Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

دورہ انگلینڈ: بالرز پر ہی انحصار کیوں؟

SAMAA | - Posted: May 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: May 3, 2018 | Last Updated: 4 years ago

شاہینوں نے انگلینڈ کے لئے اڑان بھری تو ٹیم سلیکشن پر بہت لے دے ہوئی۔کچھ کو سینئرز کو نظر انداز کرنا برا لگا کچھ کو اسپن بالنگ کا ڈیپارٹمنٹ کمزور نظر آیا۔کینٹ کاؤنٹی کے خلاف پاکستانی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی تو چیف سلیکٹر نے انکشاف کردیا کہ ایسا تو انہیں پہلے ہیں پتہ تھا۔انضمام الحق صاحب سے کوئی پوچھے کہ جب پتہ تھا تو سدباب کیوں نہیں کیا۔خیر یہ سوال کرے تو کون کرے اور اگر کوئی کر بھی لے تو چیف سلیکٹرز صاحب اس کی پرانی غلطیاں بتا کر کہتے ہیں کہ وہ تو محمد آصف کی باتوں کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔گو محمد آصف کا اعتراض کافی مضبوط ہے۔

یونس خان اور مصباح الحق کے بعد ہم جس تواتر سے ٹیسٹ میچز ہارے ہیں اور ہماری رینکینگ جو مصباح الحق کی کپتانی میں نمبر ایک تک پہنچ چکی تھی اب بمشکل نمبر سات پر جم سی گئی ہے۔ سالانہ رینکنگ میں بھی ہمیں کوئی ترقی نہیں ملی بلکہ دو پوائنٹس مزید گرگئے ہیں۔آئر لینڈ ٹیسٹ کرکٹ میں انٹری کی تیاری کررہا ہے گیارہ مئی کو پاکستانی ٹیم آئرلینڈ کے مدمقابل آئے گی۔حد تو یہ ہے کہ ہمارے کئی سابق کرکٹرز آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں بھی ٹیم کو مشکل امتحان سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کررہے ہیں، رمیز راجہ تو یہ تک کہہ گئے ہیں کہ میچ میں پاکستان کو شکست ہوگئی تو انہیں اس پر حیرت نہیں ہوگی۔بات میں دم اس لئے بھی ہے کہ پاکستان کا دورہ انگلینڈ کے لئے اگر کوئی ڈیپارٹمنٹ مضبوط ہے تو وہ فاسٹ بالنگ کا شعبہ ہے جو تجربے کار تو نہیں لیکن باصلاحیت ضرور ہے۔حسن علی ۔ راحت علی۔ محمد عامر اور محمد عباس سے کپتان کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔فہیم اشرف کو بھی انگلش کنڈیشن میں بہتر آپشن سمجھا جارہاہے۔

حسن علی چیمپئنز ٹرافی اور اس سے قبل سابقہ دورہ انگلینڈ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں اور کینٹ کے خلاف بھی ان کی بالنگ کافی بہتر رہی۔محمد عباس نے کاؤنٹی کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔محمد عامر کا زیادہ وقت بھی انگلینڈ میں گزرتا ہے۔اس لئے ان کے لئے انگلش کنڈیشنز کوئی نئی چیز نہیں ہوگی۔ اصل مسئلہ پھر بیٹنگ لائن کا ہے۔پاکستانی بیٹنگ لائن کی اس وقت ساری جان اظہر علی میں ہے جو ٹیسٹ کرکٹ کی کامیابی کے ضامن بن سکتے ہیں۔کپتان سرفراز احمد کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ٹیسٹ کرکٹ میں بیٹنگ کے لئے کھیل کے فارمیٹ میں خود کو ڈھالنا ہوگا۔سرفراز احمد ماضی میں کئی بار سیٹ ہو کر اسٹمپ ہوئے جس سے ٹیم کوناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔ کپتان کی جانب سے غیر ذمہ داری ٹیم پر برا اثر ڈالتی ہے۔اسد شفیق طویل عرصے سے ٹیسٹ ٹیم کے مستقل رکن ہیں اور انہیں اس سیریز میں خود کو یونس خان اور مصباح الحق کا متبادل ثابت کرنا ہوگا۔سعد علی پر حد سے زیادہ دباؤ ڈالنا مناسب نہیں ہوگا سعد علی کی صلاحیتوں سے تو کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن انگلش کنڈیشنز میں خود کو ڈھالنا کسی بھی ایشیائی بلے باز کے لئے آسان نہیں ہوتا۔ ٹاپ گرین وکٹوں پر نئی گینڈ سوئنگ ہوتی ہے تو پرانی گیند سے اسپن بالرز قیامت ڈھاتے ہیں۔انگلش ٹیم اس وقت رینکنگ میں نمبر پانچ پر ہے اور

پاکستان کے خلاف کامیابی اس کو رینکنگ میں مزید اوپر پہنچا دے گی۔جس کا نمبر فور پر موجود نیوزی لینڈ سے فاصلہ چند پوائنٹس کا ہے۔پاکستان کرکٹ کو طویل عرصے بعد ایک بہتر اوپننگ جوڑی ملی ہے۔فخر زمان کو مڈل آرڈر میں کھلانے کا فیصلہ ہمارے لئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔فخر زمان نے بطور اوپنر اپنی صلاحیتیں منوالی ہیں انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اوپنر ہی کھلانا چاہئے ضروری نہیں کہ وہ ڈیوڈ وارنر کی طرح کامیاب رہیں کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ نہ اچھے اوپنر رہیں نہ اچھے مڈل آرڈر بلے باز۔اظہر علی کے ساتھ انہیں بطور اوپنر کھلایا جائے۔امام الحق نے کینٹ کے خلاف اچھی کارکردگی کامظاہرہ ضرور کیا ہے لیکن ایک اننگز کی بنیاد پر انہیں پوری سیریز میں نہیں آزمایا جاسکتا۔اظہر علی کی سائیڈ میچز میں سامنے آنے والی خامیوں کو کوچز کو ہنگامی بنیادوں پر دور کرنا ہوگا۔ اس وقت اظہر علی کو بہت زیادہ اعتماد دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنےروایتی انداز میں کھیل سکیں اور ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔انگلش ٹیم کے پاس اس وقت کپتان کی شکل میں ٹیسٹ کا بہترین بیٹسمین موجود ہے جو روٹ نہ صرف بیٹنگ بہت بہتر کررہے ہیں اور مکمل فارم میں ہیں بلکہ ان کی زیر قیادت انگلش ٹیم بہت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔گو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں انگلش ٹیم کو شکست ہوئی اس کے باوجود ٹیم کی رینکنگ کافی بہتر ہے اور ہوم کنڈیشن میں انگلش ٹیم مزید خطرناک ہوگی۔اس لئے ابھی سے کپتان سرفراز احمد اور پوری ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف بھرپور حکمت عملی بنانی ہوگی۔ خاص کر کےہمارے بیٹسمین جتنی جلد ممکن ہو خود کو انگلش کنڈیشن کے مطابق ڈھال لیں۔ سیریز اگر پاکستان جیت لے تو بہت بہتر ہوگا اگر ہم سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ بھی ہماری ٹیم کی کامیابی ہی ہوگی۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube