ہوم   > بلاگز

کھیل اور کھلاڑی

SAMAA | - Posted: Mar 27, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 27, 2018 | Last Updated: 2 years ago

تحریر : عبداللہ

 

کھیل کسی بھی قوم کے لئے بہت لازم ہے۔کوئی بھی کھیل مختلف قومیتوں کو اکھٹا کرتا ہے۔ کھیلوں کے فروغ سے نوجوان نسل کو غلط راستے پر جانے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ مثبت سرگرمیوں خصوصاً کھیلوں کے ذریعے اپنے آپ کو مصروف کر کے ایک اچھے انسان کی خصوصیات اپنے اندر پیدا کریں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔کھیلوں کے ذریعے نوجوان دہشت گردی و منشیات فروشی کو شکست دے سکتے ہیں۔ گزشتہ برس لیاری سے ایک کھلاڑی نے برلن میں فٹبال کی ٹریننگ کی تھی جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لیاری کی پہچان دہشت گردوں کا گڑھ نہیں بلکہ کھیل ہے۔ لیاری نے باکسنگ اور فٹبال کے کئی نامور کھلاڑی پیدا کئے اور آج بھی لیاری کھیلوں میں نمبر ون ہے۔ پاکستان میں فٹبال کی حالت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے حالانکہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے اور نوجوان نسل فٹبال میں بہت دلچسپی لے رہی ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں نہ اکیڈمی ہے اور نہ کوچنگ اور ہی ٹریننگ کی مناسب سہولتیں۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کو ملک میں فٹبال کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور اقدامات کرنا ہوں گے۔ کرکٹ پاکستان کا سب سے مقبول ترین کھیل ہے۔ کرکٹ کے میدانوں میں قومی ٹیم کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی ہے۔ پاکستان نے کئی مایہ ناز گیند باز وبلے باز پیدا کئے ہیں جن میں عمران خان، وسیم اکرم، جاوید میانداد، وقار یونس، شعیب اختر، انضمام الحق، یونس خان اور شاہد آفریدی کا نام آتا ہے۔ کرکٹ کے فروغ میں حکومت اور کرکٹ بورڈ کے اقدامات قابل لائق تحسین ہیں مگر کرکٹ بورڈ کو ڈومیسٹک کرکٹ کو مزید فروغ دینا ہوگا تاکہ نئے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جا سکے۔

بات کی جائے قومی کھیل کی تو گزشتہ کئی سالوں سے قومی ہاکی ٹیم نے مایوس کیا ہے۔ 2017 میں بھی قومی ہاکی ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور پاکستان کسی بھی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں قابل ذکر کھیل پیش نہ کر سکا۔ قومی ہاکی ٹیم نے گزشتہ برس 5 ٹورنامنٹس اور چیمپیئن شپس میں شرکت کی جن میں ایشینز چیمپیئنز ٹرافی میں دوسری، ایشیا کپ میں تیسری، اذلان شاہ میں پانچویں، ورلڈ لیگ میں ساتویں جبکہ آسٹریلیا میں چار ملکی ایونٹ میں سب سے آخری پوزیشن ہاتھ آئی۔ ہاکی قومی کھیل ہے مگر اس کے باوجود قومی ہاکی ٹیم کی مسلسل خراب کارکردگی پر حکومت اور ہاکی فیڈریشن کی خاموشی اور غیر سنجیدگی سوالیہ نشان ہے۔

حکومت ایک طرف کرکٹرز کو تنخواہوں کی مد میں لاکھوں روپے ادا کرتی ہے جبکہ فٹبالر اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو تنخواہیں ادا کرنا اور سہولیات فراہم کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ہاکی کے کھلاڑیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی تو درکنار، قومی ہیروز کو بھی حکومت اور ہاکی فیڈریشن اہمیت نہیں دے رہا۔ قومی ہیروز کے حوالے سے معاشرتی اور حکومتی بے حسی کے نمونے جا بجا پھیلے ہوئے ہیں جس کی تازہ مثال ہاکی ورلڈ کپ 1994 کے ہیرو منصور احمد ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ گول کیپر منصور احمد شدید علیل ہیں اور انہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے مدد کی اپیل بھی کی ہے لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ منصور احمد وہ کھلاڑی ہیں، جنہوں نے 24 سال قبل نیدرلینڈ کے خلاف میچ میں آخری پینلٹی اسٹروک روک کر پاکستان کو چوتھی مرتبہ ہاکی کا عالمی چیمپیئن بنایا تھا۔ حکومت کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ہے مگر قومی ہیرو منصور احمد کا علاج کروانے کے لئے پاکستان کے کرکٹ اسٹار شاہد آفریدی میدان میں آگئے۔ شاہد آفریدی نے اپنی فاؤنڈیشن کے تحت ان کا مکمل علاج کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہو کر اقدامات کرے تو ملک میں پی ایس ایل کی طرز پر ہاکی اور فٹبال کے ٹورنامنٹ بھی منعقد کروائے جا سکتے ہیں۔ حکومت دلچسپی لے تو کرکٹ کے ساتھ ہاکی، فٹبال اور دیگر کھیلوں میں بھی ہم کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔ ملک میں موجود ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے کے لئے کوچنگ کی بنیادی سہولیات کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ کھلاڑی حکومتی توجہ اور سہولیات کے منتظر ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube