Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

خوش آمدید ملالہ، قوم کی بیٹی

SAMAA | - Posted: Mar 29, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 29, 2018 | Last Updated: 4 years ago

 

تحریر: نازیہ فہیم

پاکستان کی شان ملالہ یوسف زئی پاکستان پہنچ گئی ہیں۔ میں پوری قوم کی جانب سے قوم کی بیٹی ملالہ یوسف زئی کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ ملالہ یوسف زئی پاکستان میں 4 روز قیام کریں گی اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقات کریں گی۔ ملالہ یوسف زئی نےوزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے میٹ دی ملالہ پروگرام میں بھی شرکت کی اورخطاب کیا ۔ ملالہ خواتین کی تعلیم کی سرگرم رکن ہیں۔ ملالہ یوسف زئی کو کسی بھی شعبے میں نوبل انعام وصول کرنے والے سب سے کمسن فرد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

سوات کی ملالہ یوسف زئی کو صرف 17 سال کی عمر میں 2014 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ جب مقامی طالبان دہشتگردوں نے لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا اس وقت ملالہ نے اپنے آبائی علاقے سوات میں انسانی حقوق، تعلیم اور حقوق نسواں کے حق میں بھرپور کام کیا جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا اور  اکتوبر 2012 میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں نے اسکول سے واپس آتے ہوئے ملالہ کے سر میں گولی ماری۔ اس حملے میں شدید زخمی ہونے والی ملالہ کو اللہ نے نئی زندگی دی۔ ایک نہتی لڑکی ملالہ نے مسلح دہشتگردوں کو شکست دی۔ آج ملالہ کی تحریک بین الاقوامی درجہ اختیار کر چکی ہے۔ آج ملالہ کو پوری دنیا میں ایک عظیم مقام حاصل ہے اور مجھ جیسے ہر ایک پاکستانی کو فخر ہے کہ ملالہ ہمارے ملک کی بیٹی ہے جس نے ملک کا نام روشن کیا۔

ملالہ یوسف زئی پر طالبان نے حملہ صرف اس لئے کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے لڑکیاں اسکول جائیں اور تعلیم حاصل کریں۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے شاید ملالہ پر حملہ کرنے والے اسکولوں کو تباہ کرنے والے اس سے ناواقف تھے۔ پاکستان کے 50 مذہبی علماء کرام نے ملالہ یوسف زئی کے قتل کی کوشش کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔

ملالہ کے جہاں دنیا بھر میں کروڑوں فین اور چاہنے والے موجود ہیں وہیں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ملالہ کے خلاف منفی سوچ رکھتی ہے۔ ملالہ پر مختلف الزامات لگائے گئے یہاں تک کہ انہیں ملک دشمن اور غدار بھی قرار دیا گیا۔ ملالہ کے پاکستان آنے سے بھی بہت سے لوگ بشمول سیاستدان، اینکرز اور دیگر اہم شخصیات ناخوش ہیں۔ سینئر اینکرپرسن ڈاکٹر دانش نے ٹویٹر پر سوال کیا ‏کہ “ملالہ نے ایسا کیا کام کیا ہے؟ جس پر بیرونی دنیا خاص کر یہودی اور عیسائی ادارےانھیں اتنا پروموٹ کر رہےہیں ! لیکن پاکستان کی عوام سب جانتی ہے”۔ ڈاکٹر دانش ہی نہیں نا جانے کتنی اہم شخصیات ایسی فضول اور من گھڑت باتیں کر رہے ہیں۔ بحیثیت قوم یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ابھی تک کئی پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ ملالہ پر حملہ سی آئی اے نے کرایا تھا اور ملالہ سی آئی اے ایجنٹ ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ملالہ پر قاتلانہ حملے کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی طور پر ملالہ کی حمایت میں اچانک اضافہ ہوا جس کی وجہ سے ملالہ کو خلاف ایک مخصوص لابی سرگرم ہوگئی اور منفی پروپیگنڈا کرنے لگی۔

ملالہ کو دنیا کی مشہور ترین کم عمر بچی کہا جاسکتا ہے۔ ملالہ 3 سال دنیا کی با اثر ترین شخصیات کی فہرست میں بھی شامل رہیں۔  کینیڈا کی جانب سے انہیں اعزازی شہریت بھی دی گئی جو کسی اعزاز سے کم نہیں۔ 12 فروری 2014ء کو سوئیڈن میں ملالہ کو ورلڈ چلڈرن پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ 15 مئی 2014ء کو ملالہ کو یونیورسٹی آف کنگز کالج، ہیلی فیکس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ دی گئی۔ 10 اکتوبر 2014ء کو ملالہ کو بچوں اور کم عمر افراد کی آزادی اور تمام بچوں کو تعلیم کے حق کے بارے جدوجہد کرنے پر 2014ء کے نوبل امن انعام دیا گیا۔ جلنے والے جلتے رہیں گے اور ملالہ کامیابیاں سمیٹتی رہیں گی۔

ملالہ یوسف زئی سے کسی بھی ایشو پر اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ان کو غیر ملکی ایجنٹ یا غدار قرار دینا سراسر زیادتی ہے۔ ملالہ پر جائز تنقید کی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ میں اپنی تحریر کے ذریعے ملالہ یوسف زئی سے گزارش کرنا چاہوں گی کے وہ کم از کم ہر تین ماہ بعد پاکستان آئیں اور ملک بھر میں اسکولوں کی تعمیرات اور دیگر سہولیات میں ملالہ فنڈ کی جانب سے حکومت کی معاونت اور مالی مدد کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube