Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

نواز شریف کے قول و فعل میں تضاد کیوں؟

SAMAA | - Posted: Apr 12, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 12, 2018 | Last Updated: 4 years ago

 

تحریر: عبداللہ

ووٹ کو عزت دو، یہ نعرہ دن با دن مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نااہلی کے بعد سے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ مریم نواز بھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہی ہیں اور اپنے والد کو سیاسی طور پر بھرپور سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔ انسان کو تبدیلی کا یا کسی بھی اچھے عمل کا آغاز اپنی ذات سے شروع کرنا چاہئے،اس لئے میاں صاحب آپ بھی ووٹ کو عزت دو۔ پہلے وزارت عظمی سے نااہل ہوئے پھر پارٹی صدارت سے نااہل ہوئے لیکن اب بھی وہ مسلم لیگ ن کے سپریم لیڈر ہیں اور مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل نے میاں محمد نواز شریف کو پارٹی کا تاحیات قائد مقرر کر دیا ہے۔ میاں صاحب جب وزیراعظم تھے تو عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے تھے۔ میاں نواز شریف کے عمل سے یہ تاثر ابھرتا تھا کہ وہ صرف پنجاب کے وزیراعظم ہیں کیونکہ جب وہ وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان تھے اس وقت انہوں نے سندھ، خیبر پختونخوا، فاٹا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو نظر انداز کیا اور وہاں کے ووٹروں کی توہین کی۔ نااہلی کے بعد میاں صاحب کو ووٹ کی عزت یاد آئی ہے مگر اب بھی ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ محسوس ہوتا ہے جیسے میاں نواز شریف صرف سینٹرل پنجاب یا ن لیگ کے ووٹ کی عزت چاہتے ہیں۔

میاں صاحب اگر واقعی ووٹ کو عزت دلانے نکل پڑے ہیں تو سب سے پہلے انہیں خود تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ووٹ کی عزت کرنی چاہئے۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے اراکین نے سینیٹرز کو منتخب کیا اور سینیٹرز کے ووٹ سے سینیٹ کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوا تو میاں نواز شریف نے ووٹ کی عزت کرنے کے بجائے مخالف پارٹی کے منتخب نمائندوں کو چابی والے کھلونے قرار سے تشبیہ دی۔ میاں صاحب کو یہ دوہری پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ ووٹ کے تقدس کی زبانی کلامی جنگ لڑنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف کا عمران خان سے موازنہ کیا جائے تو نواز شریف کا پلڑا بھاری رہے گا کیونکہ انہوں نے اگر پارلیمنٹ کی عزت نہیں کی تو پارلیمنٹ کی توہین بھی نہیں کی۔ توہین پارلیمنٹ کے مرتکب اور پارلیمنٹ پر بار بار لعنت بھیجنے والے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو رضا ربانی، فرحت اللہ بابر اور اعتزاز احسن جیسے لوگوں سے کچھ سیکھنا چاہئے جنہوں نے ہمیشہ پارلیمنٹ کا وقار بلند کیا۔ اصولی طور پر پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والے اراکین پارلیمنٹ عمران خان، شیخ رشید اور دیگر کی رکنیت معطل کر دینی چاہئے۔ اگر ایسا آئینی و قانونی طور پر ممکن نہیں تو مسلم لیگ ن کو توہین عدالت کی طرز پر توہین پارلیمنٹ کا بھی قانون بنانا چاہئے تب جا کر لوگ میاں صاحب اور انکی جماعت کا بھروسہ کریں گے کہ واقعی وہ ووٹ کی عزت اور پارلیمنٹ کے تقدس کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ کرنے والے میاں نواز شریف عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اپنی ہی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو ملاقات کا وقت تک نہیں دیتے۔ میاں صاحب ووٹ دینے والوں کو کتنی عزت دیتے ہیں یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آپ کو یاد ہوگا سابق وزیراعظم نوازشریف کے پروٹوکول میں شامل ایلیٹ فورس کی گاڑیوں نے لالہ موسیٰ میں 12 سالہ لڑکے کو کچل دیا تھا جس سے وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا تھا، میاں نواز شریف نے جاں بحق ہونے والے بچے کو جدوجہد کا پہلا شہید  قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ خود اس کے گھر جائیں گے مگر میاں صاحب کو اتنی توفیق بھی نا ہوئی کہ وہ جاں بحق ہونے والے بچے کے گھر جا کر اسکے لواحقین سے تعزیت کریں۔ کیا وہ 12 سالہ معصوم کسی ووٹر کا بچہ نہیں تھا؟ ووٹ کو عزت دلانے کے کھوکھلے دعوے سے پہلے میاں صاحب کو ووٹ دینے والے ووٹرز کو عزت دینی چاہئے تاکہ کوئی یہ نا کہہ سکے کہ میاں صاحب کے قول و فعل میں تضاد ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube