پی ایس ایل؛پاکستان اور پاکستانیوں کی امید

March 13, 2018

پاکستان سپر لیگ خاص وعام میں یکساں مقبول ہونے والا موضوع ہے۔ اس تقریب کی بڑھتی مقبولیت نے کرکٹ کے شائقین کو اپنی جانب نہ صرف متوجہ کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا مثبت عکس مرتب کیا۔ ہماری عوام حالات کی اونچ نیچ سے بخوبی واقف ہے۔تاہم پاکستان پچھلے چند عشروں سے دہشتگردی سے مقابلے میں برسرِپیکار ہے جو کہ پاکستان کی کمزور معیشت پر بھاری ٹیکس کی طرح عائد ہے۔ پی ایس ایل کے شروع ہونے سے 2009 میں ہونے والے سری لنکن ٹیم پر حملے کی بدنامی کسی حد تک کم بھی ہوئی اور یہی چیز پاکستانی کرکٹ کو پنپنے کے لیے درکار تھی۔

پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ اپنے کھلاڑیوں کو کم معاوضہ دیتے ہیں۔ 2016 میں ہونے والے ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کو فی میچ 100 پاؤنڈ دیا گیا۔ اس کے مقابل پی ایس ایل میں کم تر معاوضہ 10000 ڈالر مقرر کیا گیا۔ کچھ ابھرتے ہوئےکھلاڑیوں کو دس لاکھ روپے بھی دیے گئے۔ پلاٹینم کیٹگری: ان کھلاڑیوں کو کم از کم ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے دیے گئے۔ ڈائمنڈ کیٹگری: اس کیٹگری میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو کم از کم 70 لاکھ روپے دیے گئے۔ گولڈ کیٹگری: ان کھلاڑیوں کو 50 لاکھ روپے کی رقم دی گئی۔ سلور کیٹگری: کم از کم بائیس لاکھ کی رقم ان کھلاڑیوں کو دی گئی۔

 مالی پہلو اس کھیل میں نئے کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ بخش ثابت ہوا ہے۔ اس کھیل میں جگہ بنانے کے لیے نئے کھلاڑیوں کو محنت کرنا پڑتی ہے۔ پی ایس ایل نے کھلاڑیوں کا میرٹ بھی بلند کردیا ہے۔ پی ایس ایل میں شامل بہت سے کھلاڑیوں کا پسِ منظر پسماندہ علاقوں سے ہے۔ اس ٹورنامنٹ سے حاصل ہونے والی رقم سے نہ صرف کھلاڑی اپنا کھیلوں کا سامان بلکہ ماہرِ غذائیت کی سہولت بھی حاصل کرسکیں گے۔ یہ سہولیات کوئی کھلاڑی محض 100 پاؤنڈ میں حاصل نہیں کرسکتا۔

پی ایس ایل کا سب سے بڑا فائدہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کے تجربے سے فائدہ اٹھاناہے۔ عظیم کھلاڑیوں شین واٹسن، کیون پیٹرسن، برینڈن میکلم ، ایوین مورگن، ڈیوائن براوو اور کمار سنگاکارا کے مدِمقابل کھیلنا ہی ایک سنسنی خیز احساس ہے۔ کھلاڑیوں کا ناقابلِ شکست کھلاڑیوں کے مدِمقابل کھیلنا ان کے تجربے کا باعث ہے۔

پی ایس ایل کھلاڑیوں کو دلکش معاوضہ دیتا ہے اور کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کے میچز کھیلا کر ان کو آنے والے ٹورنامنٹس کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔ ان سنسنی خیز میچز کی وجہ سے کھیل اور کھلاڑیوں کے معیار میں اضافہ ہوتا ہے۔

پی ایس ایل کی بدولت کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ وہ اپنے سیلکڑزکی امیدوں پر بھرپور اترے اور ایک سنسنی خیز کھیل کاموجب بنے۔ یہ لیگ نہ صرف نئے ہنرمند کھلاڑیوں کے نکھار کی وجہ بنی بلکہ اس کے کھلاڑیوں کو ایک پہچان بھی دلائی جیسےانڈین پرئمیر لیگ نے ورات کوہلی اور روہت شرما کو پہچان دی۔ وہ دونوں مقابلے کے کھلاڑی تھے تاہم آئی پی ایل نے شہرت سے انہیں نوازا۔  شاداب خان، فخر زمان رومان رئیس جیسے باصلاحیت کھلاڑی اس لیگ سے ہی دریافت ہوئے۔

ماہرِ معیشت کے مطابق اس ٹورنامنٹ نے کھلاڑیوں کو ایک پہچان دینے کے علاوہ ملک کی گرتی معیشت کو بھی سنبھالا ہے جو کہ پاکستان میں سیاحوں کی آمد کی وجہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق اربوں روپے کی تجارت ہوئی جس کی وجہ سے حکومت نے بھی کروڑوں کمائے۔ پاکستان کا ایک مثبت عکس پوری دنیا میں اجاگر ہوا جس کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایا کاری کا ملک میں اضافہ ہوا۔ کرکٹ کے شائقین کی توجہ یہاں مرکوز ہونے سے ہوٹلز ، ایئرلائنز ، ٹیکسٹائل کی صنعت میں اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق یہ سیاحتی کھیل کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اس طرح کے مواقع ملک و ثقافت کے فروغ کی وجہ ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پی ایس ایل مختلف لوگوں اور مواقع کی وجہ ہے۔ جو لوگ پی ایس ایل کی ناکامی کے لیے پر امید تھے وہی اب خاموش ہیں۔

ایک عام پاکستانی کرکٹ کے شوقین کے لیے پی ایس ایل کی اس قدر پذیرائی ایک فخر کی وجہ ہے۔ بگ بیش لیگ، آئی پی ایل اور اس طرح کی دوسرے ٹورنامنٹس شروع سے کرکٹ کے شائقین کی تفریح کی وجہ رہی۔  پی ایس ایل ہی وہ موقع ہے جو گرتی ہوئی قومی کرکٹ کے سنبھلنے کی وجہ ہے۔ پی ایس ایل پی سی بی اور نجم سیٹھی کی جانب سے پاکستان کو بہترین تحفہ ہے۔