Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

انورصاحب کاانورنامہ

SAMAA | - Posted: Apr 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Apr 24, 2018 | Last Updated: 4 years ago

پاکستانی شوبز کی معروف شخصیت انور مقصود صاحب جوکہ ایک ادیب ، شاعر ، افسانہ نگار ، لکھاری، دانشور ، مزاح نگار  ہیں،اکثر  سماجی اور معاشرتی  موضوعات پرطنزومزاح کےذریعےمعاشرے کو آئینہ دکھانے اور عام عوام میں شعور اُجاگر کرنے کے لیے انور نامہ کے نام سے  پروگرام  پیش کرتے ہیں ۔ اُن کی جانب سےکچھ روز قبل ایک انور نامہ جاری کیا گیا۔ جس میں انھوں نے قرضہ لیکر قوم کا پیسہ ہڑپ کرجانے والوں کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی کہ کس طرح سے مخصوص سوچ رکھنےوالاطبقہ ملک و قوم کاپیسہ لوٹ رہے ہیں۔انور مقصودصاحب نےاپنےانورنامہ میں ایک سندھی کا انٹرویو پیش کیا۔ جس کا مقصد شاید یہ ہی تھا کہ چند مخصوص افراد کس طرح سے  کروڑوں روپوں کا قرضہ لیکر دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن اُس قرضے کو واپس کرنے کےبجائے اُس قرضدار کو مردہ قرار دلواکر قرضہ معاف کروالیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قومی خزانہ کو خسارا برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لیکن افسوس انور مقصود صاحب کے مزاح نگاری کو سمجھنے کے بجائے چند افراد کی جانب سے اسے سندھی قوم پر تنقید کی نظر سے دیکھا گیا۔ انور مقصود صاحب کے انورنامہ جاری ہونے کے بعد سے جس طرح سے اُنکی تضحیک اور تذلیل کی گئی، مغلظات اور گھٹیا لفظوں کا استعمال کیا گیا،اُس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔سماجی رابطےکی ویب سائٹس پرانورمقصود صاحب کو سخت  تنقید کا نشانہ بنائے جانے،اس میں لسانیت کوہوا دینے اور غیرضروری طور پر شور اُٹھنےکے بعد جناب انور مقصود صاحب کو اپنے انور نامہ میں ایک سندھی کا انٹرویو پیش کرنے پر معذرت کرنی پڑی۔ انور مقصود صاحب  نے اپنے پروگرام انور نامہ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو سندھی سمجھتے ہیں اور ان کا  کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں،سندھی کاانٹرویومحض مذاق اور مزاح پر مبنی پروگرام تھا،تاہم اس مذاق سےدل آزاری ہوئی ہوتو معافی کا طلب گار ہوں ۔ انور مقصود صاحب کی جانب سے وہ وڈیو ہٹادی گئی ہے۔حالانکہ اُن کامقصدکسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ جس کا اظہار انھوں نے اپنے وڈیو پیغام میں بھی کیا۔ لیکن انور مقصود صاحب نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ناکردہ عمل کی معافی مانگ کر ہمارے معاشرے میں بسنے والے  باشعور عوام کےلیے سوال چھوڑدیا ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں حقیقت بیان کرنا یا آئینہ دکھانا بہت بڑا گناہ ہے ؟؟؟  جو لوگ حقیقت بیان کرنے پر شور مچارہے ہیں، تو اب کیا انور مقصود صاحب کی معذرت کے بعد حقیقت تبدیل ہوسکتی ہے؟نہیں۔ اگر کسی کو انور نامہ کے ہروگرام پر اعتراض تھا تو اس پر اعتراض شائستہ انداز میں بھی کیا جاسکتا تھا۔ اعتراض کرنے یا اختلاف کرنے سے میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو کوئی تکلیف ہوئی ہو۔ لیکن اعتراض اُٹھانے والوں نے جن لفظوں کا سہارا لیا اس سے انور مقصود صاحب سے محبت کرنے والے مداحوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ لہذا انور نامہ پر تنقید کرنے والوں کو  ناصرف انور مقصود صاحب سے بلکہ اُن کے مداحوں سے بھی معافی مانگنی چاہیے۔

 انور مقصود صاحب نےانور نامہ میں جو کچھ پیش کیا وہ ایک حقیقت ہے۔ اگر آپ نہیں ماننے کو تیار تو نہ مانیں۔یہ سب افسانوی نہیں بلکہ سچائی پرمبنی ہے۔رہی بات انور مقصود صاحب کےانورنامہ کی توآپ کواگرطنزومزاح کی سوجھ بوجھ کاعلم نہیں توکم ازکم کسی سےپوچھ لیجیے کہ یہ کیا ہوتا ہے۔ لیکن جس کےبارے میں کچھ معلوم نہ ہو،اس کےحوالےسےغلط بیانی کرکے نفرتیں پھیلانے کی کوشش نہ کریں۔انور مقصود صاحب ہمارا فخر ہیں۔جولوگ انور نامہ ایک سندھی کا انٹرویو پر انور مقصود صاحب کی شخصیت کو نشانہ بناکر سمجھتے ہیں کہ اس طرح سےاُن کی عزت واحترام میں کوئی کمی ہوجائے گی تووہ اپنی اس سوچ پر نظرِثانی کریں۔ خدارا قوموں میں نفرتیں پیدا کرنے کی کوشش کرنے کےبجائے سندھ کے عوام میں شعور اُجاگر کرنے کی کوشش کی جائے تو اچھا ہے۔ تاکہ سندھ میں جو لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری ہے اُسے روکا جاسکے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube