Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

ہم ہیں بڑے دل والے لوگ

SAMAA | - Posted: May 14, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: May 14, 2018 | Last Updated: 4 years ago

زیادہ تر یہی سننے کو ملتا ہے کہ پاکستانی قوم ایسی ہے ، ویسی ہے، ترقی میں پیچھے رہ گئی ہے، قوم ہی ایسی ہے جبھی تو حکمراں ایسے ہی مل رہے ہیں ، غرض یہ کہ اس طرح کے جملے ہمیں معمولات زندگی کے دوران اکثر و بیشتر سننے کو ملتے ہی رہتے ہیں ۔ لیکن آج دل چاہتا ہے کہ میں ان تمام لوگوں کو کہہ ڈالوں کہ آپ سب غلط سوچتے ہیں ، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ’’ہم ہیں بڑے دل والے لوگ‘‘۔

جو جملہ میں نےاوپر لکھا ہے وہ سوچ سمجھ کر ہی لکھا ہے، یہ بات کوئی نا سوچے کہ یہ اصل میں جذبات کی رو میں بہہ کر لکھی ہوئی تحریر ہے۔کچھ دن پہلے کراچی میں شدید گرمی تھی، ہیٹ اسٹروک کا خدشہ تھا، ایسے میں کئی علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹھنڈے پانی کے کولرز رکھ دیے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اکثرکراچی کے مشہور سگنلز پر ایسے لوگ بھی کھڑے نظر آئے جو مسافروں کو پانی اور ٹھنڈا شربت پلانے میں مصروف رہے۔

پولیس والوں کو عموماًرشوت لینے دینے کے حوالے سے ہی جانا جاتا ہے ، لیکن جب رواں ماہ کے آغاز میں کراچی کا درجہ حرارت44ڈگری تک جاپہنچا تھاتو اس وقت کئی علاقوں میں موجود پولیس والے لوگوں کو ٹھنڈے پانی کی بوتلیں فراہم کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے علاوہ پولیس وین میں انہوں پانی کے کولرز اور بڑی بوتلیں رلھی ہوئی تھیں ، تاکہ وہ مسافراور راہگیرجو گرمی کی شدت سے نڈھال ہورہے ہوں انہیں بروقت پانی فراہم کیا جاسکے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کراچی میں موجود رینجرز نے بھی صدر سمیت کراچی کے مختلف مقامات پر ہیٹ اسٹروک ریلیف کیمپ قائم کررکھےتھے۔جن سے شہری فائدہ اٹھاتے نظر آئے۔

چلیں یہ تو ہیٹ اسٹروک کے دنوں کی بات ہوگئی لیکن عام دنوں میں بھی پاکستانی قوم اپنے ہم وطنوں کی مدد کرنے میں پیچھے نہیں ہٹتی۔ اس وقت بھی نمائش ، نیپا چورنگی ودیگر جگہوں پردوپہراور رات کے وقت دسترخوان لگائے جاتے ہیں ، جہاں کسی بھی مذہب ، عقیدے اور کلاس سے تعلق رکھنے والا شخص جاکر بیٹھ سکتا ہے اور کھانا کھاسکتاہے۔ ان دسترخوانوں پر بلاتفریق رنگ نسل ، کھانا فراہم کیاجاتاہے۔

یہیں پر بس نہیں ہے، ملک میں بسنے والے پاکستانی ہوں یا بیرون ممالک میں رہائش پزیر پاکستانی، دونوں ہی ہر وقت پاکستان کی خدمت کرنےکو بے تاب نظر آتے ہیں ۔ یاد نہیں کہ8اکتوبر2005ء کو آنے والے زلزلے نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا، سیکڑوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے، اس وقت اسی قوم کے لوگوں نے متحد ہوکران لوگوں کی مدد کی تھی، ہر شخص نے اپنی حیثیت کے مطابق عطیات جمع کروائے تھے، ان علاقوں کے اردگرد رہنے والے لوگوں نے حکومت کاساتھ دے کر ان بے گھر لوگوں کو پناہ فراہم کی تھی، ان کے کھانے پینے کا ہرآن خیال رکھا، ملک کا ہر فرد اس وقت سماجی کارکن کے روپ میں نظر آرہاتھا، کئی ایسے بچے تھے جو اس سانحے میں یتیم ہوگئے تھے، جنہیں بے اولاد جوڑوں نے گود لے لیا تھا تاکہ انہیں زندگی بھر ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہو، غرض یہ کہ اس قوم کے لوگوں نے اپنے ہم وطنوں کو کسی بھی سانحے یا واقعے کے بعد بے سہارا کبھی نہیں چھوڑا۔

ان باتوں کو پڑھنے کے بعد اگر آب بھی یہی سوچ کر اپنے اردگرد دیکھیں گے تو کوئی ایسا شخص ضرور نظر آئے گا جو کہ کچھ نا کچھ ایسا کام کرتا ہوا دکھائی دے گا ، جس سے آپ خود کہیں گے کہ ہم ہیں بڑے دل والے لوگ۔ ہوسکتاہے کہ کوئی شخص آپ کو آج ہی کسی بوڑھے شخص کو سڑک پار کرواتا ہوا دکھائی دے، کوئی کسی کو لفٹ دے کر اس کی منزل تک پہنچاتا ہوا دکھائی دے، کوئی کسی بوڑھے کا وزن اٹھاکر اس کی منزل تک پہنچاتا ہوا دکھائے دے، اردگرد بہت سے لوگ بہت سی نیکیاں روز کررہے ہیں ، تو ہم پھر آخر کیوں نہ کہیں کہ’’ہم ہیں بڑے دل والے لوگ‘‘۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube