Saturday, October 24, 2020  | 6 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

موت کا کھیل ۔۔ ون وہیلنگ

SAMAA | - Posted: May 8, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: May 8, 2018 | Last Updated: 2 years ago

ایک دوست نے واٹس اپ پر ایک ویڈیو بھیجی جس میں کوئی لڑکا موٹرسائیکل چلا رہا تھا وہ بھی ایک پہیے پر ۔ مذیدعجیب بات اس میں یہ تھی کہ اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی بیٹھی تھی۔ دومنٹ چندسیکنڈز کی ویڈیو میں پوری دیکھنے کی ہمت نا کرسکی اور اس سوچ میں پڑگئی کہ موت تو ایک دن سب کو ہی آنی ہے اس سے کوئی بھی منکر نہیں ہو سکتا لیکن ایک موت طبعی ہو تی ہے اور ایک خودکشی جس میں انسان خود اپنی مرضی سے موت کو گلے لگا تا ہے۔

خودکشی بھی لوگ مختلف طریقے سے کرتے ہیں ہماری آج کی نوجوان نسل ایک طریقے کو بڑی شوق سے اور خوشی سے اپنا رہی ہے اور وہ ہے بائیک رائیڈنگ جس میں وہ خود موت سے کھلتے ہیں۔ یہ ایک ایسا جنون بنتا جارہا ہے جسے کوئی نشے میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوتا ہے، بالکل بائیک رائڈنگ بھی ایسا ہی ناسور بن گیا ہے، خاص طور پر کراچی میں سڑکوں پر اندھی ریسوں میں ماؤں کے لعل جانیں گنوا رہے ہیں لیکن کوئی پو چھنے والا نہیں ہے اور یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

کراچی کی ٹریفک کا حال سب کوپتا ہے کہ کس قدر رش ہوتا ہے۔ اس میں بھی بعض لڑکے کرتب دکھانے سے نہیں ڈرتے، اکثر نوجوانوں کو موٹر سائیکل چلانے کے دوران کرتب بازی کا شوق پورا کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے، کچھ منچلے بیج سڑک پر اپنی مہارت کہیں یا پاگل پن کہ جو فلمی انداز میں بائیک رائیڈنگ کا شوق پورا کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ اُنہیں لگتا ہے وہ کسی فلم کے ہیرو ہیں اور بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں ۔ کبھی سپر مین کی طرح موٹر سائیکل کی سیٹ پر لیٹ کر یوں اپنی بائیک دوڑاتے ہیں کہ جیسے یہ اُ ن کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ جبکہ یہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور اپنی جان خطرے میں ڈالنے والی حرکتیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان حادثے کا شکار ہو کر اپنی زندگی کا چراغ گل کر لیتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال میں گینگ ریسنگ کا رحجان بڑھا ہے اور نوعمر لڑکے شہر کی سڑکوں پرحادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ 16 فروری 2018 کو کراچی میں شارع فیصل پر رات کو تین بجے ریس ہوئی جس میں 4 نو عمر لڑکے جان سے چلے گئے۔ایسا ہی حادثہ سپر ہائی وے پر بھی پیش آیا خطرناک رفتار سے جانےوالے بائیکرکی گاڑی سے ٹکر جان لیواثابت ہوئی جس میں 25 سالہ نوجوان جان کی بازی ہار گیا ۔یہ حادثے روز کا معمول بن گئے ہیں ۔

ہم ایک زندہ قوم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب قوم بھی ہیں، ہم ہر تفریح کے کام کو منفی سرگرمی میں بدلنے میں دیر نہیں کرتے، گلی محلوں میں رکھی راڈگیم ہو یا ڈبویا سنوکر کلب ۔۔۔ جواکے بغیر اسے کھیلنا توہین سمجھتے ہیں، حال ہی میں پاکستان سپر لیگ پر کروڑوں روپے کا جواکھیلا گیا،اسی طرح کراچی سی وی یو میں بائیک ریسنگ سے بھی یومیہ لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں، کراچی میں انڈر گراؤنڈ اسٹریٹ بائیک ریسنگ کا خفیہ نیٹ ورک تھا جو اب بے نقاب ہو گیا ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے قصور کس کا ہے والدین کا حکومت کا یا ان نوجوانوں کا؟حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم عمر بچوں کے بائیک چلانے پرپابندی لگائے اوروالدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ خیال رکھیں ان کے بچےدوستوں کے ساتھ مل کیا کررہے ہیں۔ اپنے کم عمر بچوں موٹر سائیکل نہ خرید کر دیں کیونکہ بچوں کی ضد سے زیادہ انکی زندگی اہم ہے۔ ساتھ ہی نوجوان نسل کو بھی سوچنا چاہیے کہ زند گی کتنی قیمتی ہے ، اسے تھوڑی سی شوشا میں یا ضد میں آکر ختم کرنے کے درپے نہ ہوں۔ آپ کے مرنے کے بعد والدین بھی جیتے جی مر جاتے ہیں اس لیے خدارا اپنا نہیں تو گھر والوں کا ہی خیال کر لیا کریں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube