ڈیٹا کی گیم

salaar sulaman
April 14, 2018

بلاگر: سالار سلیمان

اگلا دور ڈیٹا کا دور ہے۔ جس کے پاس جتنا ڈیٹا ہوگا، وہ ویسی شاندار گیم کھیلنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ اس کی ایک مثال کیمبرج اینالیٹیکا ہے۔ یہ ایک امریکی کاروباری کی فرم ہے جس کا کام تجارتی اور سیاسی بنیادوں پر ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کا رحجان کا مطالعہ کرنا ہے۔ اِن پر الزام یہ ہے کہ وہ مطالعے اور تحقیق کے بعد صارفین کے رحجانات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ایک متنازعہ کمپنی ہے اور آج کل تفتیشی مراحل سے گزر رہی ہے۔ اس کمپنی پر الزام ہے کہ اِ س نے 2016ء میں ٹرمپ کی ٹیم کو تقریباً 9 کروڑ امریکیوں کا ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ یہ ڈیٹا فیس بک سے چرایا گیا تھا اور ٹرمپ کی کامیابی میں اس ڈیٹا کے تجزیے کا بنیادی کردار ہے۔ کمپنی نے 2 سالوں میں یہ ڈیٹا اکٹھا کیا تھا۔ اس کیلئے سویت میں پیدا ہونے والے امریکی محقق الیگزینڈر کوگن کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اُس نے 2014ء میں ایک فیس بک ایپ ڈیزائن کی۔ اس کیلئے کیمبرج اینالیٹیکا نےکوگن کو 8 لاکھ ڈالرز ادا کئے۔ یہ ایپ ابتدائی طور پر 3 لاکھ لوگوں نے استعمال کی، استعمال کرنے والوں کو اِس کی معمولی قیمت شاید 2 ڈالر فی صارف بھی ادا کئے گئے۔ اس ایپ میں مختلف سوالات تھے، لوگ اُن کے جوابات دیتے تھے اور آخر میں غالباً اُن کا پرسنالٹی تجزیہ سامنے آ جاتا تھا۔ یہ بظاہر ایک سروے کی طرح سے تھا، لیکن سادہ کارروائی کے پیچھے پوری گیم کار فرما تھی۔

سن 2007ء سے فیس بک نے آؤٹ سائڈ ڈویلپرز کو پرائیوٹ ایپ فیس بک کے پلیٹ فارم سے استعمال کی اجازت دے رکھی تھی۔ کوگن نے بھی اسی بات کا فائدہ اُٹھایا اور انتہائی مبہم الفاظ میں صارفین سے اُن کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی کی اجازت لی۔ امریکی قوانین کے مطابق آپ کسی کا ذاتی ڈیٹا اُس کی واضح اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ برطانیہ میں بھی یہی قانون نافذ العمل ہے۔ کیمبرج اینالیٹیکا اور کوگن نے مل کر صارفین سے دھوکہ سے ڈیٹا حاصل کیا کیونکہ کوگن کی ایپ کہیں بھی یہ ظاہر نہیں کرتی تھی کہ حاصل شدہ ڈیٹا کا استعمال ہو اس طرح سے  کریں گے۔

اصل گیم یہاں سے شروع ہوئی، جب اس ایپ نے استعمال کرنے والے کے فیس بک فرینڈز کا ڈیٹا بھی چوری چھپے حاصل کیا۔ ابتدائی مرحلے میں 3 لاکھ سے 52 لاکھ اور پھر 2 کروڑ سے ہوتے ہوئے 5 کروڑ اور حتمی طور پر 9 کروڑ لوگوں کا ڈیٹا کوگن کی اس ایپ نے چوری کرکے کیمبرج اینالیٹیکا کو فراہم کیا۔ ڈیٹا کے حصول کے بعد کیمبرج اینالیٹیکا نے اس تمام ڈیٹا کا 2015ء کے وسط تک باریکی سے تجزیہ کیا۔ سائیکوگرافک ٹارگٹنگ اینڈ ماڈلنگ سے اس ڈیٹا نے بہت سی اہم معلومات دیں، جس سے امریکی ووٹرز کے رحجانات معلوم ہوئے۔ ٹرمپ کی ٹیم نے براستہ روس یہ ڈیٹا کسی نہ کسی طرح حاصل کیا، اُس کا ایک مرتبہ پھر سے تجزیہ ہوا، امریکی عوام کی ترجیحات اور رحجانات معلوم کئے گئے اور پھر اِن تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرمپ کی ٹیم نے الیکشن مہم کو ترتیب دیا۔ یہ ڈیٹا ہی تھا کہ جس نے ٹرمپ جسے انسان کو بھی جتوا دیا اور وہ بھی ایسا خبطی انسان جس کو خود اپنے ہارنے کا یقین تھا۔ یہ ایک بہت بڑا اپ سیٹ تھا، جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ فتح کوئی معمولی فتح نہیں تھی لہذا محققین اس انہونی کی حقیقت جاننے میں جت گئے اور آخر کار کیمبرج اینالیٹیکا تک پہنچ گئے۔ اس کے بعد امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز اور لندن کے ایک روزنامے نے یہ نیوز بریک کر کے فیس بک کو اور پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا۔ اس ایک اسکینڈل کی وجہ سے فیس بک کو ایک ہفتے میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا جہاں اس حصص کی قیمت میں19 فیصد کمی بھی ہوئی۔

تحقیقات میں کیمرج اینالیٹیکا کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اُس نے تمام تر ڈیٹا ضائع کر دیا لیکن اِن کی اس بات پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کوگن اپنی کمپنی سمیت انڈر گراؤنڈ ہے اور فیس بک کا سی ای او اپنا پلیٹ فارم استعمال ہونے اور ڈیٹا کی چوری کے معاملے میں اس وقت امریکی سینیٹ میں پیشیاں بھگت رہا ہے۔ مارک نے کانگریس کو یہ یقین دلانے کی کوشش بھی کی ہے کہ اس کی ٹیم مزید محنت سے جعلی اکاؤنٹس اور کیمبرج اینالیٹیکا کے ماڈلز کو روکیں گے۔ ابھی یہ کیس جاری ہے۔ ٹرمپ اور اس کی ٹیم اب کیا کرے گی، اس کا فیصلہ ہم امریکی عوام، عدالت اور اُس کی ٹیم پر چھوڑتے ہیں۔ لیکن مارک نے پاکستانی انتخابات کے حوالے سے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہارکیا ہے ۔ ہم پاکستانی اوسطاً 6 گھنٹے سوشل میڈیا کو دیتے ہیں۔ ایسے کئی ماڈلز یہاں بھی ایکٹیو ہیں جو کہ ایسے ڈیٹا کو انتخابات میں استعمال کرنے کا فن جانتے ہیں۔ اگلی گیم ڈیٹا کی ہے اور جس کے پاس جتنا ڈیٹا ہوگا، فاتح وہی ہوگا۔

اخلاقیات؟ رہنے دیجئے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور سیاست تو محبت بھی ہے اور جنگ بھی ہے۔