Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

پتے بکھر گئے

SAMAA | - Posted: Apr 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Apr 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: طاہر نصرت

لگتا ہے میاں صاحب کا بیانیہ چِت ہوگیا، جی ٹی روڈ سے شروع ہونے والے احتجاجی سفر کا سلسلہ گو کہ ابھی جاری ہے، جس نے باقاعدہ جلسے جلوسوں کی شکل اختیار کر رکھی ہے۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ سے لیکر ’’ووٹ کی عزت‘‘ تک کے نعرے خوب گونج رہے ہیں جس نے سیاسی تالاب میں ہلچل بپا کر رکھی ہے، مگر یہ ہلچل لوگوں کی سوچ کو ہائی جیک نہ کرسکی، عوام تو دور کی بات بڑے میاں صاحب کے اپنے بندے بھی اس اجڑے دیار کے مزید باسی بنے رہنا نہیں چاہتے۔

ہماری سیاست چونکہ موقع پرستوں اور مفادپرستوں کی سیاست رہی ہے، لوٹا کریسی ہو، عین انتخابات کے وقت پارٹی منشور سے اختلاف ہو، قائدین سے ناراضگیاں ہوں یا پھر کچھ اور مسائل، سیاسی رہنماء کسی بھی معاملے کو بنیاد بناکر اپنی جماعتوں کو خیرباد کہہ رہے ہیں اور متبادل کے طور پر یہ سیاسی فصلی بٹیرے کسی ہری شاخ پر جا بیٹھتے ہیں، آج کل ان پنچھیوں کی ہر دلعزیز جگہ تحریک انصاف کی منڈیر ٹھہری ہے۔

جنوبی پنجاب کے مستعفی ارکان قومی اسمبلی کے ایشو کو کوئی سیاست زدہ قرار دے یا موقع پرستی کی اعلیٰ مثال، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ شریفوں نے جنوبی پنجاب کے ساتھ ہمیشہ رویہ بیگانوں والا ہی رکھا، تخت لاہور پر واری جانے والے یہ بھول گئے کہ انہیں جنوبی پنجاب جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والوں نے بھی گزشتہ انتخابات میں سر آنکھوں پر بٹھائے رکھا، لیکن انہیں بدلے میں کیا دیا گیا؟

موجودہ صورتحال کو دیکھ کر بظاہر لگتا ہے کہ ن لیگ کے پتے بکھر چکے ہیں، 3، 3 بار اقتدار کے ایوانوں میں بسیرے کرنے والوں کو ذرا گریبان میں جھانکنا ہوگا، آخر وہ کیا وجوہات تھیں جن کے باعث ان کی ناقابل تسخیر کشتی بیچ منجدھار پھنس گئی، میاں صاحب ووٹ کو عزت دو کے نعرے اور زور شور سے لگائیں، عدلیہ مخالف بیانات میں تیزی لائیں، مخالفین کو بھی نہ بخشیں مگر ذرا یہ بھی تو سوچیں کہ جس ووٹ کو بنیاد بنا کر وہ ’’سیاست بازی‘‘ اور اس ہاری ہوئی جنگ کو جیتنے کی کوششیں کررہے ہیں، کیا انہوں نے کبھی ووٹر کو عزت دی؟، ووٹر تو بہت دور کی بات اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی ان کی ایک جھلک کیلئے ترستے رہ جاتے تھے۔

خوش آمد (چاپلوسی) بری بلا ہے یہ برسوں سے سنتے آئے ہیں اور پڑھتے آئے ہیں مگر پھر بھی اس کا خمار ایسا جادوئی ہے کہ سب پر چل جاتا ہے، گورنر جنرل غلام محمد سے لیکر یحییٰ خان تک اور پھر ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر نواز شریف تک سب اس کے طلسماتی اثر میں رہے ہیں۔

ن لیگ کے سابق رہنماء اور سابق اسپیکر گوہر ایوب خان نے اپنی کتاب ’’ایوان اقتدار کے مشاہدات‘‘ میں میاں صاحب کی اس کمزوری سے خوب پردہ اٹھایا ہے۔ 1993ء کا ذکر کرتے ہوئے انہوں ںے لکھا ہے کہ جن ایم این ایز کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کا افتتاح ہوتا وہاں تختی پر جلی حروف میں پہلا نام نواز شریف کا لکھا جاتا کیونکہ یہ احکامات انہیں وزیراعظم سے ہی ملے تھے اور بڑے میاں صاحب کو اپنے ’’مصاحبین خاص‘‘ نے یہ سمجھایا تھا کہ حضور ن لیگ تو ہے ہی آپ کے دم خم سے، نواز شریف ہیں تو پارٹی ہے، نواز شریف ہے تو مقبولیت ہے، جیت ہے، سرخروئی ہے، اقتدار ہے، سرکار ہے۔

صورتحال آج بھی نہیں بدلی، خوشامدیوں کے ٹولے میں رہنے کے نتائج سب دیکھ رہے ہیں جبکہ ن لیگ عمومی اور بڑے میاں صاحب خصوصی طور پر بھگت رہے ہیں۔ ووٹر کو عزت ملتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی، کچھ ن لیگی جغادری تو یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ مقتدر اداروں کو اوقات میں لانے کا ایک ہی طریقہ ہے، یعنی اپنے ورکرز کو باہر لاؤ، عوامی طاقت دکھاؤ اور برتری پاؤ، مگر عقل کے اندھے یہ بھول رہے ہیں کہ یہ قوم محبت میں اگر کسی کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر اوج ثریا تک لے جاسکتی ہے تو انہیں گرا کر پاتال تک بھی پہنچا سکتی ہے۔ تاریخ سے بے خبر ذرا گزرے کل کی داستانیں پڑھ لیں، کہاں گئے وہ نام نہاد بڑے بڑے لیڈران، جن کے دم سے زندگی میں رنگ تھا، کہاں گئے بھٹو؟ کہاں گئے معمر قذافی؟ کہاں گئے صدام حسین؟۔

میاں صاحب یہ بھول جائیں کہ اجڑے چمن پر پھر سے باد بہاری چل پائے گی، موسم گل کے اس شوخ موسم میں احتساب عدالت میں سماعت کے بعد موقع ملے تو کسی پیڑ کی ٹھنڈی چھاؤں میں آرام سے بیٹھ  کے بیتے دنوں کو یاد کریں، ان لمحوں کا ذکر کریں جن میں محبت کی کلیاں کھل اٹھی تھیں۔ اس پر سوچ لیں کہ کل کا محبوب آج کا معتوب کیوں ٹھہرا؟، آسمانی طاقتوں کا جلال ابھی کم نہیں ہوا، نواز شریف ان لمحات کو غنیمت سمجھ  لیں کیا پتہ آنے والے کل کی ہوائیں کچھ زیادہ ہی زہریلی ہوں؟، فلم کا جو ٹریلر چلا ہے اسی سے واضح ہے کہ پوری فلم کتنی بھیانک ہے؟، شام کے دھندلکے بتارہے ہیں کہ رات کی تاریکی کتنی مہیب اور کتنی گہری ہوگی؟، بس ایک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں، ابھی تو نااہلی کی دو دھاری تلوار چلی ہے، نیب ریفرنسز پر احتساب عدالت کا فیصلہ ابھی باقی ہے، اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ن لیگ اس دھچکے کو سہہ پائے گی؟۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube