Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

لسانی سیاست اور ایم کیو ایم پاکستان

SAMAA | - Posted: May 6, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: May 6, 2018 | Last Updated: 4 years ago

لیاقت آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کامیاب جلسے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ‘جاگ مہاجر جاگ’ کا نعرہ لگا دیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کراچی میں لسانی اور مذہبی سیاست کی ایک طویل داستان ہے۔ ایک زمانے میں جماعت اسلامی کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہوا کرتی تھی۔ 1978 میں الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ الطاف حسین کا ہمیشہ سے یہ دعوی رہا ہے کہ وہ مہاجر قوم کے حقیقی ترجمانی ہیں۔ الطاف حسین نے 1984 میں اپنی سیاسی جماعت مہاجر قومی مومنٹ کا نام تبدیل کرتے ہوئے متحدہ قومی مومنٹ رکھا تو ایم کیو ایم دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور ایم کیو ایم (حقیقی) نے جنم لیا جس کی سربراہی آج بھی آفاق احمد کر رہے ہیں۔

الطاف حسین نے اپنی جماعت کا نام تو تبدیل کیا مگر ہمیشہ لسانی سیاست کو فروغ دیا۔ صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ دیگر جماعتیں بھی لسانی بنیادوں پر کام کرتی رہی ہیں جن میں مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی سرفہرست ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت کوئی بھی جماعت لسانیت سے پاک نظر نہیں آتی لیکن ایم کیو ایم کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ ہمیشہ لسانیت کو ہوا دیتی ہے۔ ایک مرتبہ پھر لسانی سیاست عروج پر ہے اور کراچی شہر میں ایم کیو ایم (پاکستان) کی جانب سے جاگ مہاجر جاگ کے بینرز لگ گئے ہیں۔ ماضی میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بھی ‘جاگ پنجابی جاگ’ کا نعرہ لگا چکے ہیں اور ممکن ہے ضرورت پڑنے پر پھر ایم کیو ایم کی طرح مسلم لیگ (ن) کو بھی یہ نعرہ پھر سے لگانا پڑے۔ پیپلز پارٹی کا لیاقت آباد میں کامیاب جلسہ اور کراچی شہر کی بدلتی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی کے رہنماؤں نے پھر سے متحد ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور باہمی مشاورت سے لسانی سیاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم کو جب بھی سیاسی خطرہ محسوس ہوتا ہے وہ لسانی سیاست شروع کردیتی ہے۔

ایم کیو ایم کے متعدد رہنما پاک سر زمین پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں اور مصطفی کمال یہ دعوی کر رہے ہیں کہ کراچی والے ان کے ساتھ ہیں۔ ہمیں پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال کے اس عمل کی تعریف کرنی چاہئے کہ وہ کراچی سے لسانی سیاست کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پی ایس پی کے قیام کے بعد ایم کیو ایم کو ماضی جتنی نشستیں نہیں ملیں گی۔ سچ تو یہ ہے کہ مہاجروں نے 35 سالوں میں 9 مرتبہ ایم کیو ایم کو ووٹ دیا اور مہاجروں کے ووٹوں کی بدولت ہی ایم کیو ایم مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ رہی مگر اس کے باوجود کراچی کچرا کنڈی بنا ہوا ہے اور میئر کراچی مہاجروں کے نام پر ووٹ لینے کے بعد ان کی خدمت کے بجائے ‘جاگ مہاجر جاگ’کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ میئر کراچی کو جاگ مہاجر جاگ نعرہ لگانے کے بجائے خود غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ کراچی کے شہریوں بالخصوص مہاجروں کو چاہئے کہ وہ ‘جاگ میئر کراچی جاگ’ کا نعرہ بلند کریں تو شاید وسیم اختر غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں۔

مصطفی کمال نے درست کہا تھا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے اسمبلیوں میں آنے اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کا میئر بننے کے لئے مہاجر کارڈ استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان ہی کے علاقوں میں فلاح و بہبود کے کام نہیں ہوتے۔ لسانی سیاست کے خاتمے کے لئے ہر شہری کو مصطفی کمال کی طرح اپنا کردار ادا کرنا ہوگا مگر دیگر سیاسی قائدین کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امید ہے دیگر سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم (پاکستان) کی طرح قومیت کی چنگاری کو ہوا نہیں دیں گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube