Monday, September 28, 2020  | 9 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

ٹیسٹ کا مشکل امتحان

SAMAA | - Posted: Apr 11, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Apr 11, 2018 | Last Updated: 2 years ago

دو ماہ پاکستانیوں نے کرکٹ ٹینمنٹ سے لطف اٹھایا۔ ٹی ٹوئنٹی کی دھماکہ دار تفریح ہوئی۔ پہلے پی ایس ایل اور پھر ویسٹ انڈیز کی میزبانی کرلی۔ اب ہے اصل کرکٹ جس کے لئے پتے چانٹنے کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔اس بار پاکستان کو دورہ انگلینڈ میں بہت سے سابق کھلاڑی شدت سے یاد آئیں گے۔ لیکن با زبان شارق کیفی

بات ماضی کو الگ رکھ کے بھی ہو سکتی ہے
اب جو حالات ہیں ان پر کبھی چرچا کر آئیں

تو چرچا یہ ہے کہ دوہزار سولہ میں پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف سیریز برابر کرنے کا موقع ملا تو اس میں اہم کردار تھے یاسر شاہ جو اس وقت انجری کا شکار ہیں اور میڈیکل ٹیم ان پر دن رات محنت کررہی ہے اس وقت وہ آرام کررہے ہیں لیکن ان کا دورہ انگلینڈ کے لئے مکمل فٹ ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔آئرلینڈ انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنا پہلا ٹیسٹ جب کھیلے گا تو اس کو یاسر شاہ کی شکل میں کوئی چینلنج درپیش نہیں ہوگا۔پاکستانی ٹیم جب دو ٹیسٹ کی سیریز کے لئے انگلینڈ پہنچے گی تو یاسر شاہ ٹیم کو جوائن کرسکیں گے یا نہیں سرفراز احمد دعائیں ہی کرسکتے ہیں یاسر شاہ فٹ ہوکر ٹیم کو جوائن کرلیں۔ موجودہ صورتحال میں کوچ مکی آرتھر اگر کسی کھلاڑی کی فٹنس پر سمجھوتے کے لئے تیار نظر آرہے ہیں تو وہ یاسر شاہ ہی ہیں جن کو اسی فیصد فٹنس پر بھی وہ ٹیم میں شامل کرنے کے حق میں ہیں۔دوہزار سولہ میں جس ٹیم نے انگلینڈ کا دورہ کیا اس میں مصباح الحق، یونس خان بیٹنگ میں ٹیم کو مشکلوں سے نکالتے رہے تو یاسر شاہ کی انیس وکٹوں نے سیریز برابر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لارڈز میں یاسر شاہ کی تباہ کن بالنگ نے دھوم مچائی تھی۔یونس خان اور مصباح الحق کی خدمات اب پاکستانی ٹیم کو حاصل نہیں دونوں ریٹائر ہوچکے ہیں۔اظہر علی تیسرے کامیاب بیٹسمین تھے اور اس وقت جس بیٹسمین پر سرفراز احمد کا دارومدار ہے وہ اظہر علی ہی ہیں۔اوپننگ کا بوجھ ہی اظہر علی کو نہیں اٹھانا بلکہ ٹیم کی بیٹنگ کو لمبے فارمیٹ میں سہارا دینا بھی ہے۔بالنگ لائن میں محمد عامر کی ٹیسٹ ٹیم میں افادیت پہلے جیسی نہیں ہے۔حسن علی انگلش کنڈیشن میں ٹیسٹ میچز کا بوجھ سنبھال پائیں گے یہ تجربہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔ون ڈے میچز میں حسن علی کافی بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔لمبے فارمیٹ میں وہ صرف دو میچز کی چار اننگز میں چھ وکٹ ہی حاصل کرسکے ہیں۔انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز میں حسن علی اپنی بالنگ اور فٹنس سے کس قدر متاثر کرسکتے ہیں اس سوال کا جواب ان کی کارکردگی سے ہی ملے گا لیکن اب جس قدر وہ بڑے اسٹار بن چکے ہیں اس کا اضافی دباؤ بھی انہیں اٹھانا ہوگا۔سرفراز کی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے فارمیٹ میں کپتانی شاندار رہی ہے لیکن اگر ٹیسٹ فارمیٹ میں بات کی جائے تو یہاں انہیں ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے ٹیسٹ کرکٹ میں سیشنز کی اہمیت کو سمجھنا اور درست وقت میں درست فیصلے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔یہ صلاحیت سرفراز میں وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہورہی ہے اور امید ہے کہ انگلینڈ میں وہ ہر سیشن کا بہتر استعمال کرپائیں گے۔پاکستانی ٹیم کی ٹیسٹ رینکنگ کافی نیچے آچکی ہے۔اس وقت ہماری ٹیم نمبر سات پر ہے یہی ٹیم مصباح الحق کی قیادت میں نمبر ون ٹیم رہ چکی ہے۔لیکن پھر مسلسل تنزلیوں اور شکستوں نے اسے نمبر سات پر پہنچا دیا ہے۔بیٹنگ اور بالنگ میں صرف ایک اظہر علی ہی ٹاپ ٹین میں موجود ہیں۔ایسے میں انگلینڈ کی سیم اور سوئنگ وکٹوں پر پاکستانی ٹیم کی کامیابی کے لئے دعائیں کی جاسکتی ہے۔ہمارے نئے کھلاڑی باصلاحیت ہیں لیکن انگلینڈ کی تجربہ کار ٹیم کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دینا وہ بھی لمبے فارمیٹ میں کوئی آسان کام نہیں ہے۔پاکستان کے پاس کافی باصلاحیت فاسٹ بالرز موجود ہیں لیکن ان فاسٹ بالرز کی لمبے فارمیٹ میں صلاحیت اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔چیف سلیکٹرز اور کوچز انگلینڈ میں ٹیم وقت سے پہلے بھیجنے کا منصوبہ بناچکے ہیں اور اس کا بھی ٹیم کو فائدہ ہوسکتاہے۔ماضی میں ہماری ٹیم جب انگلینڈ گئی تھی تو کنڈیشننگ کیمپ سے پہلے فٹنس کیمپ کاکول میں لگایا گیا تھا۔اس بار پاکستانی کھلاڑیوں کے فٹنس مسائل پھر سر اٹھارہے ہیں۔فٹنس کے مثال بہرحال نمٹنا صرف اور صرف کھلاڑی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو فٹ رکھنے کے لئے ڈائٹ پلان اور فزیو کے مشوروں پر عمل کرے۔جب ٹیم سیریز کے آخر مرحلے میں دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل کر اسکاٹ لینڈ سے واپس لوٹے گی تو شائقین کو نہ صرف اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی بلکہ اچھے نتائج بھی کرکٹ فینز کا جوش بڑھائیں گے۔

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube