Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

خلائی مخلوق کون؟

SAMAA | - Posted: May 8, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: May 8, 2018 | Last Updated: 3 years ago

۔۔۔۔۔**  تحریر: طاہر نصرت  **۔۔۔۔۔

زوال کا سفر جب شروع ہوتا ہے تو انسان بڑی سے بڑی غلطی کرنے سے بھی نہیں کتراتا، آبیل مجھے مار سے لیکر چٹان پر سر مارنے اور آتش فشاں کے ابلتے ہوئے لاوے کے دہانے پر بیٹھ کر پکنک منانے تک، ہر وہ کام خوش اسلوبی سے کرتا ہے جس سے بربادی اور رسوائی کے علاوہ اور کچھ حاصل ہوتا نہیں ہے۔

میاں نواز شریف کی محبت کے خمار میں جکڑا نون لیگ کا ایک ٹولہ بھی آج کل کچھ ایسی ہی راہوں پر چل نکلا ہے، پاناما اسکینڈل نے بخیے ادھیڑ دیئے تو عدلیہ پر تنقید کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے، یہ مخصوص لوگ کبھی عدالت پر جوڈیشل مارشل لاء کا الزام لگاتے ہیں تو کبھی مقتدر قوتوں پر دبے لفظوں میں گولہ باری کرتے ہیں۔

ایک دور تھا کہ نواز شریف کو قسمت کا بڑا دھنی سمجھا جاتا تھا، پرویز مشرف کے شکنجے سے نکلنے کا معاملہ ہو، جلاوطنی کے بعد وطن واپسی یا پھر تیسری بار وزارت عظمیٰ کا حصول، نواز شریف ہر معاملے میں قسمت پر حاوی رہے، یہاں تک کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد ملک بھر میں دہشت گردوں کے خاتمے کے جو آپریشنز شروع ہوئے ان کا کریڈٹ بھی ن لیگ کے حصے میں آیا، مگر ستاروں کی چال بھی بہت عجیب ہوتی ہے، کل تک صورتحال یہ تھی کہ بڑے بڑے دھرنے بھی بڑے میاں صاحب کا کچھ نہ بگاڑ سکے مگر نصیبہ روٹھ گیا تو آج صورتحال یہ ہے کہ پاناما کے طوفان نے صرف نواز شریف ہی نہیں ان کے پورے خاندان کو ہیجان میں ڈال دیا۔

عدالت نے جب سے ن لیگ کے تاحیات قائد کے ماتھے پر نااہلی کا جھومر سجایا ہے تب سے میاں صاحب اور ’’للکار بریگیڈ‘‘ اعلیٰ عدلیہ پر مسلسل گولہ باری میں مصروف ہے، یہ الگ بات کہ جب توہین عدالت کے کیس میں پھنس جاتے ہیں تو گڑگڑانے لگتے ہیں اور عدالت کے روبرو یہ پیمان کرتے ہیں کہ می لارڈ اس بار بخشش ہوجائے آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔

سیانے کہتے ہیں کہ جو مکا لڑائی کے وقت کام نہ آئے اسے اپنے ہی منہ پر دے مارنا چاہئے مگر یہاں مکے لہرانے والوں کو شاید اندازہ نہیں کہ اس وقت وہ خودکشی کرنے نکلے ہیں، غلطیاں کرنے میں شاید ہی ن لیگ کا کوئی ثانی ہو، اپنے پیروں پر کلہاڑا مارنے میں یہ بڑے ماہر ہیں، ڈان لیکس اور توہین رسالت کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ سب کے سامنے ہے، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر نارووال میں حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر یہ سب کیا دھرا بھی حکمران جماعت کا ہی ہے۔

خلائی مخلوق سے متعلق بیان دیکر نواز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا، ہر ایک کی زبان پر اب ایک ہی بات، یہ خلائی مخلوق ہیں کون؟، چوہدری نثار کو تو اس میں ایک اور ڈان لیکس نظر آیا، مگر حالات پر نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ میاں صاحب کی اس بات میں بڑا وزن اور بڑا دم ہے، اگر ایسا ہی ہے تو پھر کیوں نہ خار زار سیاست کے غازی بھی مزید ایک دو قدم آگے آئیں اور سب کچھ عوام کے سامنے رکھ دیں۔

موجودہ حالات دیکھ کر اس میں کسی کو کوئی دورائے نہیں کہ سیاست میں میاں نواز شریف کا دی اینڈ ہوچکا ہے، طلاطم خیز موجوں میں اپنی کشتی بچانے کیلئے انہوں نے ہر حربہ آزمایا، نہلے پہ دہلا پھینکنے کی بڑی کوششیں کیں مگر بات نہ بنی، اب جو آخری پتہ رہ گیا ہے اسے وہ ترپ کا پتہ سمجھ رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اس کے ذریعے ہی وہ اس میدان کا سلطان بن سکتے ہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں، ان کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں مگر جناب ادھوری باتوں کا مفہوم واضح نہیں ہوتا، کیا ہی اچھا ہو کہ پوری کی پوری بات عوام کے سامنے رکھ دی جائے۔

ضیاء الحق کے ذریعے سیاست میں انٹری مارنے والے نواز شریف کو اندرونی صورتحال کا زیادہ ادراک ہے، سازشیں کیسے بنتی ہیں؟، سر پر کس کے ہاتھ ہوں تو اقتدار کا ہما آسانی سے بیٹھتا ہے؟۔ مخالفین کو اکثریت سے کیسے محروم کیا جاتا ہے؟، دوسری جماعتوں کے اراکین اسمبلی پر جادو کیسے چلایا جاتا ہے؟، اس معاملے میں انہیں خوب تجربہ ہے۔

اب جب انہوں نے خلائی مخلوق کا ذکر چھیڑ دیا ہے تو انہیں اخلاقی طور پر مزید ہمت کرنی چاہئے اور حقائق قوم کے سامنے رکھ دینے چاہئیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube