سیاہی اور جوتے کی منفی سیاست

Umair Solangi
March 12, 2018

  

۔۔۔۔۔**  تحریر: عمیر سولنگی  **۔۔۔۔۔

جوں جوں وقت گزر رہا ہے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اب سیاسی اختلاف کرنیوالے کو دشمن سمجھا جاتا ہے، سیاسی اختلافات کو نفرت اور دشمنی میں بدلنے والا رویہ ملک و قوم کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا، سیالکوٹ میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف پر سیاہی پھینکے کا واقعہ ہو یا لاہور میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جوتا مارنا، دونوں واقعات قابل افسوس اور قابل مذمت ہیں، اس طرح کے شرمناک عمل سے کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری سیاسی برادری کا نقصان ہورہا ہے۔

زیادہ پرانی بات نہیں جب بھارت میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران بھارتی سیاستدان، سماجی کارکن اور معروف کالم نگار سدھیندھرا کلکرنی پر شیو سینا کے انتہاء پسندوں نے سیاہی پھینکی تھی، سدھیندھرا کلکرنی کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک پاکستانی کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کا جرم یہ تھا کہ وہ امن کی بات کر رہے تھے اور دونوں ملکوں کے عوام کے قریب لانے کی کوشش کررہے تھے، سدھیندھرا کلکرنی کا شمار ان چند بھارتی سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، (پچھلے برس کراچی لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کیلئے ممبئی سے کراچی آئے تو ان سے ملاقات کا موقع ملا)، یہی وجہ ہے کہ میں ان سے بیحد متاثر ہوں۔

سیالکوٹ میں پاکستان کے موجودہ وزیر خارجہ خواجہ آصف پر ایک شخص نے سیاہی پھینکی تو مجھے سدھیندھرا کلکرنی کے الفاظ یاد آگئے جو انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر ادا کئے تھے، انہوں نے کہا یہ مجھ پر نہیں جمہوریت پر حملہ ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف سے مجھے بھی بے شمار سیاسی اختلافات ہیں مگر ان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے اور اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس واقعے میں ایک اسلامی انتہاء پسند ملوث تھا، اگر ہم سدھیندھرا کلکرنی پر سیاہی پھینکنے والے ہندو انتہاء پسند کی مذمت کرتے ہیں تو ہمیں نواز شریف کو جوتا مارنے والے انتہاء پسند کی بھی مذمت کرنی چاہئے، ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کو قانون کے تحت کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے کیونکہ ایسے لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خواجہ آصف پر سیاہی اور نواز شریف پر جوتا پھینکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ان واقعات میں تحریک انصاف کا کوئی کارکن ملوث نہیں، خان صاحب آپ نے درست کہا کہ اس واقعے میں تحریک انصاف کا کوئی کارکن ملوث نہیں مگر آپ کی پارٹی کے بہت سے اہم رہنماؤں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اور کچھ نے کھل کر ان واقعات کی حمایت کی۔ عمران خان نے ان واقعات کے بعد خود ایک تقریر میں کہا کہ میں رانا ثناء اللہ کو مونچھوں سے گھسیٹ کر جیل میں ڈالوں گا، کسی بھی قومی لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے مخالفین کیلئے اس طرح کے الفاظ استعمال کرے، جب قومی لیڈر اس طرح کے بیانات دیتے ہیں تو کارکنان کے جذبات تو بھڑک ہی جاتے ہیں۔ قومی لیڈروں کو الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتنی چاہئے اور سیاسی کارکنان کو بھی اپنے سیاسی مخالف کی عزت و احترام کرنا چاہئے۔

سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کو اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کے بجائے منفی سیاست کو ترک کرنا ہوگا، ورنہ جوتا تو ہر سیاسی کارکن پہنتا ہے، خدانخواستہ یہ رواج عام ہوگیا تو کوئی بھی سیاسی لیڈر جوتے سے بچ نہیں پائے گا اور سب کے چہروں پر سیاہی ہوگی، عام انتخابات قریب ہیں، اگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان یا عام عوام کسی پارٹی یا کسی پارٹی کے رہنماء سے نفرت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی حرکت کے بجائے جمہوری رویہ اپنائیں اور سیاہی کا غلط استعمال کرنے کے بجائے درست استعمال کریں اور ووٹ کا حق استعمال کرکے غلط لوگوں کو مسترد کریں۔