پاکستانی پاسپورٹ کی دنیا میں اہمیت اور درجہ بندی

Samaa Web Desk
March 9, 2018

۔۔۔۔۔**  تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور  **۔۔۔۔۔

پاکستان میں محکمہ داخلہ کے ذیلی ادارے پاسپورٹ جاری کرتے ہیں، جس کا مقصد شہری کی بین الاقوامی سفر پر روانگی ہوتی ہے، چاہے وہ حج و عمرہ ہو، سیر و سیاحت یا پھر ملازمت کیلئے کسی ملک کا سفر، ہر شہری کو پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے، اس کے بغیر نہ ہی ویزہ مل سکتا ہے اور نہ ہی ٹکٹ لی جاسکتی ہے، ہر ملک کے پاسپورٹ کی طاقت دوسرے ملک کے پاسپورٹ کی نسبت کم یا زیادہ ہے، مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے پاسپورٹ کو ابھی تک وہ عزت، مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہوا جو کسی بھی دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے پاسپورٹ کو حاصل ہے۔

ہمارے ہاں 3 قسم کے پاسپورٹ جاری کئے جاتے ہیں، پہلے نمبر پر سرخ رنگ کا سفارتی پاسپورٹ جو سفارتکاروں یا پھر سفارت خانے سے متعلق افراد کیلئے ہوتا ہے، اس کے علاوہ صدر پاکستان، وزیر اعظم، صوبائی وزراء، اسپیکر قومی اسمبلی، چیف جسٹس، آرمی چیف وغیرہ کو بھی جاری کیا جاتا ہے۔ دوسرے نمبر پر نیلے رنگ کا آفیشل پاسپورٹ ہے جو کہ اراکین سینٹ، صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین، سابق وزراء، چیف الیکشن کمشنر، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز، تینوں فورسز کے سابقہ چیف کیلئے ہوتا ہے، تیسرے نمبر پر عام پاسپورٹ جسے ہم گرین پاسپورٹ بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ یہ سبز رنگ میں ہوتا ہے، یہ عام شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ آج ہم اسی پاسپورٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے، پہلے حج و عمرہ کیئلے مخصوص پاسپورٹ بنتا تھا لیکن اب گرین پاسپورٹ کو حج و عمرہ کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

عام پاسپورٹ کے 36 صحفات ہوتے ہیں لیکن اسے آپ 72 سے 100 صحفات تک بڑھا سکتے ہیں، ہمارے ہاں پاسپورٹ اب بائیو میٹرک طریقے سے بنائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی نقل کرنا ذرا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ اب تصویر بھی ڈیجیٹل ہوتی ہے، جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا یا جسے تبدیل کرنا کافی مشکل کام ہے، ورنہ اس سے پہلے پاسپورٹ کو پی سی کیا جاسکتا تھا، اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئی انہیں ڈیجیٹل کردیا گیا ہے، اب پی سی پاسپورٹ بنانا تقریباً ناممکن کام ہے، پاسپورٹ بنانے والے کا تمام ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کیا جاتا ہے اور جب ضرورت پڑے ایک کلک پر دیکھا جا سکتا ہے، پاکستانی پاسپورٹ پر یہ الفاظ واضح کندہ ہوتے ہیں کہ "یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کیلئے کارآمد ہے"، کسی زمانے میں پاسپورٹ بنانا جوئے شیر لانے کے برابر تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دیکھا جائے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی دنیا میں عزت کیا ہے؟َ، کیوں ابھی تک ہمارے پاسپورٹ کو وہ اہمیت نہیں ملی جو دنیا کے دوسرے ممالک کو حاصل ہے، گرین پاسپورٹ کے ساتھ شہری کو بھی ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے، یہ حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ کی اہمیت کو اجاگر کریں لیکن اس کیلئے پہلے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے، کشکول کو توڑنے کی ضرورت ہے، ملک کو دنیا کے بہترین اور ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ایسا نہیں ہوگا ہمیں اور ہمارے پاسپورٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

پاکستانی پاسپورٹ 30 ممالک میں بغیر ویزہ کے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ ایسے ممالک ہیں کہ جمیں سے اکثر کا آپ نے نام بھی نہیں سنا ہوگا اور یہ زیادہ تر براعظم افریقا سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں جبوتی، پلاؤ، کمبوڈیا، ڈومینیکا، گنی بساؤ، موریطانیہ، موزمبیق، نیپال اور یوگنڈا وغیرہ شامل ہیں۔ اب ان ممالک میں کم ہی پاکستانی جاتے ہیں، ہونا تو یہ چاہئے کہ دنیا کے بڑے بڑے ممالک بھی پاکستانی پاسپورٹ کی عزت کریں، ہر ملک کے پاسپورٹ کی درجہ بندی اس کے اسکور کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھی جاسکتی ہے۔

دنیا میں سب سے کم درجے پر افغانستان کا پاسپورٹ ہے اور اس کے بعد پاکستانی پاسپورٹ کا نمبر تھا لیکن ابھی حال ہی نئی عالمی درجہ بندی کے باعث ہمارا پاسپورٹ 2 قدم اوپر آگیا ہے یعنی کہ اب ہم نیچے سے چوتھے نمبر پر آگئے ہیں، کم ترین درجہ میں پہلے نمبر پر افغانستان، دوسرے پر عراق، تیسرے پر شام اور چوتھے پر پاکستان ہے جبکہ کافی عرصہ پاکستان کا نیچے سے دوسرا نمبر رہا ہے۔ سب سے زیادہ اسکور والے ممالک میں جاپان اور سنگاپور ہیں جن کا اسکور 180 ہیں، اس کے بعد دوسرے نمبر پر جرمنی 179، تیسرے نمبر پر ڈنمارک، فن لینڈ، اٹلی، اسپین اور ساؤتھ کوریا شامل ہیں جبکہ چوتھے نمبر پر ناروے، برطانیہ، اسٹریلیا، ہالینڈ اور پرتگال شامل ہیں کینیڈا، آئر لینڈ اور سوئٹزز لینڈ پانچویں نمبر پر ہیں، بھارت 81 اور بنگلہ دیش 97 نمبر پر ہے، اس کے علاوہ سعودی عرب کا 70 اور متحدہ عرب امارات کا 27 واں نمبر ہے۔

یہ درجہ بندی ایسے کی جاتی ہے کہ آپ کے پاسپورٹ پر کتنے ممالک فری ویزہ مہیا کر رہے ہیں، اسی کو مد نظر رکھ کر اسکورنگ کی جاتی ہے، جاپان کا اس وقت 180ممالک میں ویزہ فری ہے اور اس کے مقابلے میں پاکستان کو صرف 30 ممالک ہی ویزہ فری دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی درجہ بندی میں 102 نمبر ہے، جب تک ملک ترقی نہیں کرے گا جب تک ملک کی مجموعی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوگا، جب تک ہمارا روپیہ مستحکم نہیں ہوگا، اس وقت تک ہمارے پاسپورٹ کی اہمیت دنیا میں کم سے کم درجے پر ہی رہے گی۔ اللہ کرے کہ وہ دن جلد آئے جب پاکستانی پاسپورٹ پر ہم تمام ممالک کا ویزہ فری سفر کرسکیں، انشاء اللہ وہ دن دور نہیں ہے جب ہمارے پاسپورٹ کو بھی وہی عزت اور مقام حاصل ہوگا جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے شہری کو حاصل ہے۔