Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

روک سکو تو روک لو

SAMAA | - Posted: May 12, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: May 12, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نوید نسیم

تین بار وزیراعظم رہنے والے، تین بار نااہل قرار۔

پانامہ لیکس کیس میں نااہلی کے بعد احتساب عدالت میں چلنے والے ریفرنسز میں سپریم کورٹ کی طرف سے دو ماہ کی توسیع کے بعد ایک ماہ کی مزید توسیع۔

نومنتخب صدر پاکستان مسلم لیگ نواز شہباز شریف کے کورکمانڈر احد چیمہ کا زیر حراست مبینہ کرپشنز کے اعترافات۔

سپریم کورٹ کی طرف سے صادق اور امین کا خطاب اور انسداد دہشتگردی عدالت سے ایس ایس پی عصمت اللہ کیس میں باعزت رہائی۔

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کو نئے صوبے کی یاد اور پھر نئے بننے والے محاز کی تحریک انصاف میں شمولیت۔ یہ سب محرکات، اشارے اور ماحول بتا رہا ہے کہ تبدیلی بس اب آنے کو ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو پاکستانی کی انتخابی تاریخ میں ہمیشہ ہی عام انتخابات سے پہلے پتہ چل جاتا ہے کہ اگلی حکومت کس کی ہوگی۔

سال 2002 کے انتخابات سے قبل ہی سب کو معلوم تھا کہ جنرل پرویز مشرف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ قائداعظم اگلی حکومت بنائے گی۔

این آر او کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پاکستان آنے والی قیادت نے 2013 کے انتخابات سے قبل ہی اگلی حکومت بنانے کا عندیہ دے دیا۔ جسے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت نے حقیقت میں بدل دیا۔

سال 2013 کے انتخابات سے قبل تبدیلی کی ہوا تو خوب چلی۔ لیکن حقیقت پسند بضد تھے کہ حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز کی ہی آئیگی اور ہوا بھی کچھ یوں ہی۔

اس کے علاوہ اگر پاکستان کی انتخابی تاریخ دیکھی جائے تو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 70 سالہ تاریخ میں کبھی بھی کسی جماعت نے ایک حکومت مکمل کرنے کے بعد اگلی حکومت نہیں بنائی اور جب سے پاکستان میں 5 سالوں بعد انتخابات ہونے کی روائت پڑی ہے۔ ہونے والے 3 عام انتخابات میں کسی بھی جماعت نے اقتدار مکمل کرنے کے بعد دوبارہ سے حکومت نہیں بنائی۔ ہمیشہ ہی نئی جماعت وفاق میں برسر اقتدار آئی ہے۔

ان تمام حقائق اور پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی دو حکومتوں کے بعد اس بار باری بھی تحریک انصاف کی بنتی ہے۔ جو ایک بار خیبر پختونخوا میں تو حکومت کرچکی ہے۔ لیکن وفاق میں حکومت کرنے کی خواہش مند ہے۔

ماضی قریب میں عام انتخابات سے پہلے ہونے والی پیشرفت کو اگر دیکھا جائے تو چند دن پہلے ایک انٹرویو میں چیئرمین تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فوج بھی نواز کے ساتھ تھی۔ عمران خان کے اس بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ آرمی چیف جمہوریت کے بہت بڑے حامی ہیں۔

عمران خان کے ان بیانات سے یہ باآسانی اخز کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان نے دو مدتوں تک آرمی چیف رینے والے جنرل طارق پرویز کیانی کو 2013 کے انتخابات میں نواز لیگ کا ساتھ دینے کا الزام لگایا۔ اس کے باوجود کہ عمران خان اس سے پہلے آر اوز پر دھاندلی کا الزام لگاتے رہے۔ جس کے لئے انھوں نے اسلام آباد میں 126 دنوں تک دھرنہ بھی دیا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر عمران خان کو پتہ تھا کہ جنرل کیانی نے نواز لیگ کا 2013 انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھانلی میں ساتھ دیا تھا۔ تو عمران خان کو اب یاد کیوں آیا او اس کے علاوہ عمران خان نے 126 دنوں کا دھرنہ اسلام آباد میں کیوں دیا۔ جی ایچ کیو کے سامنے کیوں نہیں دیا؟۔

اس کے علاوہ عمران خان کا یہ اعتراف کے موجودہ سپہ سلارجمہوریت کے حامی ہیں۔ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان کو موجودہ سپہ سلار پر پورا اعتماد ہے کہ وہ جنرل کیانی کی طرح نواز لیگ یا کسی اور کا ساتھ نہیں دیں گے۔

یہ تمام حقائق اور سیاسی منظرنامہ ماضی کے انتخابات کی طرح اس بار بھی انتخابات سے پہلے ہی خبردار کر رہا ہے کہ اگلی حکومت کسی کی ہوگی۔ لیکن عمران خان کے بیانات اور موجودہ انتخابی ماحول ماضی میں ہونے والے انتخابات کی حقیقت بھی عیاں کررہے ہیں۔ جس کی روشنی میں اگلے انتخابات کی شفافیت اور غیر جانبداری بھی اخز کرنا مشکل نہیں ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube