Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

ڈاکٹر شاہد مسعود دھبڑ دھوس ہوگئے

SAMAA | - Posted: Mar 23, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Mar 23, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: احسن وارثی

صحافتی اقدار اور صحافتی اخلاقیات پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے کہ صحافتی اقدار/اخلاقیات کیا ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں پاکستان میں متعلقہ حُکام صحافتی دھجیاں مزید بکھیرنے سے بچانے کے لیے کیا کوئی ٹھوس اقدامات اُٹھانے میں دلچسپی لیں گے؟ یا پھر یوں ہی صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیری جاتی رہیگی۔

ہمارے یہاں ناظرین انٹرٹینمینٹ کے لیے کسی تفریحی  پروگرام دیکھنے کےبجائے نیوز ٹاک شو کو ترجیح دیتے ہیں۔ جانتے ہیں کس لیے؟ اس لیے کہ روز 7 سے 11 تک ناظرین کو نیوز ٹاک شو میں وہ سب کچھ دستیاب ہوتا ہے جو کہ کسی بھی انٹرٹینمنٹ پروگرام میں ہوتا ہے۔ ہر چینل دوسرے چینل پر سبقت لےجانے کے لیے ریٹنگ کی دوڑ میں مصروف ہے تو ہر صحافی کو اپنی مقبولیت کے لیے کسی بھی قسم کے انکشاف کی سی خبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس سے ہر طرف کھلبلی مچ جائے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔

روز کے معمول کی طرح ہر چینل پر موجود اینکر و صحافی اپنے اپنے طریقے سے تہلکہ خیز انکشافات پر مبنی ٹاک شو میں مصروف تھے کہ اپنے منفرد انداز کی وجہ سے الگ حیثیت رکھنے والے ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب نے 24 جنوری 2018 کو اپنے ٹاک شو میں تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے 37 بینک اکاونٹس ہیں۔ زینب کے قتل کا ملزم عمران ایک چھوٹا سا مہرہ ہے۔ قصور میں جو بچوں/ بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل ہورہے ہیں یہ ایک بین الااقوامی سطح پر پورنوگرافک وڈیو کا معاملہ ہے۔ جس میں سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات شامل ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے دعووں سے اس وقت ہوا نکل گئی۔  جب ڈاکٹر صاحب سے چیف جسٹس صاحب نے 25 جنوری کو طلب کرکے اس دعوے اور الزام کی وضاحت اور ثبوت طلب کیے۔ چیف جسٹس صاحب کی جانب سے ڈاکٹر صاحب کے دعووں اور الزامات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ ڈیڑھ ماہ کے دوران  تین مرتبہ ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کو اپنے الزامات درست ثابت کرنے کا موقع دیا گیا لیکن ناکام رہے۔ڈاکٹر صاحب روز اپنے پروگرام میں مختلف شخصیات/مافیا کے دھبڑدھوس ہونے کی خبر دیتے دیتے اپنے ہی جھوٹ میں پکڑے جانے کے باعث دھبڑدوس ہو بیٹھے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کے الزامات اور دعووں کے غلط ثابت ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب کی جانب سے تحریری معافی نامہ جمع کروایا گیا۔ جس کے بعد 20  مارچ 2018 کو چیف جسٹس صاحب کی جانب سے ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کے پروگرام پر 3 ماہ کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔جوکہ کوئی خاص سزا تو نہیں لیکن ایک سبق ضرور ہے دیگر صحافی اور اینکرپرسنز کے لیے کہ آئندہ کسی بھی قسم کی سنسنی خیزی اور من گھڑت کہانیاں پیش کرنے سے گُریز کیا جائے ورنہ ہوسکتا ہے کہ اُنھیں بھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے جس غیرزمہ داری کا مظاہرہ کیا اُسکی اُنھیں سزا مل گئی ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ یہ سزا کافی ہے کہ نہیں۔ لیکن کم از کم ایک مثال ضرور قائم کردی گئی ہے جوکہ دوسروں کو بھی راہِ راست پر لانے کے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

صحافی/ اینکر خواہ وہ سینیئر ہو یا جونیئر اسے اپنے شعبے کی اہمیت کا اندازہ ہونا چاہیے۔ صحافی کی سب سے اہم زمہ داری ہوتی ہے کہ اُسکی صحافت کو ہر امور پر آزاد ہونا چاہیے۔  صحافتی اصولوں کے مطابق صحافت آبرو مندانہ اور مہزب ہونی چاہیے۔

اینکر ہو یا صحافی اسے اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے  کہ بنا کسی ثبوت یا تصدیق کے کسی فرد یا شخصیت کے خلاف کوئی بات آگے نہ بڑھاے۔ اُمید کرتے ہیں کہ جس طرح ڈاکٹر صاحب کے دعووں اور الزامات پر طلب کرکے وضاحت مانگی گئی اسی طرح دیگر حساس معاملوں پر بھی غلط بیانی سے کام لینے والوں سے وضاحت طلب کرکے سچ اور جھوٹ کو قوم کے سامنے لایا جائےگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube