تجزیہ: روسی جاسوس کا معاملہ،کیا ہم عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہےہیں؟

Samaa Web Desk
April 13, 2018

کراچی: روس کی برطانیہ ،امریکا ،یورپی ممالک اور مشرقی وسطی میں مداخلت خطرہ بنتی جارہی ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات میں الزام لگا کہ روس نے مداخلت کی تھی ، اب اس کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ یورپی یونین اور روس کے تعلقات بگڑنےکی وجہ یوکراین میں روس کی مداخلت کو قرار دیاجارہاہے۔

شام کو جنگ میں دھکیلا گیا اور یہ جنگ روسی مداخلت کےبعد شدت اختیار کرگئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ایک ٹویٹ کیاکہ امریکا اوروس کے درمیان تعلقات انتہائی تشویش ناک سطح پر آچکےہیں۔ انھوں نے مزید بتایاکہ سرد جنگ کے دوران بھی دونوں ممالک میں اس قدر کشیدہ تعلقات نہیں تھے۔

پچھلے ماہ ، سابق روسی جاسوس سرگئے سکریپال اور ان کی بیٹی یولیا سکریپال پر قاتلانہ حملےکےبعد ،روس اور برطانیہ میں تعلقات بھی کشیدہ ہوئے۔ سکریپال روس کا سابق فوجی جاسوس تھا اور بعد میں وہ ایم آئی سکس کےلئے ڈبل ایجنٹ بن گیاتھا۔  اس پر الزام تھاکہ اس نے ایم آئی سکس کےلیے روسی جاسوسوں کو پکڑنے کی منصوبہ بندی کی اور بعد میں یہ الزام درست ثابت ہوا۔

روس میں سزا پانےکےبعد اس کو قیدیوں کے تبادلے کی دوران برطانیہ کےحوالے کردیاگیاتھا جہاں اس پر پچھلےماہ حملہ کیاگیا۔ روس کی جانب سے تردید کی گئی اور انھیں بےبنیاد کہاگیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روسی مندوب نے دھمکی دی تھی کہ برطانیہ آگ سے کھیل رہا ہے اور اس کو افسوس ہوگا۔

اس کشیدگی کے بعد برطانیہ اوراس کے اتحادی ممالک نے روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا جبکہ روس نے بھی کئی غیرملکی سفارت کاروں کو واپس بھیج دیا۔

سماءکےپروگرام آواز میں شہزاد اقبال سے بات کرتےہوئے معید یوسف نےعالمی امن کو درپیش خطرات کےحوالے سے بتایا۔ انھوں نےبتایاکہ ماضی میں جاکر عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلےکی فضاتھی۔ ان کے درمیان تنازعات اور مفادات ہوتےتھے۔ اب بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ پیوٹن اپنا اثررسوخ ان علاقوں میں لاناچاہ رہے ہیں جہاں سے روس نکل چکاتھا۔

معید یوسف نے مزید بتایاکہ اگرچہ عالمی جنگ کی صورتحال درپیش نہیں، البتہ عالمی طاقتوں کے درمیان پراکسی وار کی صورتحال درپیش ہے۔

 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.