Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

پاکستان کا مطلب کیا؟

SAMAA | - Posted: Mar 23, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 23, 2018 | Last Updated: 4 years ago

 

انگریز وں نے سترھویں صدی کی شروعات میں برِ صغیر کی سر زمین پہ اپنے قدم جمائے۔ 1708 میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی  نے اپنے تین مزید صدارتی دفاتر  ممبئ،  چنائے اور کلکتہ کےقیام کے ساتھ  سیاسی و اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔1857 کی جنگِ آزادی کے پورے ایک برس بعد یعنی 1858 میں انگریز پوری طرح برِ صغیر پاک و ہند پہ قابض ہو گئے اور اسی دور کو “برطانوی راج” کہا جاتا ہے۔ انگریزوں کی غلامی ، عوام اور سیاست دان دونوں کے لئے نا قابلِ قبول تھی لہٰذا انڈین نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں آیا اور تیزی سے  آزادی کے حصول کی جدوجہد کی جانے لگی۔ 1930 میں علامہ اقبال نے  مسلمان قوم کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ مسلما ن قوم کا الگ وطن ہونا چاہئے جہاں وہ اسلامی رہنما اصولوں کے مطابق ، معاشرتی، سیاسی، اقصادی معاملات کو نمٹا سکیں۔یہیں سے نظریہ پاکستان کی بنیاد ڈالی گئی۔قائدِ اعظم محمد علی جناح  مسلمان قوم کے عظیم لیڈر ثابت ہوئے  جن کی دور اندیشی نے  مسلمانوں کو الگ وطن کی اہمیت کا احساس دلایا۔دو قومی نظریہ پیش کرنے کی بہت سی وجوہات تھیں  جن میں  مذہب کا فرق، رسم و رواج کا فرق اس کے علاوہ معاشی و اقتصادی معاملات میں خود کفیل ہو جانا شامل تھاکیونکہ1857کے بعد ایسی معاشی پالیسیاں مرتب کی جانے لگیں تھیں جو مسلمانوں کے لئے کسی طرح   سےسود مند ثابت نہیں  ہوتی تھیں ۔ قائدِ اعظم کے مطابق انگریزوں کا مرتب کیا گیا اقتصادی نظام  عوام کو انصاف مہیا کرنے اور بین الاقوامی انتشار ختم کرنے سے یکسر قاصر ہے۔

نظریہ پاکستا ن صرف دو مختلف مذاہب رکھنے والی قوموں کو علیحدہ کرنے کےلئے نہیں   دیا گیا تھا بلکہ اور بھی دیگر وجوہات تھیں قیامِ پاکستان سے قبل مسلمان کسی بھی کاروبار کی شروعات میں بہت سے تحفظات کا شکار ہو جاتے تھے۔جس وجہ سے ان کے مالی حالات بد تر ہوتے جا رہے تھے۔ سرکاری اداروں میں مسلمانوں کو  جگہ نہیں دی جاتی یا نچلے درجے کی پوسٹ   پر ان کو نوکری دی جاتی اور ہندوؤں کو اعلیٰ درجے پہ فائز کیا جاتا ، اس طرح مسلمان ہندو کے ماتحت ہو جاتے اور اس بات کا ہندو آفیسر نا جائز فائدہ اٹھاتے۔  مسلمان تاجروں کو بھاری ٹیکس ادا کرنے پڑتے جس سے منافع کی شرح میں کمی  واقع ہوتی۔اس کے علاوہ کاروبار کے لئے ایسی  مشکل شرائط رکھ دی جاتیں جن کو پورا کرنا آسان نا ہوتا۔ نظریہ پاکستان کا تصور اس لئے بھی پیش کیا گیا کہ مذہبی  اور ثقافتی تعصب کی بناء پر ہندوؤں کو انگریز حکومت کی سپورٹ مل ہی جاتی تھی  جب کہ مسلمان صنعتکار انتہائی  پسماندگی کا شکار ہو رہے تھے۔ مسلمان  صنعتکاروں کے لئے خام مال کا حصول  آسان نا تھا اور ان کو خام مال مہنگے داموں میں فروخت کیا جاتا تھا جس سے ان کے منافع کی شرح گر جاتی تھی۔اس کے علاوہ برٹش گورنمنٹ نے برِ صغیر کے سرمایہ کاروں کو نئی ٹیکنالوجی سے متعارف نہیں کروایا وہ اپنے ملک یا اپنی فرموں میں نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے لیکن ہندوستانی عوام کوپرانی ٹیکنالوجی تک ہی محدود رکھا گیا۔ اس خستہ  معاشی صورتحال کے پیشِ نظر مسلمان قوم کے عظیم محسن اور مفکرِ پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال نے  مسلمان قوم کے لئے الگ وطن کی تجویز دی جہاں وہ بلا خوف و خطر سرمایہ کاری کر سکیں  اور صنعتی معاملات میں خود کفیل ہو جائیں ۔اقبال ان حالات سے خوب اچھی طرح واقف تھے جو مسلمانوں کے خلاف تھے ،  ان کو انتہا پسند ہندوؤں  کی مسلمانوں کے لئے نفرت کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ لگ رہی تھی ۔  مسلمان اور ہندو  مل کر کوئی کام نہیں کر سکتے تھے  چونکہ ان کے نظریات ہی ایک دوسرے سے مختلف تھے  اس لئے یہ نا ممکن تھا۔ مختلف سیاسی مراحل طے کرتے ہوئے  23 مارچ کی صبح کا سور ج ایک نئی امید لے کر طلوع ہوا ، اسی دن 1940 کو لاہور میں واقع “اقبال پارک” میں  قرار داد پاکستان منظور ہوئی   ، اس جلسے میں عوام کا ایک جمِ غفیر تھا جو قائدِاعظم کی ایک آواز پہ لبیک کہتا ہوا ساتھ آیا تھا ۔ قائدِ اعظم نے تقریباً 100 منٹ تک تقریر کی جس سے مسلمان قوم میں جذبہ آزادی امڈ کر آیا اور حصولِ آزادی کے نئے سفر کا آغاز ہوا جو بلآخر 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل تک پہنچا۔ سرکاری سطح پر ہر سال23 مارچ کا  دن منانے کا اعلان کیا گیا ، اس دن سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں تعطیل  کی تجویز دی گئی۔

اللہ  کے کرم سے اور قائدِاعظم، علامہ اقبال جیسے عظیم رہنماؤں کی بدولت ہم آج آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں  ہمارا ملک پاکستان قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال ہے اس کے علاوہ یہاں بسنے والے لوگ اپنے وطن سے بے حد پیار کرتے ہیں  ۔بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ذاتی مفاد  سے بالا تر ہو کر، ذات پات سیاست کو ایک طرف رکھ کے صرف پاکستانی بن کے اس ملک کی ترقی کے لئے کام کیا جائے۔ صنعتی پیداوار میں پاکستان کو اتنا اوپر پہنچا دیں کہ دوسرے ممالک بے خوف وخطر یہاں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کریں جس سے ہمارے ملک میں کسی بھی اشیاء کا بحران نا ہو ۔ اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب پوری قوم اور اس ملک کے سیاستدان متحد ہو کے اس ملک کے لئے کام کریں گے اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں معتبر بنائیں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube