Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

صوبوں کا قیام ضروری ہے

SAMAA | - Posted: Apr 10, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Apr 10, 2018 | Last Updated: 4 years ago

شہرِ کراچی سے سیاسی وفاداری کا شروع ہونے والا سلسلہ اب پنجاب تک پھیل چکا ہے۔ پاکستان میں نظریاتی سیاست آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ نظریاتی سیاستدان نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اسی لیے سیاست میں لوٹا سیاست کوئی نئی بات نہیں۔ ہم نے سیاستدانوں کو اپنے مفادات کے لیے اِدھر سے اُدھر ہوتے دیکھا ہے ۔ لیکن کراچی اور اب پنجاب میں جو سیاسی وفاداریاں تبدیل کی اورکروائی جارہی ہیں وہ کچھ اور ہی منظر پیش کررہی ہیں۔ جسے سیاست میں انجینئرنگ کہا جارہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اراکینِ اسمبلی کا پی ایم ایل این چھوڑنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ پیر 9 اپریل 2018 کو جنوبی پنجاب سے 8 اراکینِ اسمبلی نے مسلم لیگ نواز چھوڑنے اور جنوبی پنجاب صوبہ محاز کے قیام کا اعلان کیا ۔ جسکی سربراہی بلخ شیر مزاری کررہے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے مسلم لیگ کو الوداع کہنے والوں میں 6 رکنِ قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں۔ اس سے قبل 4 اراکینِ اسمبلی پہلے ہی ن لیگ چھوڑچکے ہیں۔

مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کرکے جنوبی پنجاب صوبہ محاز کے قیام کا اعلان کرنے والے اراکین کی جانب سے علیحدہ صوبے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد ملک میں مزید صوبوں کے قیام پر ایک بار پھر سے بحث شروع کردی گئی ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قیام کا اعلان کرنے والوں میں خسرو بختیار ، طاہر بشیر ، باسط بخاری، رانا قاسم ، طاہر اقبال، شیر مزاری، نصراللہ ، اصغر علی شاہ شامل ہیں۔

جنوبی پنجاب صوبہ یا سرائیکی صوبے کا مطالبہ وہاں کی عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ جس کا اظہار وہاں کی عوام کی جانب سے کئی بار کیا جاتا رہا ہے۔ جسے بظاہر تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ پی ایم ایل این اور پی پی کی جانب سے جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ بنانے کا بڑی شدت کےساتھ اعلان کیا جاتارہاہے۔ خاص طور سے 2010 سے 2013 تک جنوبی پنجاب میں ہونے والے جلسوں میں عوام کو آس اُمید دی جاتی رہی۔ مزید صوبوں کے قیام کے حوالے سے اسمبلیوں میں قرارِداد بھی پیش ہوتی رہیں۔ لیکن دونوں بڑی جماعتوں کی حکومتیں گزرگئیں اُس کےباوجود عمل درآمد کےلیے کوئی عملی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔

پی پی کی جانب سے جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے کی حمایت کی جارہی ہے۔ ٹھیک اُسی طرح جس طرح 2013 کے عام انتخابات کے دوران جنوبی پنجاب صوبے کو اپنے منشور میں شامل کیا گیا تھا۔ اس بار 2018 کے عام انتخابات سے قبل بھی وہی بیان بازی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ پی ایم ایل این اور پی پی کو اب منافقانہ نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ طرزِ عمل اپنا چاہیے۔ کیونکہ مزید صوبوں کے قیام کا مطالبہ صرف جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں حقوق سے محروم عوام کی جانب سے مزید صوبوں کا بھرپور مطالبہ کیا جارہاہے۔

اس بات سے ہر پاکستانی واقف ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کےلیے مزید صوبوں کا قیام ضروری ہے۔ لیکن مخصوص طبقے اور خاندان کی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ عوام کے مزید صوبوں کے قیام کے دیرینہ مطالبے کو نظرانداز کیا جاتارہاہے۔ اگر ہم سندھ کی بات کریں تو کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ جسکی آبادی 3 کروڑ سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور حکمرانوں کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باعث مقامی افراد کو ملازمت ، تعلیمی، معاشی اور دیگر معاملات میں بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا ہے۔ ایسی ہی صورتحال حیدرآباد ، میرپورخاص میں ہے۔ جس کے باعث عوام میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔شہری سندھ کے عوام کے مسائل کا حل بھی یہ ہے کہ سندھ میں انتظامی بنیاد پر علیحدہ صوبہ بنادیا جائے۔شہری سندھ اور کراچی کے عوام کی نمائندگی کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی علیحدہ صوبے کا مطالبہ مسلسل دہرایا جاتا رہاہے۔ جوکہ اب ہر شہری کا مطالبہ بنتا جارہاہے، سندھ پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں مزید صوبے کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان کو اس وقت قومی و بین الااقوامی سطح پر بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ملک کےلیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ حقیقی جمہوریت بحال کرکے اس کے ثمرات عام شہری تک پہنچائے جائیں تاکہ عوام میں پھیلنے والی اس بےچینی کو لاوا اور احساسِ محرومی کو احساسِ بیگانگی میں تبدیل ہونے سے بچایا جاسکے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube