شمالی کوریااورامریکہ امن کی شاہراہ پر

March 10, 2018

امریکہ اور شمالی کوریا کے عوام کے ساتھ دنیا بھر کے امن پسندوں کے لیے جمعرات کی خوش گوار شام اس وقت مزید خوش گوار ہو گئی جب جنوبی کوریا کی سلامتی کے ایک مشیر نے وائٹ ہاؤس کے باہر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ شمالی کوریا نے امریکہ سے مذاکرات کی پیشکش کی ہے ۔ 1945 ء میں کوریا کے دوٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد اس کاشمالی حصہ فکری طور پر بائیں بازو کے ساتھ جڑے ملک روس اورجنوبی حصہ امریکا کے زیر اثر آگیا جس کے بعد کئی دیگر ممالک کی طرح دونوں ممالک کے عوام ایک جیسی ثقافت ، رنگ اور نسل رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔

سرحد کی لکیر کھینچ کر ایک قوم کو آمنے سامنے لانے کے اس عمل نے پانچ سال کے بعد ہونے والی جنگ کے بعد اس دوری میں مزید اضافہ کیا جو اب تک قائم ہے ۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ اور روس کے مفادات کی وجہ سے بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکے اور ان کی دوریاں مسلسل بڑھتی چلی گئیں۔ پچھلی صدی کی آخری دہائی میں شمالی کوریا نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی ) سے باہر آنے کا اعلان کیا تو اقوام متحدہ نے اس پر پابندیوں کا اعلان کر دیا ، مگرچند ماہ کے بعد وہ دوبارہ اس معاہدے کا حصہ بن گیا۔ اس کے ایک ہی سال بعد کم ال سنگ کی موت واقع ہوئی اور ان کے بیٹے کم جونگ نے اقتدار سنبھالاتو امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات میں بہتری کے کچھ آثار نمایاں ہوئے ۔ اس زمانے میں شمالی کوریا نے میزائل کے تجربات ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور امریکہ نے بھی شمالی کوریا پر لگائی گئی سفری پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا۔

پچھلی ایک دہائی کے دوران شمالی کوریا اور امریکہ کے تعلقات میں اس وقت پھر تلخی پیدا ہوئی جب شمالی کوریا کی طرف سے دور مار میزائلوں کے کئی تجربات کیے گئے اور کم جونگ نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا بٹن ان کی میز پر نصب ہے۔ اس اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی اس سے ملتے جلتے کئی دھمکی آمیز بیانات سامنے آئے تو دنیا کے دوسرے ممالک کے علاوہ بڑی طاقتوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔

حالات اس وقت زیادہ خراب ہوئے جب پچھلے سال شمالی کوریا نے ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقتور ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا۔ شمالی کوریا اس سے قبل بھی ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے باوجود ایک جوہری تجربہ کر چکا تھا جس پر اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ ان پابندیوں کے فورا بعد شمالی کوریا نے میزائل کا ایک اور تجربہ کیا جو سینتیس سو کلو میٹر کا سفر طے کرتا ہواجاپان کے اوپر سے گزرگیا ۔ نئی صورت حال میں جہاں امریکہ کی طرف سے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے اشارے ملے ہیں وہاں اس نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ روس شمالی کوریا کی مدد کر رہا ہے اور ملائیشا میں زہریلی گیس سے قتل ہونے والے کم جونگ کی موت کا ذمہ دار بھی شمالی کوریا ہے۔

جنوبی کوریا کی سلامتی کے مشیر کے اس بیان پر کہ شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کی ہے امریکہ کی طرف سے بھی مذاکرات کے مثبت اشارے ملے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مئی کے مہینے میں شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کر سکتے ہیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ امن کی اس بڑھتی ہوئی فضا کے دوران امریکہ نے ان مذاکرات سے ایک ماہ قبل جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر فوجی مشقوں کا بھی اعلان کیا ہے جس کا مقصد شاید شمالی کوریاکو دباؤ میں رکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

حالات کچھ بھی ہوں مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورت حال ، افغانستان اور شام کے بگڑتے ہوئے حالات اور بڑی طاقتوں میں کشیدگی کے دور میں اگر امریکہ اور شمالی کوریا بات چیت کا عمل شروع کرتے ہیں تو یہ دنیا بھر کے امن پسندوں کی جیت ہو گی۔