Monday, October 25, 2021  | 18 Rabiulawal, 1443

ایبٹ آباد میں 2 مئی 2011ء کو ہوا کیا تھا؟

SAMAA | - Posted: May 2, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: May 2, 2018 | Last Updated: 3 years ago

ایبٹ آباد کمپاؤنڈ، جہاں اسامہ بن لادن رہائش پذیر تھا ۔ فائل فوٹو

دو مئی 2011: رات ایک بجے

ایبٹ آباد کے صہیب اطہر اپنے گھر میں بیٹھے ہیلی کاپٹر کی آواز سنتے ہیں اور ایک ٹوئٹ کے ذریعے دنیا کو پیغام دیتے ہیں کہ ایبٹ آباد میں کچھ تو گڑبڑ ہے۔ اور وہ گڑبڑ کیا ہے اگلے دن پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا پر آشکار ہوجاتی ہے۔

منگل 3مئی کو کراچی یونیورسٹی میں ہم 6 دوست محو گفتگو تھے کہ ایک سینئر نے اطلاع دی کہ القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن امریکی کمانڈو ایکشن میں مارا گیا۔

یہ خبر سنتے ہی دماغ میں جو سوال آئے:

کیا یہ واقعی سچ ہے؟

کیا پاکستان کو لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم تھا؟

اسامہ بن لادن آخر ایبٹ آباد پہنچا کیسے؟

کیا پاکستان کو امریکی کارروائی کا پہلے سے علم تھا؟

اس واقعے کو آج 7 سال گزر گئے، اس حوالے سے درجنوں کتابیں پڑھ چکا ہوں، لیکن تاحال ان سوالات کے تسلی بخش جوابات نہیں ملے۔

کہا جاتا ہے کہ امریکا نے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے ایک جعلی پولیو مہم چلائی اور اسامہ بن لادن کا سراغ لگالیا۔ سرکاری سطح پر بھی اسی واقعے کو سچ مانا جاتا ہے اور ڈاکٹر شکیل آفریدی اسی جرم میں پچھلے 7 سال سے جیل میں قید ہیں۔

یاد رہے اس وقت کے امریکی صدر بارک اوبامہ گزشتہ برس اس بات کی ازخود تصدیق کرچکے ہیں کہ قوی امکان ہے کہ پاکستان کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم نہ ہو۔

امریکی صدر براک اوباما ایبٹ آباد میں کارروائی کا جائزہ لیتے ہوئے ۔ فائل فوٹو

امریکی صحافی سیمور ہرش اپنے ایک مضمون میں سابق امریکی صدر سے اتفاق کرتے نظر نہیں آتے۔ وہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا کو امریکی حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، تاہم وہ اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔

واضح رہے 2مئی 2011 کو ریڈار خراب ہونے کی وجہ سے امریکی ہیلی کاپٹروں کی آمد کا علم نہیں ہوسکا تھا۔

امریکا کو اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کی اطلاع کیسے ہوئی؟ اس پر پاکستانی سرکار کا مؤقف اوپر درج کرچکا ہوں، لیکن پاکستانی صحافی اعزاز سید جو کہ دہشتگرد اور انتہاء پسند تنظیموں پر رپورٹنگ کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، اپنی کتاب ’’دی سیکریٹس آف پاکستانز وار آن القاعدہ‘‘  میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے ایک سابق کرنل اقبال سعیدالدین دراصل امریکا کی معلومات کا اصل ذریعہ تھے۔

میری اپنی معلومات کے مطابق کرنل ریٹائرڈ اقبال سعیدالدین اس وقت پاکستان میں موجود نہیں اور ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایبٹ آباد ریڈ کے بعد فوراً پاکستان چھوڑ کر بمعہ اہل و عیال امریکا شفٹ ہوگئے تھے۔

اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کا علم کس کس کو تھا؟

اعزاز سید کا دعویٰ ہے کہ کالعدم حرکت المجاہدین کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خلیل نے اسامہ بن لادن سے آخری ملاقات 2010ء میں کی۔

سابق فوجی افسران اس حوالے سے خیال ظاہر کرتے ہیں کہ قوی امکان ہے کہ اسامہ کی موجودگی کا پاکستان میں لوگوں کو علم ہو لیکن اس حوالے سے کوئی مستند اطلاعات موجود نہیں۔

اسد درانی، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا علم ہو۔ وہ الجزیرہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ  اگر آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاع امریکا تک پہچائی تو اچھا کیا۔

اوپر لکھی گئی تمام باتیں لکھاری کی اپنی معلومات اور ایبٹ آباد ریڈ پر لکھی ہوئی کتابوں پر کھڑی ہیں، تاہم پاکستانی سرکار 7سال بعد بھی ایبٹ آباد واقعے پر چپ کا روزہ رکھے بیٹھی ہے۔

ایبٹ آباد واقعے کی تحقیقات کے لئے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں بنایا جانے والا تحقیقاتی کمیشن اپنی رپورٹ 2013ء  میں پاکستانی سرکار کو جمع کراچکا ہے لیکن برسوں بیت جانے کے باوجود بھی یہ رپورٹ تاحال منظرعام پر نہیں لائی گئی۔

موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ اس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے منظر عام پر نہیں لائی جاسکتی۔

اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، 2 مئی 2011ء کو کیا ہوا جب تک سرکاری سطح پر نہیں بیان کیا جاتا اسامہ بن لادن کے حوالے سے افواہیں گردش کرتی رہیں گی اور 3 مئی 2011ء کو جن سوالات نے ہمارے دماغوں میں جنم لیا وہ جوابات کے منتظر ہی رہیں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube