مجھے فخر ہے پاکستانی ہونے پر

April 12, 2018

بلاگر: روحیل ورنڈ

اگر ہم پاکستان کے موجودہ صورتحال کے بارے میں سوچیں تو ہمارے ذہن میں منفی تصویر ابھرتی ہے۔ ہم اپنے ملک کے مثبت اور قدرے خوبصورت پہلو کو یکا یک نظر انداز کردیتے ہیں۔ خبریں پڑھتے یہ بات میری نظروں سے گزری کہ پاکستان میں بے پناہ با صلاحیت اور محبت کرنے والے لوگ ہیں ۔ مندرجہ زیل میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے وہ واقعات ہیں جس نے اس قوم کو یکجا کردیا۔ ساتھ ہی ساتھ افرا تفری کا وہ ساماں اور مسائل جو حقیقتاً ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ ہے لوگوں میں ذہنی دباؤ کی ایک وجہ ہے۔ لیکن یہ بات نہایت قابلِ تعریف ہے کہ لوگوں نے اپنے مثبت رویوں کی وجہ سے دنیا میں یہ بات ثابت کردی کہ پاکستانی قوم بھی کسی سے قطعی پیچھے نہیں۔ بہت سے لوگ سخت محنت کر رہے جس کی وجہ سے ملک ترقی کررہا ہے۔

دنیا بھر میں پاکستانیوں کو جس نظر سے بھی دیکھا جائے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانیوں کو سب سے زیادہ دریا دل اور مہمان نواز قوم سمجھا جاتا ہے۔ یہ صفت ہم نے اپنے آباؤاجداد سے اپنائی ہے۔ ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوجانے کا سبق ہمیں ہمارا دین اسلام بھی دیتا ہے۔ پاکستانیوں نےکبھی ایک دوسرے سے منہ نہیں موڑا کچھ لوگ انسانیت کے نام پر خیرات کرتے جبکہ کچھ زکوٰۃ دیتے ہیں۔

پاکستان صرف برائی نہیں اچھائی اور انسانیت میں بھی سرِ فہرست ہیں۔ مارچ 2018 میں اقوامِ متحدہ ہائی کمیشن نے پاکستان کو اپنی سر زمین پر سب سے زیادہ  مہاجرین کو پناہ دینے والا ملک قرار دیا جن میں افغان مہاجرین سرِ فہرست ہیں۔ یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مہاجرین رکھنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

پاکستان میں میں جس سے سب دے زیادہ محبت کرتا ہوں وہ یہاں کے لوگ ہیں۔ ہم نے چونکہ یہ سیکھا ہےکہ اپنے کاموں کے لیے ہم مکمل طور پر حکومت پر منحصر نہیں رہ سکتے اس لیے ہم نے ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی سیکھ لیاہے۔ کبھی حکومتی کاموں کابیڑا خود اٹھاتے ہوئے اور کبھی وہ کام کرتے جو قطعی ہماری زمہ داری نہیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ 8 اکتوبر میں زلزلہ زدگان کی مدد سے لے کر ایسے کئی واقعات جب ہم نے کسی حکومتی کاروائی کی پیشِ رفت سے پہلے خود اقدامات کیے۔

ہمیں دھوکے دیے گئے، ہم سے اثاثے چھینے گئے، مذاق اڑایا گیا ۔ ہر گرمیوں کی مون سون ہم سیلاب سے بجلی سے لوگوں کو بے یارو مددگار مرتا دیکھتے ہیں۔ پھر بھی ہم زندگی کے لیے اپنا حوصلہ اور حسِ مزاح سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ یہ ہمارا پختہ ایمان ہے کہ چاہے کتنی مصیبت کیوں نہ ہو خدا تعالٰی کی ذات ہر بھنور سے ہمارے کشتی کھینچ لائے گی۔

مارچ 2018 میں پاکستان پھر اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔ یہ رپورٹ بے شک آپ کے  پاکستانی ہونے پر فخر سے سر بلند کردے گی۔ خیرات دینے پر بھی پاکستان نہایت دریا دلی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ سٹین فورڈ سماجی ریویو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنا ایک فیصد جی ڈی پی خیرات میں صرف کرتا ہے۔ خیرات میں پاکستان نے امیر ممالک جیسے کہ برطانیہ ( 1.3 جی ڈی پی) اور کینیڈا ( 1.2 جی ڈی پی) اور حتیٰ کہ بھارت کو ان سے دگنی خیرات کر کے  پیچھے چھوڑ دیا ہے۔  ایک پاکستانی خدمتِ خلق ادارے کی تحقیق کے مطابق پاکستان سالانہ 240 بلین روپے ( 2 بلین ڈالرز ) سے زیادہ امداد صرف کرتا ہے۔

یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ غربت کےباوجود پاکستانی اپنے دوسرے پاکستانیوں کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔  98 پی سی کے سروے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 250 بلین روپے خدمتِ خلق اور خیراتی کاموں کی مد میں نظر کردیے جاتے ہیں۔ پاکستان ایک عظیم ماضی رکھنے والی ابھرتی ہوئی قوم ہے جس کو مستقبل میں خود کو منوانے کے متعدد مواقع ملیں گے۔ ہمارے انہی غیر متزلزل جذبوں کی وجہ سے ہی پاکستان کی ترقی کی امید ہمیں نظر آتی ہے۔

 
 
 

ضرور دیکھئے