Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

جوتا گردی

SAMAA | - Posted: Mar 13, 2018 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Mar 13, 2018 | Last Updated: 4 years ago

  

۔۔۔۔۔**  تحریر: طاہر نصرت  **۔۔۔۔۔

جوتا جس نے بھی ایجاد کیا، بہت انقلابی کام کیا ہے مگر اس عظیم مؤجد کو شاید یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کے اِس کارخیر میں شر کے بھی پہلو پوشیدہ ہیں، ویسے تو اس دوڑ میں میخائل کلاشنکوف جوتے کے مؤجد سے کوسوں آگے ہے، لیکن جوتے کے متاثرہ افراد میں بھی کچھ کمی نہیں، عدم برداشت کے اس گھٹن زدہ بازار میں جوتے نامی شے کی طلب ہر دور میں زیادہ رہی۔

گھر میں مارا ماری سے لیکر نجی محفلوں میں دھماچوکڑی تک، سیاسی جلسے جلوسوں سے لیکر بڑی بڑی کانفرنسوں میں استعمال تک اور مخالفین کے بکھیڑوں سے لیکر تھانہ پٹوار میں شنوائی نہ ہونے تک، جہاں بات نہ بنے جوتا نکال اور سامنے والے پر اچھال۔ نفرت کا اظہار بھی ہوجائے گا، دل کی بھڑاس بھی نکل جائے گی اور مخاطب بے چارے کی عزت کا بھی جنازہ نکل جائے گا، نشانہ اگر کوئی بڑی شخصیت ہو تو کیا ہی کہنے، راتوں رات کیا منٹوں گھنٹوں میں جوتا باز ’’سیلیبریٹی‘‘ بھی بن جائے گا۔

ویسے تو جوتا گردی کی ریت برسوں پرانی ہے مگر سیاست کی ماڈرن تاریخ میں اس کی ابتداء 10 برس قبل 2008ء میں اس وقت ہوئی جب عراقی صحافی منتظر الزیدی نے بغداد میں ایک کانفرنس کے دوران اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی خاطر تواضع ’’دس نمبری‘‘ جوتے سے کی، اس عمل سے اس کی پھینٹی تو بہت لگی مگر عالم اسلام کے ہیرو کے طور پر ضرور ابھرے، یہاں تک کہ ایک سعودی شہری نے اس کے متبرک جوتے کو خریدنے کیلئے ایک کروڑ ڈالر کی پیشکش بھی کردی۔

اس کے بعد تو جیسے یہ دنیا بھر میں ٹرینڈ بن گیا اور آج تک اگر سینکڑوں نہیں تو درجنوں بڑے بڑے نامی گرامی لیڈران جوتا گردی کا شکار ہوچکے، سرحدوں اور ملکوں سے آزاد جوتا گردی کا یہ سلسلہ جہاں بھی پہنچا، تاریخ بن گیا۔

چین کے سابق وزیراعظم وین جیا باؤ، برطانوی سابق وزیراعظم ٹونی بلئیر، ترک صدر رجب طیب اردوان، سابق یونانی صدر جارج پائنڈو، سابق آسٹریلوی صدر جان ہاورڈ، پاکستانی سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری، سوڈانی سابق وزیراعظم عمر البشیر اور سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سمیت کافی بڑے بڑے رہنماؤں کو یہ مالا پہنائی گئی، مگر ہمارے مشرقی ہمسائے بھارت میں اس کا استعمال کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے، کانگریس کے کرتا دھرتا راہول گاندھی، سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور اروند کجریوال کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوچکا ہے، اروند کجریوال کو صرف جوتا ہی نہیں تھپڑ بھی پڑا، سیاہی اور موبل آئل کے داغ بھی لگے ہیں۔

بش سے شروع ہونیوالی یہ منحوس روایت آج کل پاکستان میں بھی جاری و ساری ہے، گزشتہ دنوں خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی، نواز شریف کو جوتے سے نوازا گیا، احسن اقبال بال بال بچے جبکہ عمران خان بھی دو بار یہ ایوارڈ حاصل کرتے کرتے رہ گئے۔ ویسے مجھے قطعی طور پر اس سے کوئی سروکار نہیں کہ جوتا کس کو پڑا اور کیوں پڑا؟، اچھی کارکردگی پر حکمران عوام کی جان بن سکتے ہیں تو بری کارکردگی پر ان کے زیرعتاب بھی آسکتے ہیں۔

مگر حالیہ جس ایشو کو بنیاد بنا کر حکمران جماعت کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ اس لئے قابل مذمت ہے کہ اگر یہ سلسلہ ایسے چلتا رہا تو معاملہ معمولی عناد سے خونی فساد تک پہنچ جائے گا، اس واردات کے ذریعے اگر کوئی ہیرو بننا چاہتا ہے تو ان کیلئے عرض ہے کہ جس طرح ہر پھول کی قسمت میں لیلیٰ کی ریشمی زلفیں نہیں، اسی طرح ہر جوتے کی قیمت بھی لاکھوں نہیں ہوسکتی، البتہ ہڈیاں پسلیاں ایک ہوسکتی ہیں۔

کچھ جغادریوں کو تو اس میں سازش بھی نظرآرہی ہے اور وہ اس کے پیچھے محرکات تلاش کرنے لگے ہیں، ایک آدھ فیس بکی دانشور نے تو جوتوں کا یہ معاملہ بوٹوں والوں پر ڈال دیا، چلیں اور کچھ فائدہ ہو نہ ہو جوتا نوازی سے ہمارے رہنماؤں میں اخلاقیات کی چنگاری بھڑک اٹھی ہے، ٹاک شوز میں ایک دوسرے پر جھپٹنے والے اور ایک دوسرے کو تضحیک آمیز ناموں سے یاد کرنیوالوں کو معاشرے میں عدم برداشت اور رواداری کا خیال تو آگیا۔

اب چونکہ جمہوری سرکار کے 5 سال پورے ہونیوالے ہیں تو سب کے دلوں میں ایک نامعلوم ڈر انگڑائی لے رہا ہے کہ عوام سے دوبارہ ووٹ مانگتے وقت کہیں کوئی سر پھرا جوتا کلب کیلئے مفت میں ٹکٹ نہ کٹوائے، انہیں بھی علم ہے کہ 2018ء کے عوام باشعور ہوچکے ہیں، ان سے کئے گئے وعدے پورے نہ کئے تو جوتے کیا، تھپڑ جڑ سکتے ہیں، انڈے پڑ سکتے ہیں۔

جوتے کا یہ معاملہ چونکہ پگڑی (عزت) کےساتھ جڑا ہے اس لئے ہمارا مشورہ ہے کہ کسی بھی جلسے جلوس یا کانفرنس میں جانا اس سے مشروط کردیں کہ وہاں شرکاء ننگے پاؤں آئیں گے یا پھر ہال کے دروازے پر جوتے اتروائے جائیں گے، مسجد میں بھی بیٹھک لگانا مفید ثابت ہوسکتا ہے، فوج اور عوام نے قربانیاں دیکر دہشت گردی پر قابو پایا ہے مگر جوتا گردی کو کنٹرول کرنا سیاسی جماعتوں کی اپنی ذمہ داری ہے کیونکہ حالات کے مارے اور قسمت کے دھتکارے اپنے حق کیلئے جوتا کہیں بھی اور کسی بھی وقت اٹھا سکتے ہیں۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube