Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

سیاسی کھچڑی

SAMAA | - Posted: Apr 13, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 13, 2018 | Last Updated: 4 years ago

پاکستان کے سیاسی محاذ پر ہل چل مچی ہوئی ہے۔ نوازشریف کےخلاف عائد مقدمات کے فیصلے جلد آنےکی توقع ہے۔ موجودہ حکومت بھی آخری چالیس روزپورے کررہی ہے۔ نگراں حکومت کےلیے بھی مشاورتی عمل جاری ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے جلسے اور اکھاڑ پچھاڑ کےعمل سے گزررہی ہیں۔ ان سب کے علاوہ نیا بجٹ بھی دو ہفتے میں آنےوالا ہے۔ پاکستان بلاشبہ انتہائی اہم دوراہےپر کھڑاہے۔ نئی حکومت کےحوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں آئندہ چار ماہ ملک کےاگلے 5 برسوں کی حکمت عملی کاتعین کردیں گے۔پاکستان کی سیاسی جماعتیں الزام تراشی سمیت تمام تر ہتھکنڈوں  کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ بظاہرکسی ایک جماعت کا پلہ بھاری دکھائی نہیں دیتا مگر بڑھکیں مارنے میں ہرکوئی چار ہاتھ آگے دکھائی دیتاہے۔ ایک دوسرے کی عزت افزائی کےلیے عجیب القابات سمیت نیچ حد تک الفاظ استعمال کئےجارہےہیں۔ یہ سب کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ مگر دوسرےکونیچادکھانےکےلیے کوئی موقع چھوڑنےکوتیار نہیں۔ ادھر نیابجٹ موجودہ حکومت کےپاس آخری ترپ کاپتہ ہوگا۔ بجٹ کےحوالےسے اپوزیشن کاکہناہےکہ نون لیگی حکومت صرف چار مہینےکابجٹ بناسکتی ہے اوراس سے آگےکابجٹ بنانا نئی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ تاہم نون لیگ کی پوری کوشش ہوگی کہ جس حد تک ہوسکےعوام دوست بجٹ بنائے تاکہ انتخابی مہم میں دھڑلےکےساتھ عوام میں جاکرووٹ مانگےجاسکیں ۔ اگرچہ موجودہ لوڈ شیڈنگ کے بحران نے نون لیگی حکومت کو کچھ پریشان کیاہےاور وہ دعویٰ جو ان کےرہنما کئی ماہ سے کررہے تھے وہ سب دھرے کےدھرےرہ گئے۔بجلی کا بحران کسی صورت حل ہوتادکھائی نہیں دےرہا۔

اس کےعلاوہ نون لیگ میں بھی نوازشریف کاکردار اہمیت اختیارکرتاجارہا ہے۔ اگرنوازشریف کو حالیہ مقدمات میں کوئی سنگین سزاہوتی ہےتو کیا اس کا اثرنون لیگ کی انتخابی مہم پرپڑسکتاہے، اس کا دارومدار آنےوالےوقت پرہوگا۔ نوازشریف اپنی تقاریر میں اعلی عدلیہ کو کھل کرنشانہ بناتےرہےہیں۔ نوازشریف نے حالیہ دنوں میں جب بھی میڈیاسے بات کی،اس میں عدلیہ کی تضحیک کاکوئی نہ کوئی پہلوظاہررہا۔نوازشریف کے ساتھ مریم نواز نےبھی عدلیہ کےفیصلوں پر کڑی تنقید کی۔نوازشریف خاندان کی جانب سے عدلیہ پر اس قسم کی بیان بازی مسقتبل میں مشکل کاسبب بن سکتی ہے۔ ادھر عمران خان بھی میں نہ مانوں کی ضدپر قائم ہیں۔ انھوں نے اگلے انتخابات کےلیے تیاریاں شروع کرنےکےبلند بانگ دعویٰ تو کئے مگر اپنے صفوں میں نئے چہروں کےبجائے وہی مسترد کئے گئے سیاست دانوں کو لئےجارہےہیں۔ عمران خان زمینی حقائق پر سیاست کےبجائے مفروضوں اور الزام تراشی کی سیاست کررہے ہیں۔ ان کے لب و لہجے میں کہیں سے بھی یہ ظاہر نہیں ہوتاکہ وہ انتہائی قابل اور پڑھےلکھے شخص ہیں۔ عمران خان کےلیےلازم ہےکہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھتےہوئے مخالفین کوللکاریں اوراپنی تقاریر میں تہذیب کادامان ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

آصف زرداری کےلیے یہ سیاسی تدبرکاامتحان ہوگا۔انھیں اپنے کارڈز ہوشیاری سے کھیلناہونگے۔نوازشریف کےسیاسی منظرنامےسے آؤٹ ہونےکی صورت میں آصف زرداری کا پلہ بھاری ہوگا۔ آصف زرداری نے اگر کمال مہارت سے اپنے کارڈز چلےتوپنجاب بھی انھیں مل سکتاہے۔ تاہم اس کےلیے مقامی سطح سے پیپلزپارٹی کواٹھاناہوگا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ بھٹو کارڈ اور بےنظیرکےنام پراب زیادہ ووٹ نہیں مل سکتے۔قیادت میں موجود زیرک سیاست دانوں کوآگے آکر پارٹی کوفرنٹ سے لیڈ کرناہوگا۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد،متحدہ مجلس عمل کولئےبھی یہ وقت کسی چینلج سے کم نہیں۔ تمام مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پراکھٹاہوکرسیاسی جماعتوں کو مشکل صورتحال میں ڈال سکتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں متحدہ مجلس عمل کےلیے یہ ضروری ہےکہ وہ اپنی اہمیت کااحساس دلایا اور قومی اسمبلی میں قابل ذکرسیٹیں حاصل کرنےمیں کامیاب ہو۔ پاکستانی سیاست آئندہ چارماہ میں نیا رخ اختیار کرلے گی۔ ملک میں جہاں نیا وزیراعظم ،کابینہ اور دیگر رہنماء آئیں گے وہیں ملک میں نیاصدر بھی ستمبر میں آجائےگا۔پاکستانیوں کوقومی امید ہےکہ ابھی جوسیاسی کچھڑی پک رہی ہےاس کا مزہ یقینی طورپرایسا ہوگاجوعوام کو پسند آجائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube