Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

کیا واقعی بھٹو زندہ ہے؟

SAMAA | - Posted: Apr 4, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 4, 2018 | Last Updated: 4 years ago

 

۔۔۔۔** تحریر : عبداللہ  **۔۔۔۔۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ نعرہ ہے کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بھٹو زندہ ہے؟، پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تو بیگم نصرت بھٹو نے پارٹی سنبھالی اور پھر ان کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو نے پی پی پی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں جو کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا فیصلہ کیا اور یہی بھٹو کا جرم بن گیا، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ملک اور عوام کی خاطر پھانسی کے پھندے کو چوم کر موت کو قبول کیا مگر ملک دشمن قوتوں اور اس وقت کے فوجی آمر ضیاء الحق کے سامنے جھکے نہیں، 1973ء کے آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے، انہوں نے ہمیشہ جمہوریت کو مضبوط کیا اور بھٹو کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کے نعرے کا مطلب یہ نہیں کہ بھٹو جسمانی طور پر زندہ ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ بھٹو کا نظریہ زندہ ہے، سیاست نظریے کا نام ہے اور بھٹو کے نظریے کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔

سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سب سوچ و بچار میں تھے کہ اب پارٹی کی قیادت کون سنبھالے گا مگر بی بی کی شہادت کے اگلے ہی روز ان کی وصیت سامنے لائی گئی، 2 مرتبہ ملک کی وزیراعظم رہنے والی محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی وصیت میں اپنے شوہر آصف علی زرداری کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا لیکن پارٹی کا چیئرمین اپنے بیٹے بلاول کو بنادیا، بینظیر بھٹو کی تدفین کے بعد آصف علی زرداری نے بلاول زرداری کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے بلاول بھٹو زرداری کر دیا، اسی طرح اپنی دونوں بیٹیوں کے نام بھی بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری رکھے، ناموں کی تبدیلی کیخلاف ایک درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی مگر عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کے بچوں کے نام تبدیل کرنے کے خلاف درخواست مسترد کردی۔ نام رکھنے پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے نہ ہی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنی چاہئے لیکن جب نام کی تبدیلی کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہو تو پھر مخالفین کی جانب سے سیاسی بیان بازیاں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو ایک شعلہ بیاں مقرر تھے، انہوں نے ایک تاریخی جلسے سے جذباتی تقریر کرتے ہوئے مائیک گرا دیئے تھے یہ ایک قدرتی عمل تھا اور یہ تقریر بھٹو صاحب کی مقبول ترین تقاریر میں سے ایک ہے، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی جذباتی انداز سے مشہور ہیں، انہوں نے بھی ایک جلسے سے تقریر کرتے ہوئے مائیک گرا دیئے تھے، شہباز شریف کو اس عمل کے بعد شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کہا گیا کہ شہباز شریف نے بھٹو کو کاپی کرنے کی کوشش کی اور یہ حقیقت بھی ہے کہ قدرتی عمل اور نقل میں بہت فرق ہوتا ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ مائیک گرانے سے کوئی بھٹو نہیں بن سکتا، بھٹو بننے کیلئے جان دینی پڑتی ہے، میں کائرہ صاحب کی بات سے 100 فیصد متفق ہوں اور مجھے کبھی کائرہ صاحب سے ملاقات کا موقع ملا تو ضرور پوچھوں گا کہ کیا نام بدلنے سے کوئی بھٹو بن سکتا ہے؟، کائرہ صاحب جو بھی کہیں میرے نزدیک نام بدلنے سے کوئی بھٹو نہیں بن سکتا، بھٹو بننے کیلئے بھٹو کے نظریے کو اپنانا ہوگا، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سیاسی طور پر بے اختیار ہیں اور آصف زرداری صاحب اور فریال تالپور صاحبہ جن کے پاس تمام اختیارات ہیں وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں کو نظر انداز کرچکے ہیں، اس لئے اب پیپلز پارٹی کو زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگانے سے پہلے بھٹو کے نظریات کو زندہ کرنا ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube