Wednesday, July 8, 2020  | 16 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

گونگی اقلیتیں

SAMAA | - Posted: May 4, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: May 4, 2018 | Last Updated: 2 years ago

اسمبلی مدت ختم ہونے سے قبل طلب کیا گیا ایک اور اجلاس بھی اپنے اختتام کو پہنچ گیا لیکن دو سال سے ایم پی اے بننے کی خواہش دل میں دبائے بیٹھا بلدیو کمار حلف نہ لے سکا اور اب جب صوبائی حکومت نے بجٹ پیش کرنے سے انکار کردیا ہے تو اگلا اسمبلی اجلاس طلب کرنا مشکل لگ رہا ہے ۔

بلدیو کمار کا حلف لینے کیلئے پشاور ہائی کورٹ نے کئی مرتبہ سپیکر خیبر پختونخوااسمبلی کو احکامات جاری کئے اور پہلی مرتبہ جب پشاور ہائی کورٹ کا حکم ماننے کا فیصلہ کیا گیا تو 27فروری کو بلدیو کمار کو اجلاس میں پیش کیا گیا اور وہاں موجود پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے انہیں حلف لینے سے روک دیا اور انکا سواگت جوتوں سے کیا۔معاملہ اتنا سادا بھی نہیں جتنا لگ رہا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی 124میں سے 3نشستیں اقلیتی برادری کیلئے مخصوص رکھی گئی ہیں جن میں 2013کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف ، جمعیت علماء اسلام ف اور مسلم لیگ ن کے حصے میں ایک ایک نشست آئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سردار سورن سنگھ، مسلم لیگ ن کی جانب سے فریڈرک عظیم غوری اور جمعیت علماء اسلام ف کی جانب سے عسکر پرویز ایوان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

تحریک انصاف نے اقلیتی برادری کو صوبائی کابینہ میں نمائندگی دیتے ہوئے سردار سورن سنگھ کو اقلیتی امور کیلئے وزیر اعلیٰ کا مشیر مقرر کیا ۔ 22اپریل 2016کو بونیر میں اپنے گھر کے سامنے سردار سورن سنگھ کو قتل کر دیا گیا تاہم ان کے قتل میں تحریک انصاف کی ترجیحی فہرست کے دوسرے امیدوار بلدیو کمار کو پولیس نے گرفتار کر لیا ۔ بلدیو کمار ملزم ہے مجرم نہیں اسی وجہ سے الیکشن کمیشن کی جانب سے گرفتار بلدیو کمار کے رکن صوبائی اسمبلی ہونے کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا تاہم گرفتار ہونے کے باعث بلدیو کمار آج تک اپنا حلف نہیں اٹھا سکے اور اب جب اسمبلی کی مدت ختم ہونے میں محض 25روز سے بھی کم رہ گئے ہیں تو بلدیو کمار کے حلف لینے کی امیدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف کے آنجہانی سورن سنگھ اقلیتی امور کے حوالے سے کافی سرگرم رہے ہیں اور انہوں نے ہندوؤں کی جائیدادوں سے متعلق قانون کو ایوان میں پیش تو کیا ہے لیکن قتل کئے جانے کے باعث اسے پاس ہونے کیلئے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جا سکا۔آنجہانی سورن سنگھ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے خیبر پختونخوا اسمبلی کی تمام سیاسی جماعتوں نے یکساں مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیو کمار کو کسی صورت حلف اٹھانے نہیں دیا جائے گا یہ تمام اراکین کا سردار سورن سنگھ کی روح کے ساتھ وعدہ ہے۔

سورن سنگھ کی روح کے ساتھ تو 123اراکین اسمبلی کا وعدہ اپنی جگہ تاہم صوبے میں مقیم تقریبا 5لاکھ سے زائد اقلیتی برادری کے ساتھ وعدہ کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔ ان اقلیتوں کے مسائل ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اقلیتوں کے مسائل سے باخبر رہنے کیلئے تحریک انصاف کے رہنما روی کمار کو اپنا کوآرڈینیٹر تو مقررکرلیا تاہم وہ واضح طور پر صرف کوآرڈینیٹر کی ہی خدمات سرانجام دہے رہے ہیں یعنی اسمبلی میں انکا داخلہ ممکن نہیں تو قانون سازی دو سالوں سے نہیں ہو سکی اور باقاعدہ وزیر تو وہ ہیں نہیں لہٰذا وہ صرف محکمہ اوقاف و اقلیتی امور کو درخواست ہی کر سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں دو سالوں سے حکومتی بنچوں پر کوئی بھی اقلیتی رکن موجود نہیں ہے لیکن حزب اختلاف کے دو اقلیتی اراکین موجود ہیں اور انہی کی موجودگی دیکھتے ہوئے صوبے کی اقلیتی برادری نے یہ امید لگائی تھی کہ انکی آواز ایوان میں ضرور گونجے گی لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ نکلا۔صوبائی اسمبلی میں موجود جے یو آئی اور مسلم لیگ ن کے اراکین فریڈرک عظیم غوری اور عسکر پرویز کا شمار2017میں ایوان میں باقاعدگی سے آنے والے اراکین میں ہوتا ہے اور فافن کی رپورٹ کے مطابق عسکر پرویز ان پہلے 10اراکین اسمبلی میں ہیں جو سب سے زیادہ باقاعدگی سے ایوان میں تشریف لائے ہیں۔

تاہم بدقسمتی سے دونوں اراکین اسمبلی نے ان دو سالوں میں لبوں کو جنبش دینے کی زحمت تک گوارا نہیں کی ہے اور ایوان میں آکر صرف حاضری رجسٹر میں دستخط کرنے کو ہی اپنا شعار بنا لیا ہے گویا وہ ایوان جس میں سورن سنگھ اقلیتوں کی آواز بن کر گونجاکرتے تھے اب وہاں اقلیتوں کیلئے دو سالوں سے لب کشائی تک نہیں ہو سکی ہے۔ اسمبلی کارروائی میں سب سے زیادہ حصہ لینے والے سورن سنگھ کیا گئے صوبے کی اقلیتی ہی گونگی ہو گئیں اور اب انہیں قانون سازی کیلئے شاید آئندہ اسمبلی کا انتظار کرنا پڑے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube