Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

پی ایس ایل اورانٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی

SAMAA | - Posted: Mar 17, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 17, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: نازیہ فہیم

بہت خوشی کی بات ہے کہ پاکستان میں پھر سے انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونے جا رہی ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ اپریل میں ویسٹ انڈیر کی ٹیم تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلنے کے لئے کراچی کا دورہ کرے گی۔ پاکستان میں 9 سال بعد پہلا انٹرنیشنل میچ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جو روشنیوں کے شہر کراچی کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ پی ایس ایل سیزن 3 کا فائنل بھی کراچی میں منعقد ہو رہا ہے جس کی تمام تر تیاریاں مکمل اور ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس سے پہلے سال 2017 پی ایس ایل سیزن 2 کا فائنل اور ورلڈ الیون اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے درمیان لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں میچز ہو چکے ہیں مگر صحیح معنوں میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ تب بحال ہوگی جب آئندہ ماہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ امید ہے دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے میچز شیڈول کے مطابق ہوں گے کیونکہ پاکستان میں کرکٹ کے دیوانوں کو اپنے میدانوں میں انٹرنیشنل کرکٹ دیکھنے کے لئے 9 سال کا طویل عرصہ انتظار کرنا پڑا ہے۔

نو سال قبل جنوری 2009 میں کراچی اور سری لنکا کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ کو اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ بد قسمتی سے وہ میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جانے والا آخری انٹرنیشنل میچ ثابت ہوا کیونکہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان سے انٹرنیشنل کرکٹ کا خاتمہ ہوگیا تھا مگر اب 9 سال بعد پھر سے روشنیوں کے شہر کی روشنی میں اضافہ ہوگا۔ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ پی ایس ایل جیسا کامیاب ٹورنامنٹ منعقد کرانے اور ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا سہرا چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے سر جاتا ہے جن کی بطور چیئرمین پی سی بی تعیناتی پر سابق کرکٹرز نے انگلیاں اٹھائی تھیں۔

سابق کرکٹرز کی طرف سے بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایک صحافی کیسے کرکٹ بورڈ کے معاملات چلائے گا۔ 1992 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان، سابق کرکٹر عمران خان نے بھی نجم سیٹھی پر بہت سے الزامات لگائے اور مطالبہ کیا کہ چیئرمین پی سی بی سابق کرکٹر ہونا چاہئے۔ بات تو سچ ہے کہ نجم سیٹھی ایک صحافی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو کام موجودہ چیئرمین پی سی پی نجم سیٹھی کر رہے ہیں شاید ہی کوئی سابق کرکٹر کر پاتا۔

میں سابق کرکٹرز کی اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ آئندہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین جو بھی ہو وہ سابق کرکٹر ہو یا کم از کم کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھتا ہوں کیونکہ پی سی بی وہ بدقسمت ادارہ ہے جہاں ماضی میں ایسے لوگوں کو تعینات کیا گیا جو کرکٹ کی سمجھ بوجھ بوجھ نہیں ۔ پی سی بی کا پیٹرن انچیف صدر پاکستان ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت کی طرح ماضی کی حکومتوں نے بھی کرکٹ کے فروغ کے لئے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے دوست اور پی پی پی کے ایک جیالے کو ذکاء اشرف کو چیئرمین پی سی بی مقرر کیا تھا۔ ذکاء اشرف کی تعیناتی سے کرکٹ بورڈ جو پہلے ہی تباہی کی طرف بڑھ رہا تھا مکمل تباہ ہوگیا۔

نجم سیٹھی کی تعیناتی پر بھی سوال اٹھے مگر انہوں نے کام سے خود کو منوایا۔ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اور پی ایس ایل جیسا کامیاب ٹورنامنٹ منعقد کرانے پر نجم سیٹھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ امید کرتی ہوں آئندہ دوستیاں نبھانے کے بجائے کسی کھلاڑی کو ہی کرکٹ بورڈ کا سربراہ بنایا جائے گا جو ملک میں کرکٹ کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube