پیپلزپارٹی،ن لیگ اورعدالت عظمیٰ

Samaa Web Desk
March 12, 2018

تحریر: اسراراحمد

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری اپنے دورکے دبنگ چیف جسٹس تھے۔ افتخارمحمد چوہدری کے سامنے بڑے بڑے سیاستدان مٹی کا ڈھیر ثابت ہوئے۔ افتخار محمد چوہدری نے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سمیت بہت سے اہم کیسز پر تاریخی فیصلے دیے۔ پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی پرملک گیر احتجاج کیا، ٹائر جلا کر سڑکوں کو بند کیا، کراچی میں چند گاڑیاں بھی جلائی گئیں۔ اگر یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا موازنہ کیا جائے تو میرے نزدیک پیپلز پارٹی نے عدلیہ کے خلاف زیادہ سخت موقف اپنایا۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف جو منفی اورزہریلا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے یہی سب کچھ پیپلز پارٹی اپنے دوراقتدار میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف کرتی رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں پیپلز پارٹی عدلیہ کا احترام کرتی ہے جبکہ یہ بالکل بھی سچ نہیں۔ ہاں البتہ یہ ضرور کہاجاسکتا ہے کہ دونوں جماعتیں عدلیہ پر تنقید اورالزام تراشیاں کرتی رہی ہیں اور اگر آپ ماضی کو یاد کریں تو آپ میری اس بات کی تائید کریں گے۔

پیپلزپارٹی کے ہی ایک سینیٹر سید فیصل رضا عابدی نے زرداری دور میں اپنے سیاسی قائد آصف زرداری کو خوش کرنے کے لئے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی اور بہتان تراشی کی اس کا ایک فیصد بھی طلال چوہدری یا دانیال عزیز کہہ دیں تو شاید وہ سلاخوں کے پیچھے ہو۔ فیصل رضا عابدی نے حال ہی میں کوئٹہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف بھی تقریر کی ہے۔ فیصل رضا عابدی نے تقریر میں چیف جسٹس کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ نا تو الیکٹرونک میڈیا نشر کر سکتا ہے اور نا کوئی پرنٹ میڈیا اسے شائع کر سکتا ہے البتہ سوشل میڈیا پر وہ تقریر موجود ہے۔

مجھے لگتا تھا صرف سابق وزیراعظم نواز شریف، صاحبزادی مریم نواز اور ان کے لاڈلے اراکین ہی عدلیہ اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف زہریلی تقاریر کر رہے ہیں لیکن فیصل رضا عابدی کی تقریر سننے کے بعد مجھے ایسا لگا کہ نواز شریف، مریم نواز اور نواز لیگ کے دیگر رہنما جو تقاریر کر رہے ہیں وہ فیصل رضا عابدی کی تقریر کا ایک فیصد حصہ بھی نہیں۔ تقریر سننے کے بعد میں حیران بھی ہوں کہ فیصل رضا عابدی کو اب تک توہین عدالت کا نوٹس کیوں نہیں ملا۔

فیصل رضا عابدی جب سابق صدر آصف علی زرداری کے ایڈوائزر تھے اور پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر تھے تب بھی وہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف شعلہ بیانی کرتے تھے۔ شاید یہ پیپلز پارٹی کی پالیسی تھی کہ ایک طرف کہا جاتا تھا کہ پیپلز پارٹی سپریم کورٹ اور عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے جبکہ دوسری طرف فیصل رضا عابدی پیپلز پارٹی کے اعلی ترین عہدے پر بیٹھ کر عدالتوں کے خلاف بیان بازی کرتے تھے۔

طلال چوہدری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی آج مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے لئے وہی کچھ کر رہے ہیں جو فیصل رضا عابدی نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے لئے کیا تھا۔ فیصل رضا عابدی کو پیپلز پارٹی نے عدلیہ کے خلاف استعمال کیا اور پھر ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ آج فیصل رضا عابدی کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر سید فیصل رضا عابدی سے سبق سیکھنا چاہئے اور شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کے بجائے اپنی جماعت کے قائد نواز شریف کو سمجھانا چاہئے کہ اداروں سے محاذ آرائی اچھی بات نہیں اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔

امید ہے نواز لیگ، پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں کے رہنما عدلیہ کا احترام کریں گے اور محاذ آرائی سے گریز کریں گے۔