سعودی جوہری عزائم، خواب یا سراب

March 16, 2018

تحریر : شہروز کلیم

گزشتہ دنوں سعودی حکومت نے اپنی قومی جوہری پالیسی کا اعلان کیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس کا اعلان  سعودی تونائی کے وزیر اور شاہ عبداللہ شہر جوہری و قابل تجدید تونائی کے چیئرمین جناب خالد الفالح نے کیا۔ خبروں کے مطابق سعودی حکومت نے پالیسی پر پیر کے روز  نظر ثانی کے لئے نشست کی اور پر امن مقاصد کے لئے مقامی، بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو سامنے رکھتے ہوئے جوہری تونائی کے حصول کے سلسلہ میں سفارشات و رہنمائی کا طریقہ کار وضع کیا۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کےاس تمام مرحلہ میں شفافیت اور بین الاقوامی معیارات کو ملحوظ خاطر رکھنے کے سلسلہ میں ہدایات جاری کیں، خصوصاً جوہری فضلہ کو تلف کرنے اور اپنی قوم کی صنعتی استعدادکار میں اضافہ اور خود انحصاری کی فوقیت اور اہمیت پر زور دیا۔  سعودی حکومت نے اس سلسلہ میں نگرانی اور حفاظت کے کام کے لئے ایک علیحدٰہ محکمہ قائم کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے اس اعلان سے پہلے بین القوامی حلقوں مین افواہیں گردش کرتی رہی تھیں کہ، سعودی عرب نے امریکہ سے اس سلسلہ میں منظوری لینے کے لئے کوششیں تیز تر کر رکھی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے فروری میں یہ خبر دی کہ سعودی شاہ خلیج فارس کے کنارے جوہری تونائی سے چلنے والے بجلی گحروں کی تعمیر کے  سلسلہ میں اربوں ڈالر مالیت کے ٹھیکوں کا اعلان کرنے والے ہیں۔  مشہور جریدے وال سٹریٹ جرنل کی ہی ایک خبر کے مطابق مبینہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ ریاض کے ساتھ جوہری تعامل گھروں کی فروخت کے سلسلہ میں رابطے میں ہے اور  بین الاقومی جوہری معاہدہ ان پی ٹی  اور بین الاقوامی پابندیاں اس سلسلہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔ حالانکہ سعودی حکومت کے اعلان کے مطابق اُن کا ارادہ سویلین مقاصد کے لئے ہے اور وہ بھی صرف ان تعامل گھروں سے بجلی بنانے کا کام لینا چاہتے ہیں، نہ کے کو جوہری اسلحہ سازی کرنا، مگر بین القوامی برادری اس معاملے میں شکوک و شبہات کا شکار نظر آتی ہے۔  چند ایک مبصرین دو رائے کا شکار نظر آتے ہیں، یہاں تک کے نیویارک ٹائم کے ایک ادایے کے شائع کردہ ایک مضمون میں انتباہ کیا گیا ہےکہ انہیں اشارات ملتے محسوس ہو رہے ہیں کے سعودی ، ایران کی طرف سے ہونے والی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے نویاتی اسلحہ کی تیاری کا مبینہ اختیار رکھتے ہیں۔

یقیناً  سعودی شاہی حلقوں کے ذہن میں اپنے حریف ایران کو قابو میں رکھنے کے لئے اس انتخاب کو اختیار  کرنے کا خیال آیا ہو گا؛ کیونکہ سعودی عرب اپنے آپ کو علاقائی طور پر ایک رہنما ملک کے طور پر شناخت کرتا نظر آتا ہے، خصوصاً عربوں کے معاملہ میں اپنا پدرانہ کردار ادا کرتا رہا  اور اپنے فیصلے مسلط کرتا رہا ہے۔  ہم دہائیوں سے سنتے آئے کے پاکستان کے پاس جوہری تونائی اور ہتھیار ہیں، ایران جوہری توانائی پیدا کر رہا ہے، تو کیوں نہ ہم بھی یہ توانائی پیدا کریں؟ مگر حقیقت میں ابھی تک وہ کچھ بھی نہ کر پائے؛ اور اگر یہ صورت حال رہی تو وہ شاید مزید کچھ عرصہ ایسے ہی خیالی پلاو بناتے ہیں۔ سب سے مزیدار بات یہ ہے کے امریکا خود بھی نہیں چاہتا کے کوئی بھی مسلم ملک، خصوصاً عرب اس سلسلہ میں پیشرفت کر سکیں، یقیناً اس کے پیچھے اس کی دفاعی سوچ بھی ہے۔ وہ مشرق وسطٰی میں میں کو جوہری خطرہ نہیں پالنا چاہتا۔  مجھے اس کا انجام متحدہ عرب عمارات ماڈل جیسا ہوتا نظر آرہا ہے، جہاں فرانس سے درآمد شدہ جوہری تعامل گھر چل ہے ہیں، جن سے سوائے ایک خاص انداز کی یورینیم ہی افزودہ ہو سکتی ہے، جو کے کسی بھی ہتھیار کی تیاری میں استعمال نہیں ہو سکتی۔