ہوم   > بلاگز

خصوصی افراد توجہ کے منتظر

SAMAA | - Posted: May 14, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: May 14, 2018 | Last Updated: 2 years ago

****تحریر : محمد فہیم****

خیبر پختونخوا اور فاٹا میں کئی دھائیوں سے جاری دہشتگردی، انتہا پسندی، فرقہ وارانہ فسادات، دشمنیاں،پولیو ، ٹریفک ایکسیڈینٹ اور پہاڑی علاقوں میں ہونے والے حادثات کے باعث اس وقت صوبے کی کی 13فیصد سے زائد آبادی جسمانی معذوری کا شکار ہے۔ گزشتہ برس ہونے والی مردم شماری میں خیبر پختونخوا کی آبادی 3کروڑ سے تجاوز کر گئی جس سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ صوبے میں جسمانی معذور افراد کی تعداد 40لاکھ سے زائد ہے۔

ان جسمانی معذور افراد کیلئے 5سالوں کے دوران صوبائی حکومت نے کیا کیا؟ اس کا جواب تو صوبائی حکومت کی بہتر دے سکتی ہے تاہم حکومت ختم ہونے سے محض 20روز قبل یعنی 9مئی کو تاریخ میں پہلی مرتبہ جسمانی معذور افراد کیلئے گیمز کا انعقاد پشاور میں کیا گیا ان مقابلوں میں کیرم بورڈ، لڈو، ٹیبل ٹینس، وہیل چیئر ریس، قرات ، نعت، پشتو اور اردو گلوکاری، بیوٹیشن ، ماڈلنگ، فوٹو گرافی، پتنگ بازی، آرچری، باﺅچے، اردو اور انگریزی مضمون ،اردو اور انگریزی تقریری مقابلوں سمیت اشاروں کی زبان میں قومی ترانہ پیش کرانے کا مقابلہ کرایا گیا ۔

ایبٹ آباد مانسہرہ، سوات، دیر ،بنوں، چارسدہ ،مردان ،نوشہرہ، پشاور اور دیگر علاقوں سے اب تک 3سو سے زائد کھلاڑیوں نے گیمز میں شرکت کی جن میں 60سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔گیمز میں شکوے شکایات کافی ہیں تاہم یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ صرف جسمانی معذور افراد کیلئے اتنے بڑے ایوانٹ کاا انعقاد کرایا گیاتاہم کیا ہے ایونٹ ان جسمانی معذور افراد کیلئے کافی ہے؟ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے تین سال قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ صوبے کی تمام عمارتیں وہیل چیئر استعمال کرنے والوں کیلئے سازگار بنائی جائیں گی ہر عمارت میں واش روم کی سہولت ہو گی تمام جامعات میں جسمانی معذور افراد کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی لیکن یہ اعلان تھا اسی لئے اعلان ہی رہ گیا اور اس اعلان پر عمل کرنے کیلئے نہ تو کسی حکومتی عیدیدار نے زحمت کی اور نہ ہی کسی سرکاری افسر نے مجبورا جسمانی معذور افراد کو آج بھی ان عمارتوں ، تعلیمی اور طبی اداروں میں بے بسی کی تصویر بنایا جاتا ہے۔

قیوم اسٹیڈیم میں منعقدہ گیمز میں بھی یہ مسئلہ سامنے آیا جب مختلف مقامات پر یہ کھلاڑی ہالز میں داخل نہیں ہو سکتے تھے چند روز قبل دورہ پشاور کے موقع پر عمران خان نے صوبے کے پہلے جوان مرکز کا پشاور میں افتتاح کیا اور اسی جوان مرکز میں جسمانی معذور افراد کیلئے ریمپ موجود نہیں ہیں صوبائی حکومت نے وقتی طور پر مصنوعی ریمپ کی تنصیب کر کے کام چلا لیا تاہم سٹیڈیم کے ہاسٹلز میں واش رومز کا بھی مسئلہ کچھ کم نہ تھا لہٰذا وقتی طور پر ان واش روز میں بھی سہولت تو دے دی گئی لیکن سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر تمام کام صرف وقتی طور پر ہی کیوں؟ وزیر اعلیٰ کا اعلان تین سال بعد بھی صرف اعلاان ہی کیوں ہے؟ جو عمارتیں پہلے سے موجود ہیں وہاں تو شاید ریمپ نہ بن سکے لیکن جو نئی بن رہی ہیں وہاں کیوں ریمپ نہیں بنائے جا رہے ؟ محکمہ مواصلات ،بلدیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے انجینیرز نقشوں کے پاس کراتے ہوئے جسمانی معذور افراد کیلئے ریمپ اور واش رومز کو کیوں بھول جاتے ہیں؟۔


جسمانی طور پر معذور افراد کو ان کاحق دلانے کیلئے صوبائی حکومت تین سال قبل ایک قانونی مسودہ تیار کیا تھا جس کے تحت جسمانی طور پر معذور افراد کے حقوق کے تحفظ، انکی بھالی اور انہیں بااختیار بنانے کیلئے صوبائی کونسل تشکیل دے جائے گی جس میں انتظامی افسران سمیت جسمانی طور پر معذور افرابھی شامل ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق جسمانی معذور افراد کے حقوق کو یقینی بنایا جائے گا۔اٹھارہ سال کی عمر تک تمام جسمانی معذور بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی، جسمانی معذور بچوں کو فنی اور پیشہ ورانہ تربیت و سکالر شپ کی فراہمی سمیت سرکاری جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ان کیلئے ایک نشست مختص کی جانی تھی تاہم تاہم دیگر مصروفیات ہونے کے باعث شاید صوبائی حکومت اس مسودے کو اسمبلی میں پیش کرنا ہی بھول گئی او ر اب یہ محض ایک کاغذ کے ٹکڑے کی حیثیت سے محکمہ کی فائلوں میں دفن ہے ۔


اب جب صوبائی حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے تو یہ امکان بھی آخری ہچکیاں لے رہا ہے کہ صوبائی حکومت یہ مسودہ پیش کرکے منظور کر لے گی، جسمانی معذور افراد کو اب شاید اگلی حکومت کا انتظار کرنا پڑے گا اور اگلی حکومت اگر اس مسودے سے مطمئن نظر نہ آئی تو یہ سارا عمل دوبارہ شروع سے کیا جائے گا ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube