Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

’’پھرمسٹیک ہوگئی‘‘

SAMAA | - Posted: Apr 8, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Apr 8, 2018 | Last Updated: 4 years ago

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔ غلطی کر، سازش کا حصہ بن، حریف کو ناکوں چنے چبوانے کیلئے کسی کو بھی گلے لگا، کسی کی بھی پیٹھ پر تھپکی دیں لیکن اگر وہی وار پلٹ کر آجائے تو پھر کھل کر یہ کہنا کہ مسٹیک ہوگئی۔۔ واہ رے واہ سیاست تیرا کیا کہنا۔ درد کی شدت جب بڑھ جاتی ہےتو ذہن و دل کچھ زیادہ حساس ہوجاتےہیں۔ غم جدائی کی قیامت خیز گھڑیوں میں شاعری دل کو اچھی لگتی ہے، درد اور کرب کی ان ساعتوں میں فراق کے زہریلے تیر جب جگر میں پیوست ہوتےہیں تو پھر کچھ بھولے بسرے لوگوں کی یاد آتی ہے۔ یہ ایسی ہی رت کا کمال ہوتا ہے کہ دیرینہ حریف پر بھی پیار آنے لگتا ہے۔ مجھے کیوں نکالا کی صدائیں لگانے والے نوازشریف شاید ایسی ہی صورتحال سے دوچارہیں۔ لگ بھگ سات برس بعد بڑے میاں صاحب کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ میمو گیٹ میں آصف علی زرداری کے خلاف قانونی محاذپر مورچہ زن ہونا بڑی سیاسی غلطی تھی۔ جو نہیں کرنی چاہئے تھی۔ میمو گیٹ سے دوررہنا چاہئے تھا۔

بہت اچھی سوچ ہے بہت اچھا خیال ہے اور غلطیوں سے ہی سیکھ کر آگے بڑھنا چاہئے مگر یہ خیال اس سے پہلے کیوں نہیں آیا، یہ احساس میاں صاحب کو پہلے کیوں نہیں ہوا۔ کیا انہیں ایک بار پھر جیالوں کی قربت کی ضرورت ہے؟ ایک ایسے وقت میں جب کہ نواز فیملی کے خلاف احتساب عدالت میں دائر مختلف ریفرنسز کا فیصلہ عنقریب آنے والا ہے، بچنے کی تمام راہیں مسدود ہوچکی ہیں۔ لگتا ہے میاں صاحب بند گلی میں پھنس چکےہیں ۔ ایسے میں  نواز شریف، زبان کی قینچی کوکافی تیزی سے چلانے لگے ہیں۔ کہیں پرانے زخموں کی مرہم پٹی کرنے کے جتن ہورہےہیں تو کہیں تنقیدی نشترزنی سے نئے گھاؤ لگائے جارہے ہیں۔ ن لیگ کے تاحیات قائد کے ایسے پینتروں پر پوری قوم حیران ہے کہ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کروہو۔ بحرحال معاملہ جو بھی مگر مفاہمت کے جادوگرآصف علی زرداری اب اتنے بھی بھولے نہیں کہ سب کچھ اتنی جلدی بھول جائیں، مشکل وقت میں ہاتھ نہ دینا، میمو گیٹ پر سپریم کورٹ جانا، عدلیہ تحریک پر جیالوں کو دیوار سے لگانے کی کوششیں، یہ ایسے زخم ہیں جنہیں وقت بھی مندمل نہیں کرپایا۔

1988 سے لیکر 2018 تک کی سیاسی تاریخ کھنگالیں، ن لیگ کے کرشماتی جلوے کسی نہ کسی صورت میں ہر دور میں جھلکتے نظر آئیں گے۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ کاروبار سے جڑے افراد کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں خسارہ قبول ہوتا ہے۔ اپنے مفاد کی بات ہو تو سب ٹھیک، مفاد کو نقصان پہنچے تو غلط ، یہ ہے ن لیگ کی اصل حقیقت۔ 1990 ﻣﯿﮟ ﻏﻼﻡ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﻧﮯ ﺑﯿﻨﻈﯿﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ‎ ‎ﺧﻼﻑ 58 ﭨﻮ ﺑﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ، ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ، 1993 ﻣﯿﮟ ﻏﻼﻡ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﻧﮯ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ‎ ‎58 ﭨﻮ ﺑﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ، ﻭﮦ ﻏﻠﻂ ۔ 1994 ﻣﯿﮟ شہید ﺑﯿﻨﻈﯿﺮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻮ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﻧﺠﺎﺕ ﭼﻼﺋﯽ‎ ‎ﮔﺌﯽ، ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ۔ 2014 ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻧﻮﺍﺯﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ‎ ‎ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ توﻭﮦ ﻏﻠﻂ ﺗﮭﺎ۔ 1996 ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﺑﯿﻨﻈﯿﺮ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻢ ﺳﻦ‎ ‎ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺍﮈﯾﺎﻟﮧ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺮﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ‎ ‎ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ مگر 2017 ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﻢ ﻧﻮﺍﺯ ﮐﻮ ﺟﮯ ﺁﺋﯽ ﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﻏﻠﻂ ﺗﮭﺎ۔ 2011 میں آصف علی زرداری کے خلاف سپریم کورٹ جانا ٹھیک، 2012  ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ‎ ‎ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﻮ ﻧﺎﺍﮨﻞ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﭨﮭﯿﮏ ، مگر 2017 ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﮐﺎ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﮐﻮ‎ ‎ﻧﺎﺍﮨﻞ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﻏﻠﻂ ﺗﮭﺎ۔ یہی ہے شریفوں کی طبعیت کا بڑا تضاد۔ آصف علی زرداری تو ان کے ہاتھ آنے والے ہیں نہیں یہ چاہے لاکھ معذرت کرلیں کہ صاحب ’’مسٹیک ہوگئی‘‘ البتہ اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو سامنے لانے کے بعد میاں صاحب بازی پلٹانے کی کوششوں میں تیزی لاسکتے ہیں۔ اداروں کے درمیان مذاکرات ہوں یا پھر موجودہ صورتحال میں کوئی ’’بیچ کا راستہ‘‘ چھوٹے میاں صاحب حالات کو سدھارنے کیلئے بڑی تندہی سے لگے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں ان کی کوششیں کہاں تک کامیاب ہوسکتی ہیں۔ ویسے بھی شہر اقتدار کا موسم آج کل کچھ بے ایمان سا ہوگیا ہے۔ کچھ پتہ نہیں کب کیا ہوجائے؟ موسم بہار کے باعث گلی گلی خوشبوؤں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ آسمان پر گھٹائیں بھی دیوانہ وار رقص کررہی ہیں مگر ابر رحمت کس پر اور کہاں برستے ہیں اس کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔۔۔ صورتحال کا درست اندازہ لگانا ہو تو فرحت عباس شاہ کے اشعار پڑھ لیں؎

میں نے ایسے ہی گناہ تیری جدائی میں کئے

جیسے طوفاں میں کوئی چھوڑ دے گھر شام کےبعد

لوٹ آئے نہ کسی روز وہ آوارہ مزاج

کھول رکھتے ہیں اسی آس پہ در شام کے بعد

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube