Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

ایم کیوایم اور خواتین

SAMAA | - Posted: Apr 5, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Apr 5, 2018 | Last Updated: 4 years ago

متحدہ قومی موومنٹ ایک وقت میں وطن عزیز کی واحد تنظیم تھی جو مثالی نظم و ضبط کیلئے جانی جاتی تھی۔خاص کرخواتین کے حوالے سے خواتین کارکنان کو باجی کہہ کر مخاطب کیا جاتاتھا اور خواتین کو بڑی عزت دی جاتی تھی۔ مردکارکنان خواتین کارکنان سےنظرنیچےکرکےبات کرتے تھے اور بدتمیزی کی شکایت موصول ہونے پر سخت سزا دی جاتی تھی لیکن جب سے متحدہ کئی دھڑوں میں بٹی ہے اس کے بعد سے یہ دیکھا گیا ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد خیرآباد کہہ رہی ہے۔

ایم کیوایم کی دھڑے بندیوں سے پہلے کوئی ایم کیوایم چھوڑنےکا تصوربھی نہیں کرسکتاتھاہر کارکن اوررہنما کا جینا مرنا صرف و صرف ایم کیوایم ہوا کرتا تھا۔22اگست کے واقعے کے بعد جہاں بہت سے مردرہنما ﺅں نےاپنے راستے ایم کیو ایم سے جدا کئے تو خواتین کیوں پیچھے رہتیں۔

ممبرصوبائی اسمبلی امبرخان ایم کیو ایم کی پہلی باغی خاتون تھی جنہوں نے ایم کیو ایم کو خیرآباد کہا۔ان کے بعد سابقہ کراچی مئیر اور بانی قائد کے چہیتے کارکن مصطفی کمال نےانیس قائم خانی کے ساتھ کراچی آکر اپنی جماعت کی بنیاد ڈالی تو خواتین میں سب سے پہلے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر دو دفعہ ممبر صوبائی اسمبلی بننے والی بلقیس مختیار نے علم بغاوت اٹھاتے ہوئے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے خواتین کے حقوق کے لیےکچھ نہیں کیا اور محرومی جگا کر اردوبولنے والوں کو ٹارگٹ کلر اور بھتہ خور بنا دیا۔

کراچی میں ہر خاص وعام یہ کہتا نظر آتا ہے کہ جتنا ایم کیوایم نے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچایا،اتناکسی نے نہیں پہنچایا۔اس کا عملی مظاہرہ سینیٹ الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم میں نظر آیا جب ایم کیو ایم پاکستان دومزید دھڑوں میں بٹ گئی جس کا فائدہ مخالفین نےاٹھایا اور سندھ کے وزیراعلی کی طرف سے ممبران صوبائی اسمبلی کو دیئے جانے والے عشایئے میں ایم کیو ایم کی دوخواتین ہیرسوھو اورنائلہ منیرنے شرکت کی۔ جب سے چہ میگوئیاں شروع ہوگئی اور اس عشائیے میں شرکت کا اثر سینیٹ کی ووٹنگ والے دن نظر بھی آیااور کئی خواتین ایم پی اے نے ایم کیوایم کو امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا اعتراف بھی کیا مگر شاید نائیلہ منیر کی پی پی سے بات بنی نہیں اور کچھ دنوں بعد انہوں نے ممبر صوبائی اسمبلی ناہید بیگم کے ساتھ مصطفی کمال کے قافلے میں شمولیت اختیار کر لی ۔ اس کے بعد ایم کیوایم کی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر فوزیہ کو بھی احساس ہو اکہ خواتین کو حقوق نہیں مل رہے اس لئے انہوں نے بھی خواتین کے وسیع تر مفاد میں پارٹی بدل لی مگر سب سے زیادہ خبروں میں رہنے والی ارم عظیم فاروقی وہ خاتون ہےجنہوں نے ایم کیو ایم کو چھوڑ کر پی ٹی آئی جوائن کی مگر کچھ ہی دنوں میں پی ٹی آئی کو بھی خیر آباد کہہ دیا۔ارم عظیم کو سب سے زیادہ منانے کی کوشش کی گئی، جن کو منانے ڈاکٹر فاروق ستار خودگئے۔ابھی حال ہی میں ڈاکٹر مقبول صدیقی نے خواتین کارکنان کے بارے میں کہا کہ مہ جبینوں کو الیکشن کے ٹکٹ نہیں دئے جائے گے،جس کے جواب میں کوئی اور خاتون رہنما تو بولی نہیں مگر سوشل میڈیا پر ارم عظیم کا ویڈیو پیغام آگیا جس میں انہوں نے عامر خان اور مقبول صدیقی پرسنگین الزامات لگائے۔انہوں نے عامر خان کو تاڑو تک کہا اور بتا یا کہ کئی بارعامر خان کی شکایت کی تھی مگر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔اس ویڈیو پیغام پر میڈیا نے خوب چرچا کیا اور ارم عظیم فاروقی کو زبردست کوریج ملتی رہی۔

میراان سب خواتین سے یہ معصومانہ سوال ہے کہ اگر یہ سب خواتین اتنے عرصے تک ایم کیو ایم کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں تویہ باتیں ان لوگوں پہلے کیو ں یاد نہیں آئی جب ایم کیوایم عروج پر تھی۔ آج جب وہ ٹوٹ پھو ٹ کا شکار ہے اور الیکشن میں صرف تین چار مہینے ہی رہ گئے ہیں تو ان لوگوں احساس ہو ا کہ خواتین کی عزت نہیں دی جارہی،اتنے سالوں سے کیوں خاموش تھی ؟ کیا واقعی متحدہ میں خواتین کا حترام نہیں کیا جاتا اور عزت نہیں دی جاتی یا کوئی اور بات ہے ؟کہا جارہا ہے کہ ان خواتین نے مالی معاونت کے عوض پارٹی چھوڑی ہے۔ ان لوگوں نقد رقم اور پراپرٹی کی صورت میں بہت کچھ ملا ہے۔ایم کیو ایم کے ابھی کے حالات دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنی دانست میں اچھا فیصلہ کیا ہے،آگےآگےدیکھئےہوتاہےکیا؟اب تک چارخواتین رہنماء پی ایس پی ، ایک پی پی اور دو نے ابھی تک اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں کتنی خواتین کو احساس ہوتا ہے کہ متحدہ میں خواتین کو عزت نہیں دی جارہی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube