں ہے، کیونکہ اب سب کو سب کچھ سمجھ آنے لگا ہے، سارے رازسب پرفاش ہوچکے ہیں۔ میاں صاحب اس وقت کھسیانی بلی کھمبا نوچے والی مثال پرپورااتررہے ہیں کہ جومنہ میں آتا ہے وہ بولے ہی چلے جاتے ہیں کہ سننے والے اور پڑھنے والے سوچنے پر مجبورہوجاتے ہیں کہ ہُوا توہوا کیا، ایسا بھی ہوتا ہے، کیا ساری ہی کشتیاں جلانے کا ارادہ ہے۔

نوازشریف کے ممبئی حملہ کیس سے متعلق بیان کے بعد وہ چاروں طرف سے ہی گھرتے جارہے ہیں اورمزے کی بات یہ ہے کہ اب بھی بازنہیں آرہے اورکہہ رہے ہیں کہ حق بات کروں گا چاہے مجھے کچھ بھی سہنا پڑے، ارے اور کیا سہنا چاہتے ہیں اورکیا بتلانا چاہتے ہیں،کبھی کبھی اپنی بات سے پیچھے ہٹ جانا بھی سود مند ثابت ہوجاتا ہے پرشاید انہیں یہ بات سمجھ نہیں آرہی اورشاید کوئی سمجھا بھی نہیں پارہا۔

میاں صاحب کے خلاف ان کے بیان سے متعلق اب تک پنجاب اسمبلی میں بغاوت سے متعلق قرارداد کا جمع ہونا، جس میں کہا گیا کہ نوازشریف کلبھوشن اورکشمیرمیں مظالم پرخاموش ہیں اورریاست کے خلاف زہراگل رہے ہیں اورانہوں نے اقتدارکی ہوس میں ریاست کے خلاف بغاوت کی اورملکی سالمیت پرحملے شروع کردیے اور پھرلاہورہائیکورٹ میں بھی غداری کے مقدمے کی درخواست کا دائرہونا، عوام اور سیاستدانوں کے تاثرات کی کھلی عکاسی کرتا ہے۔

پرسوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں! بیان صحیح ہویا غلط، اس بات سے قطع نظر، کیانوازشریف موقع محل دیکھ کربات کرنا بھول چکے ہیں یا بس اب ان پریہی چیز طاری ہے کہ مجھے کیوں نکالا اوراس غصے میں وہ جوچاہیں گے کریں گے، جوچاہیں گے بولیں گے۔پاناما کا شور، سپریم کورٹ سے لے کرنیب ریفرنسز، یہ کیس وہ کیس، ایسے میں بڑا سنبھل سنبھل کرچلنے کی ضرورت ہوتی ہے پر یہاں تو کیا ہی کہنے! ایسی دلیری کہ بس۔۔۔۔

عوام کا ووٹ حاصل کرنا اب اتنا بھی آسان نہیں، اور ایسا بھی نہیں کہ عوام اب کچھ جانتی نہیں، اب تو بچہ بچہ سب جانتا ہے کہ کیا ہوتا آیا ہے، کیا آج بھی ہورہا ہے اور کیا کیا مقاصد تھے۔ خیر دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کون اپنا بیان واپس لیتا ہے اور کون اپنے اپنے بیان پر قائد و دائم رہتا ہے اور کون کون اب محتاط ہوکرچلتا ہے۔