ہوم   >  بلاگز

بے بس نسواں کمیشن

SAMAA | - Posted: Apr 17, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 17, 2018 | Last Updated: 2 years ago

خیبر پختونخوا حکومت اس بات کا کریڈٹ لینے میں خوشی محسوس کرتی ہے کہ دیگر صوبوں کی نسبت یہاں وقار نسوان کمیشن (خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن ) سب سے زیادہ باختیار ہے اور صوبائی حکومت کے دعوے کو مزید تقویت اس وقت ملی جب گزشتہ برس دسمبر میں وزیر اعلیٰ ہاﺅس میں منعقدہ تقریب کے دوران اس صوبائی کمیشن کی ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ بھی کیا گیا اسی تقریب میں کمیشن نے تقریباہر ضلع کیلئے ایک کمیٹی تجویز کر دی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے ہر کمیٹی کی مجوزہ چیئر پرسن کو سرٹیفکیٹ دے دئے گئے ۔ سب کچھ بہت بہترین ہی چل رہا تھا جب بیوروکریسی نے اپنی ٹانگ اڑادی۔ صوبائی اسمبلی نے 2016میں جس قانون کے تحت وقار نسواں کمیشن کو خود مختار حیثیت دی تھی اسی میں یہ شق بھی شامل تھی کہ کمیشن ضلع کی سطح پر صرف کمیٹیاں تجویز کرے گا ان کمیٹیوں کی تشکیل یعنی باقاعدہ اعلامیہ محکمہ سماجی بہبود جاری کر گا اور اسی شق کا استعمال کرتے ہوئے تقریبا چار ماہ کے بعد بھی ان مجوزہ کمیٹیوں کے اعلامیے جاری نہیں کئے جاسکے لہٰذا عملی طور پر یہ کمیٹیاں اس وقت اپنا وجود ہی نہیں رکھتی ۔


مجوزہ ہر کمیٹی کیلئے سالانہ 10لاکھ روپے کا خرچہ وقار نسواں کمیشن نے تجویز کیا ہے اور یہ تجویز اب محکمہ خزانہ کو بھی نہیں پسند تو گویا کمیشن کے افسران سے محکمہ سماجی بہبود اور خزانہ کے دفاتر کے چکر لگوائے جا رہے ہیں خط و کتابت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور جان بوجھ کر کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں، اب جب نئے مالی سال کیلئے بجٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے تو اگر ان کمیٹیوں کے اعلامیہ میں مزید 20روز کی تاخیر کر دی گئی تو سمجھیں کہ بات اگلے برس ہی مکمل ہو گی کیونکہ مئی کے پہلے ہفتے میں صوبائی حکومت اپنا آخری بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے کمیٹیوں کے اخراجات کیلئے اس میں رقم مختص نہ کی گئی تو پھر اگلے برس کے بجٹ میں ہی کچھ ممکن ہو سکے گا۔


صوبائی کمیشن کا اپنا سالانہ خرچہ ایک کروڑ روپے سے زائد ہے وہ تو کمیشن کی خوش قسمتی ہے کہ ان کی چیئر پرسن نیلم طورو خود تحریک انصاف کی سرگرم کارکن ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور عمران خان تک انکی رسائی آسان ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کمیشن کا سالانہ کا خرچہ کسی نہ کسی طریقے سے جاری کروادیتی ہیں تاہم ضلعی کمیٹیوں کا مسئلہ اب گھمبیر ہوتا جا رہا ہے اور نیلم طورو صاحبہ نے اب بیوروکریسی کی قیادت یعنی چیف سیکرٹری کے ساتھ رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے امید ہے کہ یہ مسئلہ پی ٹی آئی دور میں ہی حل ہو جائے گا بصورت دیگر مخالفین یہی طعنہ دیں گے کہ خواتین اور نوجوانوں کے نام پر ووٹ مانگنے والوں نے ایسا کمیشن بنایا جسے اپنے سالانہ اخراجات کیلئے بھی در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube