Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

خواتین کو بولنا ہوگا

SAMAA | - Posted: Mar 29, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Mar 29, 2018 | Last Updated: 4 years ago

حال ہی میں امریکا میں ٹی وی، فلم اور تھیٹر سے تعلق رکھنے والی تقریبا تین سو خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف ایک نئی مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور ملازمت کی جگہ پر استحصال کے خلاف عملی طور پر مدد دی جائے گی۔

پاکستان ان ممالک کی فہرست میں ٹاپ پر شامل ہے جہاں خواتین کو ہراساں کیا جاتاہے۔ابھی ایک دل سوز واقعے نے لوگوں کے پرانے زخموں کو ادھیڑ دیاتھا اور وہ برسوں سے اپنی زبان اور روح پر لگی اس خود ساختہ چپ کو جو خاندان کی عزت کی خاطر انھوں نے سادھ رکھی تھی، توڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پرایک نئی بحث کا آغازہوگیا جس سے ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ سامنے آیا۔ یہ وہ خواتین ہیں جنہوں نےہمت کی اور وہ بولیں۔ آج خواتین کو ہراساں کرنا ایک عام سی بات ہو تی جارہی چاہے۔کوئی بھی ادارہ ہوآفس،یونورسٹی ،کالج ،اسکول،اسپتال،اسمبلی یہا ں تک کوئی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کوئی بھی محفوظ نہیں ہیں۔جب خواتین گھر سے نکلتی ہیں توانہیں ہر قدم پر ہراساں کیا جاتا ہے۔روڈ سے لیے کر گاڑی تک راستے میں ہر موڑ پر،اب تو درسگاہ بھی محفوظ نہیں ہے۔

سیاسی جماعتیں جو خواتین کے حقوق کے لیے بڑی بڑی باتیں کر تی ہیں وہاں بھی خواتین محفوظ نہیں۔ریحام خان نے اپنی آنے والی کتاب میں بھی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کے سدباب کے لیے ایک آزاد کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جو کسی بھی پارٹی سے تعلق نہ رکھتا ہو،خواتین سیاستدانوں کو مخالف پارٹی والے ہراساں کرتے ہیں جبکہ کئی خواتین کو آفر سے انکار پر سیاست چھوڑنی پڑجاتی ہے۔ بقول ان کے انہوں نے پاکستانی صحافت اور سیاست میں بذات خودمحسوس کیاہےکہ پاکستانی خواتین کو ہراساں کیا جاتاہے اور پاکستانی خواتین اس ماحول میں پرسکون نہیں ہے۔بالکل اسی طرح پاکستانی سیاست میں متحرک عائشہ گلالئی نےعمران خان پر موبائل فون کے ذریعے قابلِ اعتراض پیغامات بھیج کر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے۔ان کاکہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں موجود لوگوں کے درمیان خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔یہ صرف پی ٹی آئی کی رہنما عائشہ گلالئی نہیں بہت سی دوسری سیاسی پارٹی کی خواتین بھی ہراساں ہوئی ہیں جیساکہ حال ہی میں سندھ اسمبلی میں خاتون اراکین کو ہراساں کیے جانے کی شکایات کئی بار کی گئی ہے۔

ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ سندھ اسمبلی رکن نصرت سحرعباسی نے خودکو آگ لگا لینے کی دھمکی دی جب ایک پارلیمانی لیڈر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے باوجود اسمبلی کی اسپیکر کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیاجبکہ صوبائی وزیر امداد پتافی نے زومعنی جملے بولے جو ’جنسی طور پر ہراساں‘ کیے جانے کے ذمرے میں آتے ہیں ۔
ایک طرف مسلم لیگ نون کی طرف سے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافے کیخلاف رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کے ذریعے نے اسمبلی میں قراردجمع کرائی جاتی ہے تو دوسری طرف مسلم لیگ نون کے جلسے میں کارکنان خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اور دھکے دئیے جاتے ہیں۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اسطرح کے واقعات سیاسی جلسوں میں ہوتے رہتے ہیں۔تمام سیاسی جماعتوں میں خواتین کے ساتھ یہی رویہ رواں رکھا جاتاہے۔خواتین کے معاملے میں بہت ہی نظم و ضبط والی جماعت ایم کیوایم کے بارے میں رکن اسمبلی ارم عظیم فاروقی نے جو الزامات لگائے ہیں،ان کا کہنا تھاکہ عامر خان جو پارٹی کےاہم رکن تھے، وہ ان کو گھور گھور کر دیکھتے تھے۔یہ سار ی حرکتیں کسی طور بھی ہمارے معاشرے کی خواتین کے لئے ساز گار نہیں ہے ۔
پاکستان میں ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جب عورتوں کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے جیسے ہسپتال میں نرسوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں فیصل آباد کے سول ہسپتال میں وارڈ بوائے کی پٹائی ہوئی۔میر پور خاص میں بھی سول ہسپتال میں ڈاکٹر کو جنسی استحصال کی وجہ سے دھلائی ہو ئی۔ یونیورسٹیزمیں پروفیسرز کے واقعات، یہ ایک ایسا گھمبیرمسئلہ بن گیا ہے کہ اسکو صرف مرد حضرات ہی حل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ بھول جاتے ان کے گھر کی خواتین بھی اس طرح کے مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ان لوگوں کو اپنے رویوں کو درست کر نا ہو گا کیونکہ یہ مسئلہ صرف کسی ادارے تک محدود نہیں بلکہ ہر جگہ ہر قد م پر خواتین سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube