ہوم   >  بلاگز

جوتا،سیاہی اورانڈے

1 year ago

سیاہی اور جوتے سیاستدانوں پر پھینکنا نہایت قابلِ رحم اور قابلِ مذمت واقعات ہیں۔ ان چیزوں کا بااثر افراد پر پھینکنا معاشرے کے غصے اور عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔ مظاہرے اور نکتہ چینی جمہوریت کا خاصا ہے تاہم تشدد نہیں۔ یہ جمہوریت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ جوتا پھینکنا مشرق میں نیا نہیں اس سے پہلے عراقی صحافی نے دونوں جوتے سابق امریکی صدر جارج بش پر ایک پریس کانفرنس کے وقت دے مارے۔ اس کے بعد یہ رجحان پاکستان میں بھی دیکھنے میں آیا۔

خواجہ آصف پر 10 مارچ کو سیاہی پھینکی گئی۔ وزیرِ خارجہ پر یہ سیاہی سیالکوٹ میں مسلم لیگ نون کے جیالوں سے بات کے دوران پھینکی گئی۔ فروری میں نارووال میں ایک کنونشن سے خطاب کے دوران وزیرِ داخلہ پر بھی جوتا پھینکا گیا۔ مسلم لیگ نون کے جیالوں سے خطاب کے دوران اس شخص نے مقرر کے قریب آنے کی کوشش کی۔ پھر اس نے ایک جوتا دے مارا جو ان کے بازو سے ٹکرایا۔ ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا گیا اور احسن اقبال کو تقریر برخاست کر کے جلدی روانہ ہونا پڑا۔ سیاہی پھینکنے کے ایک دن بعد مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف پر لاہور میں جوتا پھینکا گیا جو جامعہ نعیمیہ ، مفتی حسین نعیمی کی برسی پر تشریف لے گئے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے ان کو جوتا ماردیا ۔ ویڈیو میں اچانک آفت کے باعث نواز شریف کا ششدر چہرہ دیکھا جاسکتا ہے۔

اختلاف کرنے کا یہ طریقہ مناسب نہیں۔ کسی کو بزورِ بازو چپ کروانا معاشرے اور جمہوریت کے لیے خوش آئند نہیں۔تعلیمی ادارے لوگوں کی تربیت اور صبروبرداشت کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہمارےے معاشرے کو جمہوری بنانے میں ہم اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت کو یکسر نظرانداز کرچکے ہیں۔ بدقسمتی سے محض ہمارے پاس سیاستدان ہی بطورِ رول ماڈلز موجود ہیں۔ پاکستان موجودہ حکومت میں ناقص حکومتی پالیسز کا شکار رہا۔ یہ کئی دفعہ دہرایا گیا کبھی مذہبی رنگ دے کر، کبھی سیاسی نظریے کو طول دے کر۔ ہر کوئی اپنی سوچ رکھنے کیلیے آزاد ہے لیکن جب باتوں پر عمل کرنے کی باری آئے تو غوروفکر لازم ہے۔ لوگ صرف وہی سننا چاہتے جو ان کو پسند لیکن یہ ترقی یافتہ اور جمہوریت پسند قوم کاشیوہ نہیں۔ تبدیلی کو قبول کرنا ترقی کی نشانی ہے۔

کچھ دن پہلے گجرات میں ایک شام کو پارٹی چیئر مین عمران خان کے ساتھ کھڑے ایک رہنما علیم خان کو مارا گیا جہاں عمران خان اپنے جیالوں کے ساتھ ایک تقریب میں خطاب کرنے آئے تھے۔ عمران خان گاڑی کے اوپر اپنی پارٹی کے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے تھے جب علیم خان پرجوتا مارا گیا۔ پارٹی کے رہنما نے جوتا علیم خان کے سینے پر لگتے ہی چہرہ مخالف سمت میں موڑ لیا۔ اسٹاف کا ایک ممبر فوراً رہنما کو بچانے کے لیے آگے بڑھا۔ اس حادثے کے کچھ ہی منٹوں بعد تقریب ختم کردی گئی۔ ہونے والے واقعات اخلاقیات کے منافی ہے روز ہی سیاستدانوں کا ایک دوسرے پر حملے بکثرت دیکھنے میں آرہےہیں ۔ اس سے پہلے ان واقعات میں اتنی شدت نہیں تھی۔ ایک مہینے کے اندر تقریباً دو وزرا اور ایک سابق وزیرِ اعظم کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ اس طرح کے واقعات پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے بہاولپور میں عائشہ گلالئی پر غصے کا اظہار کرنے کے لئے ٹماٹر اور انڈے پھینکے ۔ یہ واقعہ جمعہ کی شام کو ان کے ہوٹل واپسی پر پیش آیا۔

مختلف نظریات کی بنیادپر کسی کو زدوکوب کرنے کا حق کسی کو نہیں۔ جمہوری ریاستوں  میں زبان سے اپنے مختلف خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ جوتے اور سیاہی پھینکنا ہمارے ملک کو درپیش خطرات کا حل نہیں۔بلکہ اس طرح کے واقعات پاکستان کی بدنامی کا باعث ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ہمارا ملک پہلے ہی بدنامی کا شکار ہے۔ اس طرح کے واقعات نابالغ بچوں پر یہ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستانی ایک شدت پسند قوم ہے۔ اس بات کا فرض حکومت کا ہے کہ لوگوں میں یہ صبر و تحمل مستحکم رکھے۔ تمام شہریوں کا اپنے سیاستدانوں کے خلاف مظاہرے کا حق ہے تاہم ایسے واقعات کی مذمت ہونی چاہیے۔ بلکہ ہمیں سیاہی کا صیحیح استعمال اپنے انگوٹھے پر کرنا چاہئیے تاکہ بعد میں یہ سیاہی ان پرپھینک کر ضائع نہ کی جائے۔ وہ ایک نقطہ اس دھبے سے زیادہ طاقتور ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
2 hours ago
3 hours ago
5 hours ago
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں