Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

سانحہ 12 مئی اور جلتا ہوا کراچی

SAMAA | - Posted: May 12, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: May 12, 2018 | Last Updated: 2 years ago

یہ 2007 مئی کے مہینے کی بات ہے جب میں اپنے والد محترم کے ہمراہ کاروباری سلسلے میں لاہور گیا ہوا تھا۔ بذریعہ ٹرین 12 مئی کو کراچی واپس پہنچے تو سڑکیں سنسان تھیں اور ہر طرف خوف کا عالم تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں نظر نہیں آ رہی تھیں۔ چند جلتی ہوئی گاڑیاں سڑکوں پر نظر آ رہی تھیں جو میرے خوف میں اضافہ کر رہی تھیں۔ کافی انتظار کے بعد ایک رکشہ نظر آیا جو ہمیں لے جانے کو تیار نہیں تھا۔ بمشکل رکشہ ڈرائیور راضی ہوا اور ہمیں رکشے میں بٹھانے پر آمادہ ہوگیا۔ جب ہم شاہراہ فیصل سے گزرتے ہوئے اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھے تو سڑکوں پر چھایا سناٹا دیکھ کر دل اور بھی پریشان ہو گیا۔ شہر کی سڑکوں پر جدید اسلحے کا آزادانہ استعمال دیکھنے میں آیا جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو تیس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ 12 مئی کو نامعلوم افراد نے درجنوں گاڑیاں اور املاک نذر آتش کیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے روشنیوں کے شہر کو جلتا دیکھا اس لئے یہ کہنا غلط نہیں کہ 12 مئی 2007 خونی دن تھا۔

12 مئی 2007 کے روز شہر میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرنے کے لئے کراچی ایئرپورٹ پہنچے تھے جنہیں  پرویز مشرف نے غیر آئینی و غیر قانونی طریقے سے برطرف کر دیا تھا اس لئے اس وقت کی انتظامیہ نے انھیں کراچی ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر ان کی حمایت اور مخالفت میں مختلف ریلیاں نکالی گئی تھیں۔ 12 مئی کو کراچی ایئرپورٹ سے متصل شاہراہ فیصل اور اطراف کے علاقے میدان جنگ بنے ہوئے تھے۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈے اور ہاتھوں میں اسلحہ لئے کھلے عام گھوم رہے تھے مگر انہیں روکنے کے لئے پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ سامنے نہیں آیا۔ 12 مئی کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کی وجہ سے کراچی کے مختلف علاقوں میں کشیدگی کے دوران وکلاء اور سیاسی کارکنان سمیت پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 12 مئی 2007 کراچی کی تاریخ کا وہ خونی دن ہے جب شہر کی سڑکوں پر کھلے عام گولیاں چلائی اور املاک جلائی گئیں۔ اس سانحے میں پچاس سے زائد افراد کو قتل اور ایک سو تیس سے زائد افراد کو زخمی کیا گیا مگر اس کے ذمے دار آج گیارہ سال گزر جانے کے باوجود قانون کی گرفت میں نہیں آسکے۔ سانحہ 12 مئی کے مقدمات میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت کچھ ملزمان نے ضمانت لے رکھی ہے اور 16 ملزمان کو عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے مگر اب تک کسی بھی ملزم کو سزا نہیں ہوسکی۔

12 مئی کو مارے جانے والوں کے ورثاء نہیں جانتے کہ ان کے پیاروں کو کیوں مارا گیا۔ 12 مئی کو زخمی ہونے والے جو زندگی بھر کے لئے معذور ہوچکے ہیں وہ نہیں جانتے کہ ان کا قصور کیا تھا ۔ آج بھی 12 مئی 2007 کے خونی دن کی ایسی ویڈیوز موجود ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کے جھنڈے اٹھائے فائرنگ کرنے والے افراد کس طرح شہر میں دہشت پھیلا رہے ہیں اور سرعام فائرنگ کر رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں شیری رحمان اسلحہ اٹھائے گاڑی میں دیکھی جا سکتی ہیں جس پر ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ سانحہ 12 مئی کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے جبکہ پیپلز پارٹی، اے این پی، تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں سانحہ 12 مئی کا ذمہ دار متحدہ قومی مومنٹ کو سمجھتی ہیں جسے مختلف سیاسی رہنما مستقل قومی مصیبت بھی کہتے رہے۔ ذمہ دار جو بھی ہو اس کا تعین کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔ افسوس قاتل آج بھی آزاد ہیں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube