ہوم   > بلاگز

پشاور کا سیاسی کچرا

SAMAA | - Posted: Mar 31, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 31, 2018 | Last Updated: 2 years ago

 

 

تحریر: محمد فہیم

پشاور کے تاریخی رحمن بابا قبرستان میں شہری اپنے پیاروں کی قبروں پر پھول چڑھانے اور فاتحہ خوانی کیلئے آتے ہیں لیکن اب یہ قبرستان شہر کا کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے استعمال کئے جا رہے ہیں ۔تعفن،بدبو اور گندگی کے ڈھیروں میں اپنے پیاروں کی قبروں کی بے حرمتی دیکھتے ہوئے پشاوریوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی شاید ہی کوئی سمجھ سکے لیکن دراصل یہ سب ہو رہا ہے پشاور کے سیاسی کچرے کی وجہ سے۔

۔پشاور کا کچرا اس وقت شہر کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ کمپنی کے پاس شہر میں ایسا ایک بھی مقام نہیں ہے جہاں وہ شہر کا کچرا ٹھکانے لگا سکیں اور ڈمپنگ سائٹ نہ ہونے کی وجہ ہرگز یہ نہیں ہے کہ کمپنی نے کوئی مقام حاصل نہیں کرنا چاہا بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پشاور کے اراکین صوبائی اسمبلی اس بات پر تیار ہی نہیں ہیں کہ شہر کا کچرا ان کے حلقہ نیابت میں لا کر پھینک دیا جائے۔
ڈبلیو ایس ایس پی کے پاس ہزار خوانی میں شہرکی ایک ہی ڈپمنگ سائٹ تھی تاہم مقامی آبادی کے حق میں عدالتی فیصلہ آنے کے بعد اب وہاں کچرا نہیں پھینکا جا سکتا ۔ڈبلیو ایس ایس پی نے متبادل مقام کے طور پر قریبی مریم زئی کے علاقے میں زمین کی نشاندہی کر لی اور ڈمپنگ سائٹ بنانے کیلئے منصوبے پر کام شروع کردیا لیکن یہ علاقہ صوبائی وزیر شاہ فرمان کا حلقہ نیابت نکل آیا۔ شاہ فرمان سیدھےوزیر اعلیٰ کے پاس گئے اور مریم زئی کی زمین پرعائد سیکشن فوراختم کروا دیا۔
کمپنی نے کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے ایک اور مقام کی نشاندہی کی اور آفتاب آباد میں ساڑھے تین لاکھ روپے ماہانہ پر زمین حاصل کر لی ابھی دو ماہ تک ہی کچرا یہاں پھینکا گیا تھا کہ صوبائی کابینہ کے رکن فضل الہٰی یہاں میدان میں کود پڑے۔دراصل یہ مقام ان کے حلقہ میں آتا تھا اور مقامی آبادی کا ووٹ کہیں ان کے مخالف کو نہ پڑ جائے اس ڈر سے وہ خود ہی مقامی آبادی کے ساتھ مل کو ڈبلیو ایس ایس پی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔


مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق ،ڈبلیو ایس ایس پی حکام ایک مرتبہ پھر سے ڈمپنگ سائٹ کیلئےاراضی ڈھونڈنے نکل پڑے اور اس بار انتخاب کیا گیا میاں گجر کے قریب اراضی کا ۔لیکن یہاں کا بھی مسئلہ سیاسی نکلا۔پی ٹی آئی کے ایم پی اے ارباب جہاندادنے واضح کیا کہ ڈبلیو ایس ایس پی کی کچرے سے لدی گاڑیاں ان کے حلقہ میں داخل ہونے سے گریز کریں بصورت دیگر وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے ۔ارباب جہاندادکے مطابق ان کے حلقہ کی اراضی زرعی ہے اور ڈبلیو ایس ایس پی قانونا ان کے حلقہ میں کچرا ٹھکانے نہیں لگا سکتی۔
پشاور سے اس وقت 11اراکین صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور ان 11میں سے 10کاتعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے جبکہ ایک مسلم لیگ ن کا ہے اور اندرون خانہ ہی سہی ن لیگی واحد ایم پی اے بھی اب پی ٹی آئی کا ہی ایم پی اے لہٰذا ڈبلیو ایس ایس پی شہر کے نواح میں کوئی بھی مقام ڈھونڈ نکالے وہ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کا ہوگا اور وہاں ڈمپنگ سائیٹ قائم کرنا ممکن نہیں ہو گی۔
ڈبلیو ایس ایس پی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ صفائی کا آپریشن شہر میں جاری ہے تاہم پشاور کی گلیوں اور چوراہوں میں موجود کچرا آج بھی اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ صفائی کاآپریشن اگر معطل نہیں ہوا تو جاری بھی نہیں ہے ۔
ڈبلیو ایس ایس پی نے جن ایڑھی چوٹی کا زور لگانے کے بعد منہ کی کھا لی تو فیصلہ کیا کہ سیاسی کچرے کو سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہی دے دیا جائے ۔ڈبلیو ایس ایس پی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو یہ درخواست دے دی کہ خدارا ان تمام اراکین اسمبلی کو ایک ساتھ بٹھائیں اور خود ہی فیصلہ کر لیں کہ پشاور کا کچرا کہاں ٹھکانے لگانا ہے؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ جب پشاور کے تمام اراکین اسمبلی اور وزیر اعلیٰ ایک ساتھ بیٹھیں گے تو ڈمپنگ سائیٹ کا فیصلہ ہو جائے گا یا پھر شہری گلی محلوں میں موجود کچرے کے ساتھ ہی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے؟

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube