Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

ناکوں چنے چبواتے، ہمارے ادارے

SAMAA | - Posted: May 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: May 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نورسلیم

آج کل نادرا والے کراچی میں کچھ منتخب کردہ آفسز میں جاکر اسٹال لگارہے ہیں، جہاں وہ ان آفس ملازمین کو اپنی خدمات فراہم کرتے نظر آتے ہیں، اس طرح اسٹال لگانے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ پیشہ ور طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے خواتین ومرد حضرات جو دوران ڈیوٹی چھٹیاں لے کر قومی شناختی کارڈ سے متعلق مسائل حل کروانے کے لئے نادرا آفسز کا رخ نہ کر پا رہے ہوں، انہیں ان کے آفس میں ہی ان مسائل سے حل کے طریقے سمجھا دئیے جائیں تاکہ انہیں کئی دنوں اپنے آفس سے چھٹیاں نہ لینی پڑیں، لیکن  نادرا والوں کے دو یا تین روزہ اسٹال لگانے کے بعد بھی کئی لوگوں کی درخواستیں مسترد ہوجاتی ہیں اور ان کے مسائل جوں کے توں ہی رہتے ہیں۔ ایسے وقت میں لوگوں کا یہ بھی کہنا ہوتا ہے کہ ہمارے کئی مسائل ہیں، ہمیں چونکہ آفس باقاعدگی سے آنا ہوتا ہے،اس لئے  ہم ایک دن تو چھٹی کرکے اپنا کام نادرا آفس سے جاکر کروا لیتے ہیں، لیکن اگر اس دن کام نہ نمٹے، جو کہ اکثر نہیں نمٹتا، اس لئے ہمارا شناختی کارڈ سے متعلقہ کام مہینوں کیا سالوں تک ہی نہیں ہو پاتا۔ ان کی نادرا ملازمین سے شکایات کی لمبی فہرستیں ہوتی ہیں، جسے پاکستان کا ہر عام شہری بخوبی سمجھ سکتا ہے۔

پاکستان میں کئی ادارے ایسے ہیں، جن سے پاکستان کی زیادہ تر عوام نالاں نظر آتی ہے۔ ان میں سرفہرست نادرا اور پاسپورٹ آفسز ہیں۔ ان دونوں اداروں سے عوام کو واسطہ بھی پڑتا ہے، اپنے اور گھر والوں کے شناختی کارڈ کے اجراء، اس میں غلطی کی تصیح کروانی ہو، اسمارٹ کارڈ بنوانا ہو، مدت استعمال ختم ہوگئی تو اس کارڈ کو دوبارہ بنوانا ہو، غرض یہ ہے کہ آئے دن اس طرح کے کاموں کی وجہ سے ان دونوں آفسز میں جانا معمول کی بات بن جاتی ہے۔ آج کل ایک سب سے بڑا مسئلہ ان خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے کا ہے، جن کے ماں باپ دنیا میں نہ ہوں اور وہ انڈیا یا کسی اور سے ملک سے شادی ہوکر یہاں پاکستان میں آگئی ہوں۔ سالوں سے یہاں رہائش پذیر ہوں، ان کا پرانا والا شناختی کارڈ موجود ہو لیکن اس کے مدت استعمال ختم ہونے کے بعد جب وہ نادرا آفس اس نیت سے جاتی ہیں کہ ان کا شناختی کارڈ بن جائے گا تو انہیں سالوں کئی چکر وفاقی محتسب عدالت کے لگانے کے بعد، محلےکے لوگوں سے ان کے حق میں یہ لکھوانے کہ ہم ان کی شرافت کے گواہ ہیں، 21 گریڈ کے آفیسر سے دستخط کر وانے، ایفی ڈیوٹ یعنی جوابی بیان حلفی پر لکھوانے اور دستخط کروانے کے بعد بھی ان کے شناختی کارڈ نہیں بن پاتے۔ وہ لگاتار سالوں تک ان آفسز کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔ اب ایسے اپنے مرے ہوئے ماں باپ یا بہن بھائیوں کے کاغذات کہاں سے لائیں، کئی لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جن کے کوئی بہن بھائی نہیں ہوں گے اور وہ اکلوتے ہوں گے، ایسے لوگ پھر اپنی فیملی کا ریکارڈ کہاں سے دیں گے؟ ان پریشان حال لوگوں میں کئی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہ حج یا عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن ان کے شناختی کارڈ کا مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے وہ یہ خواہش اپنے دل میں ہی لئے بیٹھے رہ جاتے ہیں۔

ویسے تو رواں سال فروری کے مہینے میں ایک دن ایسا بھی آیا تھا جب نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چئیرمین عثمان مبین نے اچانک نادرا کے سائٹ ایریا میں موجود آفس کا اچانک سے دورہ کیا اور وہ عام لوگوں کے ساتھ  ساتھ لائن میں کھڑے رہے۔ انہوں نے اس موقع پر دو ملازمین کو ملازمت سے فارغ بھی کیا، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں، ان دونوں کو فارغ کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ آنے والے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے ساتھ برا رویہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ سایٹ ایریا کے بعد بھی چئیرمین نادرا نے دوسرے سینٹرز کے بھی ہنگامے دورے کئے، جس کی وجہ سے ملازمین میں کھلبلی مچتی رہی۔

نادرا آفس ہو یا پاسپورٹ آفس، دونوں جگہوں پر جب بھی شہری اپنے مسائل لے کر جاتے ہیں تو ان کے مسائل بجائے سنے جانے اور فورا حل کئے جانے کے، انہیں ٹالا جانے لگتا ہے، شہری لمبی قطاروں کو بھگتنےکے بعد اپنا مسئلہ بتاتے ہیں تو کسی ایک نکتے پر ان کا مسئلہ اٹک جاتا ہے اور انہیں کسی اور کام کروانے کا کہہ کر ٹال دیاجاتا ہےاور کسی اوردن آنے کا کہاجاتا ہے، یوں کئی ہفتوں اور مہینوں کی خواری کے بعد کچھ خوش نصیبوں کے کام بن جاتے ہیں اور کچھ کا کام سالوں اٹکے رہ جاتے ہیں۔ یہ ہمارے ادارے ہیں، جو ہمیں ناکوں چنے چبواتے ہیں، ہمارے مسائل بروقت حل کرنے کے بجائے، انہیں ہفتوں، مہینوں اور سالوں تک ٹالتے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں یہ ادار ےاپنی ساکھ بحال رکھنے میں ناکام رہتے ہیں، حکومت اور متعلقہ اداروں کے اعلی عہدیداران کو اپنے اداروں کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے ایسے اقدامات کرنےکی ضرورت ہے، جس سے عوام میں ان کی ساکھ تیزی سے بحال ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube