Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

پی ایس ایل فائنل پر سیاست نہ کیجیے

SAMAA | - Posted: Mar 26, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Mar 26, 2018 | Last Updated: 4 years ago

پاکستان سپر لیگ کا تیسرا ایڈیشن کا اختتام ہوگیا ہے، جس کے لیگ میچز دبئی اور شارجہ کے میدانوں میں کھیلے گئے، دوسرے مرحلے کے پلے آف میچز لاہور میں اور فائنل کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کا فائنل پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیا جواسلام آباد یونائٹڈ باآسانی جیت گیا۔ پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کا ٹائٹل اسلام آباد یونائیٹڈ کے نام رہا۔اسلام آباد یونائٹیڈ اس سے قبل 2016 میں پہلے ایڈیشن میں بھی ٹائٹل اپنے نام کرچکا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کوئی بھی جیتا ہو اصل جیت تو کرکٹ کی ہی ہوئی ہے۔ لیکن دوسری طرف شائقینِ کرکٹ کے جوش و جذبہ نے فائنل کا مزہ دوبالا کیا۔ 9 سال بعد کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم ایک بار پھر آباد ہوگیا۔ پی ایس ایل فائنل کے باعث کراچی اسٹیڈیم کے اطراف کے علاقوں میں حکام کی توجہ مرکوز ہوئی تو وہاں صفائی ستھرائی کے اقدامات بھی کرلیے گئے۔

نیشنل اسٹیڈیم میں آخری مرتبہ انٹرنیشنل کرکٹ میچ فروری 2009 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہوا تھا۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان سپر لیگ فائنل کے انعقاد پر سخت انتظامات کیے گئے۔ جس کے باعث عام شہریوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف کے علاقے میں نیم کرفیو کی سی صورتحال تھی۔ گزشتہ دو سالوں سے بار بار یہ کہا جارہا ہے کہ کراچی آپریشن سے حالات بہتر ہوگئے ہیں، امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش ہےتویہ حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔

آج ہر شخص اپنی سوچ کے مطابق مخصوص حلقوں کو کراچی نیشنل اسٹیڈیم کے آباد ہونے اور خیریت و عافیت سے پی ایس ایل فائنل کے انعقاد پر مبارکباد دے رہا ہے کہ فلاں فلاں کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا۔ لیکن ایسے لوگ زمینی حقائق کو کس طرح جھٹلا سکتے ہیں کہ شہر کراچی میں کھیلوں کی سرگرمیوں خصوصاً کرکٹ کے حوالے سے کبھی ایسی صورتحال نہیں رہی کہ یہاں کرکٹ میچز نہ ہوسکیں۔ کراچی میں انٹرنیشنل میچز نہ ہونے کی وجہ صرف حکام کی عدم دلچسپی کے سوا کچھ نہیں۔ لاہور میں 2009 میں ٹیسٹ سیریز کے دوران سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا ، جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے
پاکستان کے میدانوں کے لیے بند کردیے گئے تھے۔ لیکن جب 2015 میں زمباوے کی ٹیم دورہِ پاکستان پر آئی تو وہ دورہ صرف لاہور تک محدود رہا۔ حالانکہ لاہور میں ہی دہشت گردوں نے سری لنکن ٹیم پر حملہ کیا تھا۔اس کے بعد پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل لاہور میں ہوا۔ اس کے علاوہ ستمبر 2017 میں ورلڈ الیون ٹیم پاکستان کھیلنے آئی تو اسے بھی لاہور تک محدود رکھا گیا۔اگر کسی بھی سطح پر کوشش کی جاتی تو انٹرنیشنل میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں 2015 میں بھی ہوسکتے تھے۔۔ خیر دیر سے ہی سہی لیکن بالآخر نیشنل اسٹیڈیم میں لگا تالا کھول دیا گیاہے۔

ساڑھے چار سال سے جاری کراچی آپریشن اور سیاسی خلاء کو مدِنظر رکھتے ہوئے بعض افراد کی جانب سے کراچی میں پی ایس ایل فائنل تیسرے ایڈیشن پر سیاست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سماجی رابطے کی سائٹس پر پی ایس ایل فائنل کراچی میں ہونے پر ہر شخص اپنے طور پر اپنی سوچ کے مطابق تبصرہ کررہا ہے۔ کچھ لوگ کراچی میں کرکٹ بحال ہونے پر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ شہرِ کراچی میں کرکٹ نہ ہونے کی وجہ وہاں کی امن و امان کی صورتحال ہے جوکہ بالکل غلط ہے۔ کراچی کی پچھلی تین دہائیوں کی بات کی جائے تو 1980 سے لیکر 2009 تک ہر طرز کی کرکٹ شہر میں ہوتی رہی ہے۔ بین الاقوامی ٹیمیں مکمل دورے کرتی رہی ہیں۔ کبھی کسی بھی قسم کے حالات کے باعث اس شہر کے میدان میں تالا نہیں لگا۔ اگر اس شہر کے میدان کو کسی سے نقصان ہوا تو وہ لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے اور حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ہوا۔

کراچی کے حوالے سے منفی رجحانات کو منسوب کرکے اس کے میڈیا ٹرائل کے سلسلے کو اب بند ہوناچاہیے۔ کراچی کے شہری امن پسند ہیں اور اپنی ایک رائے رکھتے ہیں۔جیسے ہر شہر کے شہری رکھتے ہیں۔ اگر اُنکی رائے سے کسی کو اختلاف ہو تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ مختلف منفی رجحانات کو ان سے منسوب کرکے شہریوں اور شہر کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔ پاکستان کے قیام کے 70 سال بعد بھی کوئی یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ کراچی کی ترقی ہی پاکستان کی ترقی ہے تو پھر کچھ نہیں ہوسکتا۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube