Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

موسمی تبدیلیوں کے خطرات اورپاکستان

SAMAA | - Posted: Apr 19, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Apr 19, 2018 | Last Updated: 2 years ago

تحریر: ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور

کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے لیکن اس سے بھی بڑا خطرہ ہمارے اوپر منڈلا رہا ہے اور وہ ہے موسمی تبدیلی کے اثرات جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ان میں بارشوں کا زیادہ ہونا ،بارشوں کا نہ ہونا،دھند اور سموگ کا بڑھنا وغیرہ موسمی تبدیلیاں ہیں تمام ادارے وارننگ دے رہے ہیں ان موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے کیونکہ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق ان موسمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر بھارت اور دوسرے نمبر پر پاکستان ہے جبکہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر فلپائن اور بنگلہ دیش ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ زیادہ بارشوں کی وجہ سے سیلاب آ رہے ہیں جن سے ہر سال جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے سیلاب کی روک تھام کے لئے ابھی تک بہتر انتظام نہیں کیا گیا اس کے علاوہ خشک سالی سے فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے رپورٹ کے مطابق آنے والی تین دہائیاں ان مندرجہ بالا ممالک کے لئے خطرہ کاا لارم بجا رہی ہیں اگر ان ممالک کی حکومتوں نے مناسب بندو بست نہ کیا تو خشک سالی اور سمندر کی سطح میں اضافہ کئی مسائل کو جنم لے سکتا ہے آج سے کچھ ماہ پہلے میں نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں میں نے واضح کیا تھا کہ کچھ سالوں کے بعد سطح سمندر میں اضافٖہ ہو گا جس سے کراچی کوخطرہ لاحق ہے ماہرین کے مطابق 2060 تک کراچی زیر آب آ سکتا ہے اس کی وجہ پاکستان کے شمال میں درجہ حرارت میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے وہاں موجود گلیشیئرز پگھل رہے ہیں اور سطح سمندر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اگر ان تمام باتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے تو پھر ان ممالک خصوصاً پاکستان سے بہت سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے رپورٹ کے مطابق افریقہ کے تمام صحارا ممالک 8 کروڑ 60لاکھ ، جنوبی ایشیا ء سے 4 کروڑ اور لاطینی امریکہ میں ایک کروڑ ستر لاکھ افراد ان موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے اپنے اپنے ممالک سے نقل مکانی کر سکتے ہیں ایسے افراد جو موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ہجرت کرتے ہیں انہیں کلائمیٹ ریفیوجیز کہا جاتا ہے جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے یہ موسمی تبدیلیاں ان ممالک کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہیں رپورٹ کے مطابق سڑسٹھ ممالک سے اعداد و شمار لے کر جن میں درجہ حرارت کا اتار چڑاؤ ،موسمی تبدیلی اور دیگر عوامل کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ مرتب کیا گیا ہے اور ان ممالک کو خبر دار کیا گیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اگر ان پر قابو پانے کی کوشش نہ کی گئی تو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گاانہی موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ان ممالک میں پانی کی سطح بھی کافی نیچے چلی گئی ہے اور آنے والے وقتوں میں پانی کی کمی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے پانی کی کمی کی وجہ سے ہی خشک سالی کا خطرہ بڑھ جائے گا اور خشک سالی سے بڑھتی آبادی کے لئے خوراک کا مسئلہ پیدا ہو گا جسے پورا کرنا نا ممکن ہو جائے گا اس لئے ہمیں ابھی سے اس بارے میں فیصلے کرنا ہوں گے تا کہ ہم ان موسمی تبدیلیوں سے اپنے ملک اور عوام کو محفوظ رکھ سکیں ایک رپورٹ کے مطابق اب تک 26 ملین لوگ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور 2050 تک 600 ملین تک لوگ نقل مکانی کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ گرمی کی شدت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے اور آنے والے سالوں میں مزید اضافہ ہو گا اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے بڑی وجہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے جو فضا کو آلودہ کر رہی ہیں اس کے علاوہ قدرتی گیس ،حیاتیاتی ایندھن،تیل اور کوئلہ وغیرہ سے بھی ہماری فضا میں مضر صحت اثرات پیدا ہو رہے ہیں کوئلہ قدرتی گیس کی نسبت فضامیں 70% زائد کاربن ڈائی اکسائیڈ چھوڑتا ہے جس سے ماحول تباہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ ماحول کو آلودہ کرنے میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ،جنگلات کی کٹائی ،بلند و بالا عمارتیں اور بڑھتی ہوئی آبادی بھی اثر انداز ہو رہی ہے ۔پوری دنیا موسمی تبدیلیوں کو دہشت گردی سے بڑا مسئلہ قرا دے رہی ہے لیکن افسوس پاکستان نے ابھی تک کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں کیا آنے والے خطرات کو دیکھتے ہوئے ہمیں ابھی سے کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا تاکہ ہم ان موسمی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہو سکیں گے آنے والے وقتوں میں پاکستان کو اپنی زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے پانی کی کمی جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستانی دریاؤں پر بھارت نے ڈیم بنانے شروع کر دئیے ہیں اسے عالمی سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے اگر بارشوں کے پانی کو ہم نے محفوظ نہ کیا یا کوئی نیا ڈیم نہ بنایا تو پھر ہمیں آنے والی نسلیں کھبی معاف نہیں کریں گی۔

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube