Thursday, January 27, 2022  | 23 Jamadilakhir, 1443

پاکستان سپر لیگ میں سپر ڈرامہ

SAMAA | - Posted: Mar 20, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Mar 20, 2018 | Last Updated: 4 years ago

   ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔ بات کچھ  ایسی ہی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ای ریلسنگ کے شائقین کو تو رنگ سے باہر لفظی جنگ اور ہلکی پھلکی فائٹ اکثر دیکھنے کو ملتی ہے لیکن جس قدر ڈرامہ بلکہ فلم پی ایس ایل تھری میں چلی وہ تو کسی اور لیگ یا اسپورٹس ایونٹ میں بہت کم ہی ملتی ہے۔دو مخالف ٹیموں کے کھلاڑی تو لڑتے ہی ہیں۔لاہور قلندرز کے سہیل خان اور یاسر شاہ آپس میں لڑپڑے۔سہیل خان نے گیند اچھالی تو یاسر شاہ برس پڑے۔گیند ہی واپس نہیں کی جو منہ میں آیا کہہ گئے۔گویا تھی آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی۔ بات ہورہی ہے کرکٹ میں لڑائیوں کی تو احمد شہزاد کا ذکر کیسے نہیں ہوگا۔احمد شہزاد اس بار ٹکرائے محمد عامر سے اور خوب دونوں نے ایک دوسرے کو سنائیں۔اشاروں اشاروں میں بہت کچھ کہہ گئے۔دلچسپ صورتحال تو اس وقت ہوئی جب کیپٹن کول مصباح الحق اپنے سابقہ ساتھی وہاب ریاض کے سامنے آگئے۔دوران بالنگ وہاب ریاض نے مونچھوں پر ہاتھ پھیرا تو مصباح الحق اپنی داڑھی کا استعمال کرتے نظر آئے۔وہاب ریاض نے سرفراز احمد سے بھی چھیڑ چھاڑ کی ۔سہیل تنویر کی شین واٹسن سے تو تو میں میں ہوئی۔سابق کپتان شاہر آفریدی نے نوجوان کھلاڑی سیف بدر کو آؤٹ کرکے جب باہر جانے کا اشارہ کیا تو سیف بدر نے آفریدی کے احترام میں کوئی آواز تو نہیں اٹھائی لیکن سوشل میڈیا پر  ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ دونوں نے معاملہ خیر سگالی جذبات کے ساتھ نمٹا دیا۔ویسے تو راحت علی اور عماد وسیم میں بھی ہوئی منہ ماری اس دوران راحت علی جس طرح ہاتھ کے  اشارے عماد وسیم کو باہر کا راستہ دکھا رہے تھے اس کا بھی بہت چرچا ہوا۔

کھیلوں میں یہ  تو تکرار ویسے کوئی اچھی بات تو نہیں لیکن یہ بھی کھیل کا حصہ ہی ہے۔آئس ہاکی میں تو ٹھیک ٹھاک لڑائی پر بھی صرف پانچ منٹ کی سزا ملتی ہے۔فٹبال کے میچز میں جس طرح کے جھگڑے ہوتے ہیں وہ سب دیکھتے ہیں۔لیکن کسی ایک ہی کرکٹ ٹورنامنٹ میں لگاتار اس قسم کے واقعات پاکستان سپر لیگ تھری کو یادگار ایونٹ میں تبدیل کرگئے۔گو شاید کچھ کے لئے یہ اچھی یادیں نہ بھی ہوں لیکن ٹینشن نہ لیں اس طرح تو ہوتا ہے کرکٹ ٹیمنٹ میں دوسرا کھلاڑیوں کے پروفیشنل ازم اور اپنی ٹیم کی جیت کے لئے ہر حد تک جانے کی بھی یہ ایک نادر مثال ہے۔

معاملے پر تنقید کرنے والوں کے لئے اتنا بتا دیا جائے کہ کھلاڑیوں کی یہ حرکت صرف کھیل میں مخالف بیٹسمین یا بالر کو تھوڑا سا غصہ دلانے کا ایک حربہ ہوتا ہے جس کو ایک حد تک کھیل کے قوانین بھی غلط قرار نہیں دیتے۔ہاں اسکرین پر حد سے بڑھ کر اگر ہوجائے تو اس سے کچھ اچھا پیغام نہیں جاتا اس لئے کھلاڑیوں کو چاہئے کہ میچ کے دوران ہنسی مذاق بھلے ہیں کریں لیکن اس کو سنجیدہ فساد تک پہنچنے نہ دیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube