کراچی کا مقدمہ

Samaa Web Desk
April 13, 2018
 

 

تحریر: فضل الہیٰ

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جو ملک کو 70 فیصد ریوینیو کما کر دیتا ہے۔ کراچی وہ شہر ہے جو بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب اور قومیت اپنے دامن میں پناہ لینے والوں کو ترقی کے مواقع دیتا ہے،اس لئےکراچی کو 'منی پاکستان' بھی کہا جاتا ہے۔ کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت تھا اور یہ وہی شہر ہے جہاں قائداعظم محمد علی جناح، قائد ملت لیاقت علی خان اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی آخری آرام گاہیں ہیں،اس لئےکراچی کوقائدکاشہراور شہر قائد بھی کہا جاتا ہے۔ اگر کسی بھی کراچی والے سے پوچھا جائے کہ کیا اس کراچی کو وہ توجہ دی گئی جو اس شہر کا حق تھا؟ تو جواب ملے گا 'بالکل نہیں'۔ جب کسی انسان کے ساتھ زیادتی ہو جائے یا جائز حق نا ملے تو وہ انصاف کے لئے اور اپنے حق کے لئے عدالت سے رجوع کرتا ہے۔ اسی طرح کراچی کے منتخب نمائندوں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ کراچی کے مقدمے کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلی میں پیش کریں اور کراچی والوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کریں مگر کراچی کے منتخب نمائندے کراچی کا مقدمہ ہار گئے۔ کراچی کو اس کے جائز حق سے محروم رکھا گیا مگر کراچی کے منتخب نمائندے خاموش رہے۔

ایم کیو ایم یہ دعوی کرتی ہے کہ کراچی کا مینڈیٹ ان کے پاس ہے۔ کل تک یہ حقیقت تھی مگر اب کراچی کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم اب تقسیم ہوچکی ہے۔ ایم کیو ایم کے منتخب نمائندے پی ایس پی میں شامل کیوں ہو رہے ہیں کیونکہ ایم کیو ایم منی پاکستان 'کراچی' کا مقدمہ لڑنے کے لئے تیار نہیں۔ کراچی کے شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، جگہ جگہ گندگی کا ڈھیر ہے اور روشنیوں کا شہر اب کچرے کا شہر بن چکا ہے مگر ایم کیو ایم کراچی کا مقدمہ لڑنے کے بجائے بہادر آباد اور پی آئی بی گروپ میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف عدالت میں 'کنوینر شپ' کا مقدمہ لڑ رہی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ایم کیو ایم (بہادر آباد) اور ایم کیو ایم (پی آئی بی) مل کر کراچی والوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف اور کراچی کا مقدمہ لڑنے کے لئے عدالت سے رجوع کرتے۔ مردم شماری میں کراچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ ایم کیو ایم نے حلقہ بندیوں پر اعتراضات جمع کروائے مگر کراچی کی ساڑھے تین کروڑ آبادی کو کم کر کے ڈیڑھ کروڑ کر دینے پر ایم کیو ایم خاموش رہی۔ پیپلز پارٹی نے بھی حلقہ بندیوں کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا مگر کچھ روز بعد اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی۔

موجودہ مردم شماری کے خلاف اگر کسی نے صحیح معنوں میں آواز اٹھائی تو وہ سینیٹر سید فیصل رضا عابدی ہیں جنہوں نے کراچی شہر کی ساڑھے تین کروڑ آبادی کو ڈیڑھ کروڑ کرنے پر موجودہ مردم شماری کو رد کیا اور کراچی کا حقیقی فرزند ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ کراچی کا اصل مسئلہ مردم شماری ہے کیونکہ موجودہ مردم شماری میں کراچی کے دو کروڑ لوگوں کو شناخت سے محروم کیا گیا۔ کراچی کے دو کروڑ شہریوں کی شناخت مٹانے والا سیاسی جادوگر کون ہے؟ اس سمیت موجودہ مردم شماری نے بہت سے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ موجودہ مردم شماری میں جن دو کروڑ لوگوں کو شناخت سے محروم کیا گیا انہیں اپنے حق کے لئے اپنا مقدمہ لڑنا چاہئے یا کم از کم اس شخص کا ساتھ دینا چاہئے جو ان تمام لوگوں کا مقدمہ تن تنہا لڑ رہا ہے۔ مورخ لکھے گا جب کراچی کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم کے دھڑے ایم کیو ایم کی سربراہی کے لئے لڑ رہے تھے اس وقت سید فیصل رضا عابدی 'کراچی کا مقدمہ' لڑ رہے تھے۔